دوسرا مبحث سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے خصوصی فضائل - دفاعِ…

دوسرا مبحث سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے خصوصی فضائل

  علی محمد الصلابی

صفحہ 6 از 7

ترجمہ: ’’تم مجھے عائشہ کے متعلق اذیت نہ دو، بے شک اللہ کی قسم! تم میں سے میں جس کسی کے لحاف میں ہوتا ہوں مجھ پر وحی نہیں آتی سوائے عائشہ رضی اللہ عنہا کے۔‘‘

(صحیح بخاری: حدیث نمبر 3775۔ صحیح مسلم: حدیث نمبر 2441)

اور ایک روایت میں ہے:

فَإِنَّ الْوَحْیَ لَمْ یَأْتِنِی وَأَنَا فِی ثَوْبِ امْرَأَۃٍ إِلَّا عَائِشَۃَ۔

(صحیح بخاری: حدیث نمبر 2581۔ صحیح مسلم: حدیث نمبر 2441)۔ 

ترجمہ: ’’بے شک مجھ پر وحی نہیں آتی جب میں کسی بیوی کے کپڑے میں ہوتا ہوں سوائے عائشہ کے۔‘‘

9۔ یہ کہ جبریل علیہ السلام نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف سلام بھیجا سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

یَا عَائِشَ! (اسے عربی قاعدے میں منادیٰ مرخم کہتے ہیں کہ حرف ندا شروع میں آنے کی وجہ سے اسم کا آخری حرف گر جاتا ہے جسے ترخیم بمعنی تنقیص کہتے ہیں۔ شین پر فتحہ اور ضمہ دونوں جائز ہیں۔ (فتح الباری لابن حجر رحمہ اللہ: جلد 7 صفحہ 107) ہَذَا جِبْرِیلُ یُقْرِئُکِ السَّلَامَ فَقُلْتُ وَعَلَیْہِ السَّلَامُ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ وَبَرَکَاتُہُ تَرَی مَا لَا أَرَی تُرِیْدُ رَسُولَ اللّٰہِ صلي اللّٰه عليه وسلم 

(صحیح بخاری: حدیث نمبر: 3768۔ صحیح مسلم: حدیث نمبر: 2447)

ترجمہ: ’’اے عائش! یہ جبریل علیہ السلام ہیں جو تمھیں سلام کہتے ہیں۔‘‘ تو میں نے کہا اور اس پر اللہ تعالیٰ کی سلامتی، رحمت اور برکت ہو، آپ جو کچھ دیکھتے ہیں میں نہیں دیکھتی۔ ان کی مراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تھی۔‘‘

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

’’اس حدیث میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی عظیم منقبت ثابت ہوتی ہے۔‘‘

(فتح الباری لابن حجر رحمہ اللہ: جلد 7 صفحہ 108۔ مولانا ابو الحسن سندی نے کہا: اس حدیث میں یہ اشارہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ خصوصی محبت کا سبب اس کے اللہ تعالیٰ کے ہاں عظیم قدر و منزلت تھی۔ (حاشیہ السسندی علی النسائی: جلد 72 صفحہ 68۔)

امام نووی فرماتے ہیں:

’’اس حدیث میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی واضح فضیلت موجود ہے۔‘‘

(شرح مسلم للنووی: جلد 15 صفحہ 211)

10۔ یہ کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر جب آیت تخییر نازل ہوئی:

يٰۤـاَيُّهَا النَّبِىُّ قُلْ لِّاَزۡوَاجِكَ اِنۡ كُنۡتُنَّ تُرِدۡنَ الۡحَيٰوةَ الدُّنۡيَا وَزِيۡنَتَهَا فَتَعَالَيۡنَ اُمَتِّعۡكُنَّ وَاُسَرِّحۡكُنَّ سَرَاحًا جَمِيۡلًا ۞ وَاِنۡ كُنۡتُنَّ تُرِدۡنَ اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ وَالدَّارَ الۡاٰخِرَةَ فَاِنَّ اللّٰهَ اَعَدَّ لِلۡمُحۡسِنٰتِ مِنۡكُنَّ اَجۡرًا عَظِيۡمًا ۞ (سورۃ الأحزاب آیت 28، 29)

