آیت غاز - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

آیت غاز

  مولانا اللہ یار خانؒ

صفحہ 1 از 5

آیتِ غاز

اِلَّا تَنْصُرُوْهُ فَقَدْ نَصَرَهُ اللّٰهُ اِذْ اَخْرَجَهُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا ثَانِیَ اثْنَیْنِ اِذْهُمَا فِی الْغَارِ اِذْ یَقُوْلُ لِصَاحِبِهٖ لَا تَحْزَنْ اِنَّ اللّٰهَ مَعَنَاۚ فَاَنْزَلَ اللّٰهُ سَكِیْنَتَهٗ عَلَیْهِ وَ اَیَّدَهٗ بِجُنُوْدٍ لَّمْ تَرَوْهَا الخ۔ (سورۃ التوبہ آیت 40)۔

ترجمہ: اگر تم نے رسول اللہﷺ کی امداد نہیں کی تو کیا اللہ تعالیٰ خود اس کی امداد کر چکا ہے جب کفار نے انہیں گھر سے نکالا تھا تو وہ دو میں سے دوسرا تھا جب وہ دونوں غار میں تھے جب رسول اللہﷺ اپنے دوست کو فرما رہے تھے کہ غم مت کر محقق بات ہے کہ اللہ ہمارے ساتھ ہے بس اللہ تعالیٰ نے اس پر سکینہ نازل فرمائی اور اس کی امداد ایسے لشکر سے فرمائی جسے تم نہیں دیکھ رہے تھے۔

 نصرتِ الہٰی کی حیثیت اور صورت:

نبی کریمﷺ کی ایک دعا قرآن کریم میں بیان فرمائی ہے وھو ھذا:

 رَبِّ اَدْخِلْنِیْ مُدْخَلَ صِدْقٍ وَّ اَخْرِجْنِیْ مُخْرَ جَ صِدْقٍ وَّ اجْعَلْ لِّیْ مِنْ لَّدُنْكَ سُلْطٰنًا نَّصِیْرًا۝ (سورۃ بنی اسرائیل آیت 80)۔

ترجمہ: خدایا مجھے اچھے طریقے سے داخل کریں اور اچھے طریقے سے نکالیں اور اپنی طرف سے مجھے غالب مددگار عنایت فرما دیں۔

 یعنی رسول کریمﷺ نے اپنے رب سے سلطاناً نصیراً کی درخواست کی تھی جس کے ساتھ من لدنک کا کا وصف پڑھا دیا کہ مددگار غالب بھی ہو اور تیرا مقرر کردہ ہو آیت میں جس مددگار کا ذکر ہے اس کی حیثیت تو معلوم ہو گئی کہ غالب بھی تھا اور رب العالمین نے اپنی طرف سے مقرر فرمایا تھا مگر وہ کون تھا؟۔

شیعہ تفسیر مجمع البیان ابوعلی طبرسی اس آیت کے تحت لکھتے ہیں:

انہ کان ھو و ابوبکرؓ إِذۡهُمَا فِى ٱلۡغَارِ و لیس معھما ثالث ای ھو احد اثنین و معناہ فقد نصرہ اللہ منفرداً من کل شیء الا من ابی بکرؓ۔ 

ترجمہ: مراد یہ ہے کہ ایک تو رسول اللہﷺ تھے دوسرے سیدنا ابوبکرؓ تھے جب وہ دونوں غار میں تھے تیسرا کوئی نہیں تھا معنیٰ یہ ہے کہ اللہ نے رسول کریمﷺ کی امداد کی ہر شے سے منفردا سوائے سیدنا ابوبکر صدیقؓ کے۔

معلوم ہوا کہ جس سلطاناً نصیراً کی رسول اللہﷺ نے دعا کی وہ اللہ تعالیٰ نے سیدنا ابوبکرؓ کی صورت میں رسول اللہﷺ کے لیے منتخب فرمایا۔

 آیت کے الفاظ سے ایک اور حقیقت بھی واضح ہوتی ہے یعنی اذا اخرجهٗ کی ضمیر سے ثانی اثنین حال واقع ہوا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ جس وقت محمد رسول اللہﷺ غار کی طرف روانہ ہوئے تو سیدنا ابوبکرؓ آپﷺ کے ہمراہ تھے یعنی گھر سے نکلتے وقت وہ ثانی اثنین تھے۔

شیعہ مفسر علامہ فتح اللہ کاشانی اپنی تفسیر منہج الصادقین میں اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں:

پس پیغمبر شب پنجشنبہ در شہر مکہ امیر المومنین علی رادرجائے خود بخو ابا یندو خوداز خانہء ابوبکرؓ و برفاقت ابوبکرؓ بیرون آمد درہماں شب بداں غار متوجہ شد۔

اور شیعہ مجتہد ملا باقر مجلسی نے اپنی کتاب حیات القلوب جلد 2 صفحہ 310 پر لکھا ہے: 

