آیت غاز - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

آیت غاز

  مولانا اللہ یار خانؒ

صفحہ 3 از 5

عن سعد بن عبداللہ القمی الاشعریٰ قال بلیت باشد النواصب منازعۃ فقال لی یوما بعد ما ناظرتہ تبالک ولاصحابک انتم معاشر الروافض تعتقدون المھاجرین والانصار بالطعن علیھم وبالحجود لمحبۃ النبیﷺ فالصدیقؓ فوق الصحابۃؓ بسبب سبق الاسلام الا تعملون ان رسول اللہﷺ انما ذھب بہ لیلۃ الغار لانہٗ خاف علیہ کما خاف علی نفسہ ولما علم ان یکون خلیفتہ فی امتہ وارادان یصون نفسہ کما یکون خاصتہ علیہ السلام کیلا یخل حال الدین من بعدہ ویکون الاسلام منتظما وقد قام علیھا علی فراشہ لما کان فی علمہ انہ لو قتل کا یختل الاسلام بقتلہ لانہ یکون من یقوم مقامہ لاجرم لم تبال من قتلہ قال سعد انی قلت علی ذالک اجوبۃ لکنھا غیر مسکتۃ۔ 

ترجمہ: سعد بن عبداللہ قمی کہتا ہے کہ میں سخت سنی سے مناظرہ میں مبتلا ہوا اس نے مناظرہ کے بعد مجھے کہا ہلاکت تمہارے لیے اور تمہارے شیعہ کے لیے تم مہاجرین و انصار پر طعن کرتے ہو اور ان کی صحابیت کا انکار کرتے ہو باوجود اس کے کہ وہ محبوبِ رسولﷺ تھے سیدنا ابوبکر صدیقؓ تو تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے افضل ہے بوجہ سبقت اسلام کے تم نہیں جانتے کہ ہجرت کے روز حضورﷺ سیدنا صدیقؓ کو اپنے ہمراہ غار میں لے گئے تھے کہ جس طرح اپنے مارے جانے کا خوف تھا اس طرح سیدنا صدیقِ اکبرؓ کے قتل ہو جانے کا اندیشہ تھا حضورﷺ کو علم تھا کہ میرے بعد سیدنا صدیقؓ ہی میرا خلیفہ بلافصل ہوگا اور اپنی جان کی طرح سیدنا صدیقؓ کی جان بچائی کہ سیدنا صدیقؓ کے قتل ہونے سے اسلام میں خلل پیدا نہ ہو پائے اسی وجہ سے سیدنا علیؓ کو اپنے بستر پر سلایا کہ سیدنا علیؓ قتل ہوئے تو دین میں کوئی خلل پیدا نہیں ہوگا ان کی جگہ کوئی دوسرا صحابی کھڑا ہو جائے گا لہٰذا حضورﷺ نے سیدنا علیؓ کے قتل ہو جانے کی کوئی پرواہ نہ کی سعد کہتا ہے میں نے اسے کئی جواب دیے مگر ان میں سے کوئی جواب مسکت نہیں تھا۔

سعد نے واقعی کئی جواب دیے ہوں گے مگر جو جواب بنائے جائیں وہ مسکت کم ہی ہوا کرتے ہیں مگر جو جواب حقائق پر مبنی ہوں وہی مسکت ہوتے ہیں۔

چند الفاظ کی تشریح:

ثَانِىَ ٱثۡنَيۡنِ:

  1. بات دو کی ہو رہی ہے جن میں اول رسول کریمﷺ ہیں اور ثانی سیدنا صدیقِ اکبرؓ ہیں یعنی جو دو یار غار ہیں ان میں ترتیب یہ ہے۔
  2. ترتیب دینی اللہ نے اپنے محبوب کو حکم دیا کہ اعلان کیجیے قُلۡ إِنِّىٓ أُمِرۡتُ أَنۡ أَڪُونَ أَوَّلَ مَنۡ أَسۡلَمَ‌ۖ الخ (سورۃ الانعام آیت نمبر 14) یعنی اے نبی! کہہ دیجیے کہ میں اسلام لانے والوں میں پہلا ہوں پھر حضورﷺ کی طرف سے اعلان ہوا وانا اول المومنین کہ میں پہلا مومن ہوں اور حضورﷺ کی دعوت پر پہلا ایمان لانے والا سیدنا صدیقِ اکبرؓ ہے یعنی ترتیب دینی یہ ہوئی کہ اول نبی اور ثانی سیدنا صدیقِ اکبرؓ۔
  3. ہجرت میں ثانی۔
  4. خلافت میں ثانی۔ 
  5. روضہ اطہر میں ثانی۔ 

