آیت غاز - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

آیت غاز

  مولانا اللہ یار خانؒ

صفحہ 2 از 5

برفت از برش پور بوبکرؓ زود بدنبال کارے کہ مرمودہ بود

ان اشعار کا خلاصہ یہ ہے:

  1. نبی کریمﷺ کو مکہ سے ہجرت کا حکم ہوا تو رفیق سفر بھی اللہ نے متعین کر دیا۔
  2.  آپﷺ سیدنا ابوبکرؓ کے گھر پہنچے دروازہ کھٹکھٹایا سیدناصدیقؓ ہجرت کے لیے تیار تھے کیونکہ حضورﷺ نے پہلے ہی باحکمِ خدا آپؓ کو آگاہ کر رکھا تھا۔
  3. دونوں چل پڑے کچھ دور تک یوں چلے کہ حضورﷺ نے جوتے اتار لیے اور پنجوں کے بل چلتے گئے۔
  4. آپﷺ کے پاؤں زخمی ہو گئے تو سیدنا صدیقِ اکبرؓ نے حضورﷺ کو کاندھوں پر اٹھا لیا۔
  5.  غارِ ثور کے پاس پہنچے تو سحر ہوگئی سیدنا صدیقِ اکبرؓ نے غار کے اندر جا کر اسے صاف کیا جہاں جہاں کوئی سوراخ دیکھا اپنی قمیض پھاڑ کر بند کرتے رہے ایک سوراخ باقی رہ گیا اور قمیض ختم ہوگئی وہاں اپنا پاؤں رکھ دیا۔
  6.  تین شب و روز غار میں بس دونوں ہی رہے۔
  7.  سیدنا صدیقِ اکبرؓ کا بیٹا شام کو کھانا لاتا اور دن بھر کی خبریں بتاتا رہا اور آپ کا غلام عامر رات کو بکریاں لاتا دودھ پلاتا اور پاؤں کے نشان مٹاتا۔
  8.  حضورﷺ کے حکم کے سیدنا صدیقِ اکبرؓ کا بیٹا گھر سے دو اونٹنیاں لایا جو سیدنا صدیقِ اکبرؓ نے اسی غرض سے تیار کر رکھی تھی۔

علامہ بازی کے اس بیان سے ذیل کے نتائج اخذ ہوتے ہیں۔

  1. سیدنا صدیقِ اکبرؓ کو ان کے گھر سے باحکمِ الہٰی حضورﷺ ساتھ لائے تھے شیعہ کا یہ کہنا سیدنا ابوبکر صدیقؓ بعد میں پیچھے سے آ ملے تھے سفید جھوٹ سے بھی کچھ اونچی چیز ہے 
  2.  اللہ تعالیٰ نے اس مدد کا بڑے اہتمام سے اپنی کتاب میں ذکر فرمایا ہے۔
  3.  علامہ باذل کو تعجب ہے کہ سیدنا صدیقِ اکبرؓ نے اپنے کندھوں پر وارِ نبوت کیسے اٹھایا یہ تعجب ہی خواہ مخوا مستقل سر درد بنا ہوا ہے ورنہ بات صاف ہے کہ حضور اکرمﷺ نے عملاً ثابت کر دیا کہ میرے بعد تعلیماتِ نبوت کا بوجھ اٹھانے والا یہی شخص ہے جو آج بارِ نبوت اٹھا کے اس سنگلاخ زمین میں ان نوکیلے پتھروں پر چلتا ہوا اس عمودی بلندی پر چڑھا جا رہا ہے اسی والہانہ شیفتگی کے ساتھ یہ میرے دین میری امانت کی حفاظت کرے گا حالات کی نامساعدت مشکلات کے طوفان اس کے حوصلے کو پست نہیں کر سکیں گے جس طرح اس نے آج میرے وجود کی حفاظت کے لیے اپنی قبا پھاڑ پھاڑ کر غار کے سوراخ بند کیے ہیں اسی طرح میرے لائے ہوئے دین کی حفاظت کے لیے اپنا تٙن مٙن دٙھن قربان کر دے گا اور کوئی چور دروازہ باقی نہ رہنے دے گا اور تاریخ نے ثابت کر دیا کہ سیدنا صدیقِ اکبرؓ نے کس محنت سے فتنہ ارتداد جھوٹے مدعیانِ نبوت مانعینِ زکوٰۃ کے فتنے کو کچلا اور اللہ کی کتاب کی حفاظت کے لیے کیسا قول پروف انتظام کیا کہ اسلام کے دشمن بھی اعتراف کرتے ہیں کہ اس کی مثال تاریخِ انسانی میں نہیں ملتی۔

چنانچہ ایک سکہ بند دشمن اسلام ولیم میور لکھتا ہے:

دنیا میں غالباً کوئی ایسی کتاب نہیں ہے جو 1200 برس تک ایسے خالص متن کے ساتھ رہی ہو۔