ترا امر کردہ است کہ ابوبکرؓ رہمراہ خود ببری۔ 

یعنی رسول کریمﷺ کو جبرائیل علیہ السلام نے خبر دی کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکم دیا ہے کہ سیدنا ابوبکرؓ کو ہمراہ لے کر چلیں۔

بات تو صاف ہے کہ رسول کریمﷺ کو بذریعہ وحی حکم ہوا کہ سیدنا ابوبکر صدیقؓ کو ساتھ لے یعنی سیدنا ابوبکرؓ بحکمِ الہٰی اس مہم میں حضور اکرمﷺ کی مدد کے لیے منتخب ہوئے اور حضورﷺ نے دعا کی تھی سلطاناً نصیراً کی تو معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کے فیصلے کے مطابق سیدنا ابوبکرؓ سلطاناً نصیراً قرار پائے مگر یہاں ملا باقر مجلسی کے ایک بیان سے بات کچھ پچیدہ ہوگئی ہے ملا صاحب اس سے کتاب کے جلد 1 صفحہ 175 پر لکھتے ہیں کہ سیدنا ابوبکرؓ و سیدنا عمرؓ مسلمان ہیں فاسق ہیں۔

تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو اپنی ساری خدائی میں اپنے آخری نبیﷺ کی مدد کے لیے ایک فاسق ہی ملا تھا؟ اور نبی آخر الزماںﷺ نے 13 برس کی مسلسل جدوجہد سے ایک مسلمان بھی ایسا تیار نہیں کیا تھا جس پر اس آڑے وقت میں اللہ تعالیٰ کی نگاہ انتخاب پڑتی؟ کاش کوئی دانشور اس معمہ کو حل کر دے۔

ایک اور شیعہ عالم علامہ بازل ایرانی نے اپنی مایہ ناز کتاب حملہ حیدری طبع 1209ھ اعجاز حیدری میں لکھا ہے:

چنیں گفت راوی کہ سالار دیں! چوں سالم بحفظ جہاں آفرین

زنزدیک آں قوم پر مکر رفت بسوئے سرائے ابوبکرؓ رفت

نئے ہجرت او نیز آمادہ بود کہ سابق رسولش خبردادہ بود

نبی بردر خانہ اش چوں رسید بگوشش ندائے سفر در کشید

چوں ابوبکرؓ ازاں حال آگاہ شد! زخانہ بوں رفت و ہمراہ شد

گرفتند پس راه یثرب به پیش نبی کند بغلین از پائے خویش

بسر پنجه آه راه رفتن گرفت! پائےخودزدشمن نهفتن گرفت!

چوں رفتند چندے زد امانِ دشت! قدوم فلک سا مجروح گشت 

ابوبکرؓ آنگہ بدوشش گرفت! ولی زیں حدیث است جائے شگفت

کہ درکس چناں قوت آید پدید کہ بار نبوت تو اندکشید!

برفتند القصہ چندے دگر! چوگر دید پیدا نشان سحر!

بجستند جائے کہ باشد پناہ! زچشم کساں دور یکسوز راہ

بدیدند غارےدراتیرہ شب کہ خواندےعرب غارتورش لقب

گرفتئددرجوف آں غارجا! ولی پیش ینہاد بوبکرؓ پائے

بہرجا کہ سوراخ یارخنہ دید! قبارابدریدوآں رخنہ چید

بدیں گونہ تاشد تمام آں قبا یک رخنہ نگذشت بانداز قضا

برآں رخنہ گوئند آں یار غار کف پائے خود رانمود استوار

نیا ید جزوا وشگر فاز کسے کہ دورازخرومی نماید بسے

بغاراندرون درشب تیرہ فام چساں دید سوراخ ہارا تمام

دراں تیرہ شب یک بہ یک چوں شمرد یکے کامدا افزوں برو پافشرو

نیا مد چنیں کاراز غیرِ او! بدیں سال چوپر داخت ازرفت رو 

درآمد رسول خدا ہم بغار نشستند یکجا بہم ہرد ویار

بغار اندرون تاسہ (3)روز وسہ(3) شب بسر بردآں شاہ بفرمان رب

شدے پور ابوبکرؓ ہنگام شام بہ بردے دراں غارآبو طعام

نمودے ہم ازحال اصحابِ شر حبیبِ خدائے جہاں راخبر!

کہ ہستنددر جستجوآں گروہ شب وروز در شہر و صحر اوکوہ

وگر راعئے بود عامر بنام کہ کردے شبانی بہ بیت الحرام 

کہ او نیز اسلام آوردہ بود! زابریق توفیق مے خوردہ بود

شدے شب بہ نزد بشیر و نذیر بہ بردے برش ہدیہ جامے زشیر

جز ایشاں دگزار صدیقؓ وعدو نہ بدہیچ کس واقف ازرازاو 

نبی گفت پس پور بکررا کہ اے چوں پدر اہل صدق وصفا 

دو جمازہ باید کنوں راہوار! کہ مارا ساند بہ یثرب و یار 

صفحہ 1 از 5