دوسرا مبحث سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے خصوصی فضائل - دفاعِ…

دوسرا مبحث سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے خصوصی فضائل

  علی محمد الصلابی

صفحہ 7 از 7

12۔ وہ اس امت کی تمام عورتوں سے بڑی عالمہ و فقیہہ تھیں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اتنی کثرت سے احادیث کسی اور عورت نے روایت نہیں کیں۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا تا حیات فتاویٰ دیتی رہیں۔ اللہ ان پر رحم کرے اور سیدنا عمر و عثمان رضی اللہ عنہما جیسے کبار صحابہ کرامؓ ان کی طرف قاصد بھیج کر مسائل معلوم کرتے تھے۔ ایک روایت میں ہے:

’’اگر اس امت کی تمام عورتوں بشمول ازواج رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا علم جمع کیا جائے تو پھر بھی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا علم افضل ہو گا۔‘‘

(اس کی تخریج گزر چکی ہے۔)

محمود بن لبید رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

’’نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام ازواج مطہرات بیشتر احادیث یاد کرتی تھیں لیکن ان میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہما جیسی کوئی نہیں۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سیدنا عمر و عثمان رضی اللہ عنہما کے عہد سے لے کر تاحیات تعلیم دیتی رہیں اور عمر و عثمان رضی اللہ عنہما جیسے اکابر اصحاب رسولﷺ ان کے پاس اپنے سوالات بھیجتے تھے جو سنن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق ہوتے تھے۔‘‘

(اس کی تخریج گزر چکی ہے۔)

13۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے اگلے پچھلے گناہوں کی مغفرت کی دعا کی۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے:

’’جب میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو خوشگوار حالت میں دیکھا تو میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ میرے لیے اللہ سے دعا کریں۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں دعا کی: ’’اے اللہ! تو عائشہ کے اگلے اور پچھلے گناہ معاف کر دے۔ اور جو اس نے چھپ کر کیے اور جو اس نے اعلانیہ کیے۔‘‘ (یہ دعائیہ کلمات سن کر) عائشہ رضی اللہ عنہا اتنا ہنسیں کہ ان کا سر آپ رضی اللہ عنہا کی گود میں آ لگا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ’’کیا میری دعا نے تجھے خوش کر دیا؟‘‘ تو عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: مجھے کیا ہے کہ آپ کی دعا مجھے خوش نہ کرے۔ آپﷺ نے فرمایا: ’’اللہ کی قسم! بے شک ہر نماز میں میں اپنی ساری امت کے لیے یہی دعا کرتا ہوں۔

(مسند البزار: مجمع الزوائد للہیثمی: جلد 9 صفحہ 246۔ صحیح ابن حبان: جلد 16 صفحہ 47، حدیث نمبر 7111۔ علامہ البانی رحمہ اللہ نے اس کی سند کو حسن کہا۔ سلسلۃ الاحادیث الصحیحۃ: جلد 5 صفحہ 324)

14۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے حق میں گواہی دی کہ آپ کو ان کے بارے میں صرف بھلائی کا علم ہے اور ان کے لیے یہی گواہی کافی ہے۔ واقعہ افک کے ضمن میں درج ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے خطبہ میں فرمایا:

وَاللّٰہِ مَا عَلِمْتُ عَلَی أَہْلِی إِلَّا خَیْرًا۔

(صحیح بخاری: حدیث نمبر 2661۔ صحیح مسلم: حدیث نمبر 2770) 

ترجمہ: ’’اللہ کی قسم! مجھے اپنی بیوی میں بھلائی کے علاوہ کچھ معلوم نہیں۔‘‘

اور ایک روایت میں ہے: یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو مخاطب کیا : پس اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی اور فرمایا:

مَا تُشِیْرُوْنَ عَلَیَّ فِیْ قَوْمٍ یَسُبُّوْنَ أَہْلِیْ مَا عَلِمْتُ عَلَیْہِمْ مِنْ سُوئٍ قَطُّ۔

(صحیح بخاری: 7370۔ صحیح مسلم: 2770)

ترجمہ: ’’(اے لوگو!) تم مجھے ان لوگوں کے بارے میں کیا مشورہ دو گے جو میری بیوی کو گالیاں دیتے ہیں؟ مجھے اپنے گھر والوں کے بارے میں ذرہ بھر برائی کا علم نہیں۔‘‘

15۔ امت کے ہر فرد پر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی محبت واجب ہے۔ صحیحین میں مروی ہے کہ جب سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا:

اَلَسْتِ تُحِبِّیْنَ مَا اُحِبُّ؟

ترجمہ: ’’کیا تم اس سے محبت نہیں کرو گی جس سے میں محبت کرتا ہوں ؟ ‘‘

سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: کیوں نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

فَاَحِبِّیْ ہٰذِہٖ

(صحیح بخاری: حدیث نمبر: 2581۔ صحیح مسلم: حدیث نمبر 2442)

ترجمہ: ’’پس تم اس (عائشہ رضی اللہ عنہا ) کے ساتھ محبت کرو۔‘‘

16۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا حجرہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دیگر بیویوں کے حجروں کی نسبت مسجد کے زیادہ قریب تھا۔ علامہ ابن قیم رحمہ اللہ لکھتے ہیں:

’’پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اور آپ کے اصحابؓ نے ٹیلے کی جگہ اپنے ہاتھوں سے مسجد بنائی جس میں اینٹیں اور کھجور کی شاخیں استعمال کیں۔ پھر آپﷺ نے مسجد کے ایک طرف اپنا اور اپنی بیویوں کے گھر تعمیر کیے اور ان میں سے مسجد کے سب سے زیادہ قریب گھر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا تھا۔‘‘

(زاد المعاد لابن القیم: جلد 1 صفحہ 102)

چونکہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا گھر مسجد کے بالکل قریب تھا اس لیے جب آپﷺ اپنے معتکف میں ہوتے تو وہ آپﷺ کے بالوں میں کنگھی کرتیں۔

(اس کی تخریج گزر چکی ہے۔)

17۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے علاوہ کسی اور ایسی عورت سے شادی نہ کی جس کے ماں باپ دونوں مہاجر ہوں۔

(الاجابۃ للزرکشی: صفحہ 59)

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا سارا خاندان، ان کا باپ، والدہ اور دادا جان ابو قحافہ رضی اللہ عنہم اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں سے تھے۔ نیز آپ کی دادی ام الخیر سلمیٰ بنت صخر اور ان کے بیشتر بھائی بھی اصحابؓ میں سے تھے۔

(ام المومنین عائشۃ رضی اللّٰہ عنہا لمحمد الحاوری: صفحہ 159)


صفحہ 7 از 7