ترجمہ: اے نبی! اپنی بیویوں سے کہو کہ: اگر تم دنیوی زندگی اور اس کی زینت چاہتی ہو تو آؤ، میں تمہیں کچھ تحفے دے کر خوبصورتی کے ساتھ رخصت کردوں۔ اور اگر تم اللہ اور اس کے رسول اور عالم آخرت کی طلبگار ہو تو یقین جانو اللہ نے تم میں سے نیک خواتین کے لیے شاندار انعام تیار کر رکھا ہے۔

تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سب سے پہلے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو یہ حکم سنایا اور آپﷺ نے ان کے والدین کی موافقت کی بھی اسے مہلت دی، تو سیدہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے اپنے والدین سے مشورہ کرنے سے پہلے ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اختیار کر لیا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے:

’’جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا گیا کہ وہ اپنی بیویوں کو اختیار دے دیں۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابتدا مجھ سے کی اور فرمایا: ’’میں تمیں ایک کام بتانا چاہتا ہوں تو تم پر کوئی گناہ نہیں اگر تم اپنے والدین سے مشورہ کرنے تک جواب کی جلدی نہ کرو۔ وہ فرماتی ہیں: آپ کو یقیناً علم تھا کہ میرے والدین کبھی مجھے آپ کی جدائی کا مشورہ نہ دیں گے۔ آپﷺ نے پھر فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: یٰٓاَیُّہَا النَّبِیُّ .... عَظِیْمًا۞  (سورة الاحزاب آیت 28، 29) ’’اے نبی! اپنی بیویوں سے کہہ دے اگر تم دنیا کی زندگی اور اس کی زینت کا ارادہ رکھتی ہو تو آؤ میں تمھیں کچھ سامان دے دوں اور تمھیں رخصت کردوں، اچھے طریقے سے رخصت کرنا۔ اور اگر تم اللہ اور اس کے رسول اور آخری گھر کا ارادہ رکھتی ہو تو بے شک اللہ نے تم میں سے نیکی کرنے والیوں کے لیے بہت بڑا اجر تیار کر رکھا ہے۔‘‘

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے کہا: کیا میں اس معاملے میں اپنے والدین سے مشورہ کروں؟ پس بے شک میں اللہ، اس کا رسول اور دار آخرت چاہتی ہوں۔ آپؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ساری بیویوں نے وہی کچھ کیا جو میں نے کیا۔‘‘

(صحیح بخاری: حدیث نمبر: 4786۔ صحیح مسلم' حدیث نمبر 1475۔ نیز اس کی تخریج پیچھے گزر چکی ہے۔ شذی الیاسمین فی فضائل امہات المومنین: صفحہ 31۔ حبیبۃ الحبیب ام المومنین عائشۃ لصالح بن محمد العطار: صفحہ 19)

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

’’اس حدیث میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے لیے عظیم منقبت ہے اور ان کی کمال عقل اور صحت رائے کی دلیل ہے حالانکہ وہ ابھی نو عمر تھیں۔‘‘

(فتح الباری لابن حجر: جلد 8 صفحہ 522)

11۔ دیگر امہات المؤمنینؓ کی نسبت سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے لیے دو دن اور دو راتیں مخصوص تھیں۔ یہ اس وقت سے تھا جب سے سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا نے اپنا دن اور رات سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو ہبہ کر دیے تھے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے:

’’سودہ بنت زمعہ نے اپنا دن سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو ہبہ کر دیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے لیے اس کا اپنا دن اور سودہ کا دن بھی تقسیم میں دیتے تھے۔‘‘

(صحیح بخاری: حدیث نمبر: 5212۔ صحیح مسلم: حدیث نمبر 1463۔) 

صفحہ 6 از 7