 صرف ہجرت کے وقت سیدنا صدیقِ اکبرؓ کی خدمات کا خلاصہ یہ ہے کہ:

  1.  گھر کا سارا سرمایہ جو 40 یا 46 ہزار تھا ہمراہ لے لیا۔ 
  2.  بیٹی زاد سفر تیار کر رہی ہے اور ذی النطاقین کی سند ملتی ہے۔ 
  3. بیٹا شام کو کھانا لاتا ہے۔ 
  4.  غلام رات کو ریوڑ لا کر دودھ پیش کرتا ہے۔ 
  5.  ہجرت کے لیے سواری کا انتظام سیدنا صدیقِ اکبرؓ کرتا ہے۔
  6.  اپنی جان اس انداز سے پیش کرتا ہے کہ کفار نے جو انعام حضورﷺ کے لیے مقرر کیا اسی انعام کا سیدنا صدیقِ اکبرؓ کو پکڑنے کے لیے اعلان کیا۔

اس ایک موقع پر اتنی خدمات کس نے پیش کر کے دکھائیں تاریخ سے پوچھو کریدو ریسرچ کرو جواب نفی میں ملے گا مگر اس کے باوصف کچھ لوگ جنہوں نے سمجھ رکھا ہے کہ جنت کی الاٹمنٹ کا کاروبار انہیں سونپا گیا ہے وہ کہتے ہیں کہ سیدنا صدیقؓ بھلا کہاں جنتی ہو سکتا ہے اگر خدا اپنے فیصلوں میں ایسے دانشوروں کا محتاج ہوتا تو اس کا امکان ہو سکتا تھا مگر وہ علیم و خبیر تو ان حقائق کی بنا پر فیصلے کرتا ہے جن کا پورا علم اس کے بغیر کسی کو نہیں اگر بات مشوروں پر ہوتی تو مصطفیٰﷺ کی رفاقت کے لیے سیدنا صدیقؓ کا انتخاب کیونکر عمل میں آتا۔

حقائق کا منہ چڑانے کے لیے چند ایک باتیں بنائی جاتی ہیں۔ مثلاً:

  • حضورﷺ نے تو اونٹوں اور گدھوں پر بھی سواری کی ہے اس لیے سیدنا صدیقؓ نے حضورﷺ کو کندھوں پر اٹھا لیا تو کیا ہوا؟۔

بات کا پہلا حصہ تو درست ہے واقعی حضورﷺ نے اونٹوں اور گدھوں پر سواری کی ہے مگر دوسری بات غلط ہے کہ "کیا ہوا" ہوا یہ کہ جس اونٹ پر حضورﷺ نے سواری کی وہ دنیا بھر کے تمام اونٹوں سے افضل ہے بلکہ جس جانور پر حضورﷺ نے سواری کی وہ اس جنس کے تمام جانوروں سے افضل ہے اس لیے جس انسان کے کندھے پر حضور اکرمﷺ کا وجود باسعود قیام پذیر ہوا وہ انسان بھی افضل البشر بعد الانبیاء ہے یہ جو کچھ ہوا اس کی قدر وہ لوگ کیا جانے جو مقامِ مصطفیٰﷺ کے متعلق ترنگ میں آ کر یہاں تک کہہ دیتے ہیں کہ:

 غلط الامین فجاز ھا عن حیدر تااللہ ما کان الامین امینا۔

(مجالس المومنین جلد 2 صفحہ547)۔

  •  دوسری بات یہ کہتے ہیں کہ سیدنا علی کو حضورﷺ نے رات اپنے بستر پر سلایا تھا یہ قربانی بہت بڑی ہے۔

یہ واقعہ تو درست ہے مگر خدا جانے قربانی کو ناپنے یا تولنے کا پیمانہ کیا ہے اگر حالات کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ سیدنا علیؓ نے جان پیش کر دی درست اور سیدنا صدیقِ اکبرؓ نے جان پیش کر دی مال پیش کیا اور سارا کنبہ پیش کر دیا۔

کفار نے نہ تو سیدنا علیؓ کے لیے کوئی انعام مقرر کیا نہ انہیں قتل کیا مگر سیدنا صدیقؓ کے لیے تو اتنا ہی انعام مقرر کیا جتنا حضور اکرمﷺ کے لیے اعلان کیا تھا۔ بہرحال حقیقت اللہ ہی جانتا ہے کہ کس کی قربانی بڑی ہے۔ 

ہاں شیعہ کی کتاب احتجاج طبرسی صفحہ 241 پر اس بڑائی کا عقلی اور استدلالی رنگ میں ایک نقشہ کھینچا گیا ہے اس سے "بڑی قربانی" کے متعلق کسی حد تک اظہار ہوتا ہے۔

صفحہ 2 از 5