دوسرا مبحث سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے خصوصی فضائل - دفاعِ…

دوسرا مبحث سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے خصوصی فضائل

  علی محمد الصلابی

صفحہ 5 از 7

أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ صلي اللّٰه عليه وسلم کَانَ یَسْأَلُ فِی مَرَضِہِ الَّذِی مَاتَ فِیہِ یَقُولُ أَیْنَ أَنَا غَدًا أَیْنَ أَنَا غَدًا یُرِیدُ یَوْمَ عَائِشَۃَ فَأَذِنَ لَہُ أَزْوَاجُہُ یَکُونُ حَیْثُ شَائَ فَکَانَ فِی بَیْتِ عَائِشَۃَ حَتَّی مَاتَ عِنْدَہَا۔

ترجمہ: ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی مرض الموت میں پوچھتے رہتے تھے میں کل کہاں ہوں گا؟ میں کل کہاں ہوں گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی باری چاہتے تھے۔ چنانچہ آپﷺ کی بیویوں نے آپﷺ کو اجازت دے دی کہ جہاں آپﷺ چاہیں رہیں تو آپﷺ اس دن سے اپنی وفات تک سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں رہے۔‘‘

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:

قَالَتْ عَائِشَۃُ فَمَاتَ فِی الْیَوْمِ الَّذِی کَانَ یَدُوْرُ عَلَیَّ فِیْہِ فِیْ بَیْتِی فَقَبَضَہُ اللّٰہُ وَإِنَّ رَأْسَہُ لَبَیْنَ نَحْرِیْ وَسَحْرِیْ وَخَالَطَ رِیقُہُ رِیقِی۔

ترجمہ: ’’آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات میری باری والے دن میں ہوئی، میرے گھر میں ہوئی، جب اللہ تعالیٰ نے آپ کی روح قبض کی تو آپ کا سر مبارک میرے سینے اور میرے حلقوم کے درمیان تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا لعاب مبارک میرے لعاب سے مل گیا۔‘‘

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا مزید فرماتی ہیں:

دَخَلَ عَبْدُالرَّحْمَنِ بْنُ أَبِی بَکْرٍ وَمَعَہُ سِوَاکٌ یَسْتَنُّ بِہِ فَنَظَرَ إِلَیْہِ رَسُولُ اللّٰہِ صلي اللّٰه عليه وسلم فَقُلْتُ لَہُ أَعْطِنِی ہَذَا السِّوَاکَ یَا عَبْدَالرَّحْمَنِ فَأَعْطَانِیہِ فَقَضِمْتُہُ ثُمَّ مَضَغْتُہُ فَأَعْطَیْتُہُ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَاسْتَنَّ بِہِ وَہُوَ مُسْتَنِدٌ إِلَی صَدْرِیْ۔

(تخریج پیچھے گزر چکی ہے۔)

’’میرے بھائی سیدنا عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہما میرے گھر میں آئے تو ان کے پاس مسواک تھی جو وہ کر رہے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی طرف دیکھنے لگے۔ میں نے عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ سے کہا: یہ مسواک تم مجھے دے دو تو انھوں نے مجھے دے دی۔ میں نے اسے اپنے دانتوں سے چبا کر نرم کیا۔ تب میں نے وہ مسواک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دی تو آپﷺ نے مسواک کی۔ اس حال میں کہ آپﷺ میرے سینے کے ساتھ ٹیک لگائے ہوئے تھے۔‘‘

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہماری امی جان، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا سلوک نہایت شائستہ، جذبہ خدمت سے سرشار اور فدویانہ و محبوبانہ تھا۔ حتیٰ کہ جب مرض نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے جسد اطہر پر غالب آ گیا اور آپ کی روانگی کے اشارے ملنے لگے تو آپﷺ کی توجہ اس سایے کی طرف مبذول ہو گئی جس سے آپﷺ مانوس تھے اور آپﷺ اس کے پاس راحت حاصل کرتے تھے وہ سایہ ہماری امی جان سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے رہتے: ’’میں کل کہاں جاؤں گا۔ میں کل کہاں جاؤں گا؟‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی باری کے انتظار میں ہوتے اور جب ان کی باری والا دن آتا تو آپ پرسکون ہو جاتے اور آپﷺ کا قلبی خلجان ختم ہو جاتا۔ یّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ کیفیت بیان کرتے ہوئے فرماتی ہیں:

’’پس جب میرا دن آتا تو آپ پر سکون ہو جاتے۔‘‘

(صحیح بخاری: حدیث نمبر 1389۔ صحیح مسلم: حدیث نمبر: 2443)

ہم نے یہ بات بارہا تحریر کر دی ہے کہ تمام امہات المؤمنین تقویٰ، زہد، عالی مرتبت، شرافت نفس اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بطور خاوند حسن سلوک میں ایک ہی منہج پر گامزن تھیں۔ اس سب کے باوجود نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان اقدس سے اس سوال کا بارہا تکرار کہ میں کل کہاں جاؤں گا؟ ہماری امی جان سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے دن کے لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے والہانہ شوق کو ظاہر کرتا ہے۔ جو اس بات کی دلیل ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا میں دیگر امہات المؤمنین کی نسبت کچھ منفرد خصوصیات تھیں اور جنت میں بھی مختلف و متعدد درجات و منازل ہیں اگرچہ سب پر جنت کا ہی اطلاق ہوتا ہے اور انہی ایام میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو نماز کی امامت کے لیے حکم دیا۔

(صحیح بخاری: حدیث نمبر: 664۔ صحیح مسلم: حدیث نمبر: 418)

یہ اس مبارک گھر پر فضل عظیم ہے۔ 

اس کے بارے میں ایک فقیہ امت، عالم ربانی ابو الوفاء بن عقیل (علی بن عقیل بن محمد ابو الوفاء بغدادی علامہ کبیر شیخ الحنابلہ ہیں۔ 431 ہجری میں پیدا ہوئے۔ قاری قرآن، فقہ و اصول فقہ کے ماہر اور اپنے وقت کے بہت بڑے عالم تھے۔ ان کی تصنیفات میں سے ’’کتاب الفنون‘‘ جو چار سو سے زائد مجلدات پر مشتمل تھی اور ’’الفصول‘‘ مشہور ہیں۔ 513 ہجری میں وفات پائی۔ (طبقات الحنابلۃ لابن رجب: جلد 1 صفحہ 316۔) سیر اعلام النبلاء للذہبی: جلد 19 صفحہ 443۔) درء تعارض العقل مع النقل: جلد 8 صفحہ 60 پر شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے ان کے بارے میں کہا ہے کہ ابن عقیل ذہین و فطین علماء میں سے ایک تھے۔ نے پوری امت مسلمہ کو خصوصی توجہ دلائی ہے، ابو الوفاء رقمطراز ہیں:

’’آپ غور کریں کس طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی مرض الموت میں اس کی بیٹی کا گھر منتخب کیا جس کے باپ کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی جگہ نماز کی امامت کا حکم دیا۔ تو یہ دلوں پر جمی ہوئی کیسی غفلت ہے کہ رافضہ کے دل اس فضل و شرف و مرتبے سے ہر زمانے میں غافل رہتے ہیں جو کسی چوپائے سے بھی مخفی نہیں رہ سکتے تو ان زبان درازوں سے کیوں مخفی ہو گئے ہیں۔‘‘

(الاجابۃ لا یراد ما استدرکتہ عائشۃ رضی اللہ عنہا علی الصحابۃ رضی اللّٰہ عنہم للزرکشی: صفحہ 54)

8۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے علاوہ جب کسی اور بیوی کے لحاف میں ہوتے تو آپﷺ پر وحی نازل نہ ہوتی۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

لَا تُؤْذِینِی فِیْ عَائِشَۃَ فَإِنَّہُ وَاللّٰہِ مَا نَزَلَ عَلَیَّ الْوَحْیُ وَأَنَا فِی لِحَافِ امْرَأَۃٍ مِنْکُنَّ غَیْرِہَا۔

صفحہ 5 از 7