عربیت کا قاعدہ ہے کہ اضافت عدد مساوی کی طرف مساوی کے فائدہ ترتیبِ رتبی کا دیتی ہے تو ثانی کی اضافت اثنین کی طرف جو پائی جاتی ہے اس میں یہی حکم ہے یعنی ترتیب رتبی ہے یعنی اول رتبہ نبی کریمﷺ کا اور ثانی سیدنا صدیقِ اکبرؓ کا۔

لِصَاحِبِہٖ: شیعہ تفسیر میزان القران طبع ایران زیر آیتِ غار۔

 إِذۡيَقُولُ لِصَـٰحِبِهِ اذ یقول لصاحبہ والمراد بصاحبہ ھو ابوبکرؓ للنقل القطعی۔ 

صاحبہ سے مراد دلائل قطعیہ سے ثابت ہےکہ سیدنا ابوبکرؓ ہیں۔

 تفسیرِ صافی:

إِذۡيَقُولُ لِصَـٰحِبِهِۦ ھو ابوبکرؓ صاحبہ سے مراد سیدنا ابوبکرؓ ہے یعنی سیدنا ابوبکر صدیقؓ کی صحابیت نص صریح سے ثابت ہے اس کا انکار قرآن کا انکار ہے اور قرآن کا انکار کفر ہے۔

نقطہ:

لفظ صاحب کی اضافت ذاتِ نبی کی طرف ہو یا اس ضمیر کی طرف جس کا مرجع رسول ہو تو لازماً صاحب مضاف الیہ ہم مذہب ہوگا اس پر ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ یٰصاحبی السجن میں اضافت صاحب کی قیدیوں کی طرف ہے مگر وہ قیدی حضرت یوسف علیہ السلام کے ہم مذہب نہیں تھے۔

یہ سوال کم فہمی کی دلیل ہے یہ دھوکہ دینے کی کوشش اس میں اضافت جیل کی طرف ہے معنیٰ یہ ہے کہ اے میرے جیل کے ساتھیو!

 چند نظائر:

  • نبی کریمﷺ کو حضرت موسی علیہ السلام سے تشبیہ دی گئی ہے۔

 اَرْسَلْنَاۤ اِلَیْكُمْ رَسُوْلًا ﳔ شَاهِدًا عَلَیْكُمْ كَمَاۤ اَرْسَلْنَاۤ اِلٰى فِرْعَوْنَ رَسُوْلًا۔ (سورۃ مزمل آیت 15)۔

حضرت موسی علیہ السلام اپنے سفر میں حضرت یوشع بن نوح علیہ السلام کو ہمراہ لے گئے تھے وہی ان کے بعد خلیفہ ہوئے اسی طرح حضورِ اکرمﷺ ہجرت کے سفر میں سیدنا صدیقِ اکبرؓ کو ساتھ لے گئے تھے وہی آپ کے بعد خلیفہ ہوئے۔ 

  •  حضرت موسی علیہ السلام نے ہجرت کی حضورﷺ نے بھی ہجرت کی۔

حضرت موسی علیہ السلام کے ساتھ ساری قوم تھی حضورﷺ کے ساتھ صرف سیدنا صدیقِ اکبرؓ تھے فرعون نے حضرت موسی علیہ السلام کا تعاقب کیا اہلِ مکہ نے حضورﷺ کا تعاقب کیا۔

اتنا فرق ہے فرعون حضرت موسی علیہ السلام کی گرفتاری کے لیے کسی انعام کا اعلان نہ کیا اور قریش نے دونوں کی گرفتاری کے لیے سو سو اونٹ انعام ٹھہرایا۔ قومِ حضرت موسی علیہ السلام کو سخت پریشانی ہوئی اور کہہ اٹھے انا لمدرکون مگر پریشانی اپنی ذات کے لیے تھی سیدنا صدیقِ اکبرؓ کو بھی پریشانی ہوئی مگر حضور اکرمﷺ کی فکر تھی اس لیے حضور اکرمﷺ نے تسلی دی لَا تَحۡزَنۡ إِنَّ ٱللَّهَ مَعَنَا‌ اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا فَأَنزَلَ ٱللَّهُ سَڪِينَتَهُ عَلَیْہ حضرت موسی علیہ السلام نے تسلی دیتے ہوئے فرمایا تھا ان معی ربی سیھدین یعنی معیتِ باری کی نسبت اپنی طرف کی مگر نبی کریمﷺ نے معیتِ باری کی نسبت دونوں کی طرف یعنی اپنی طرف اور سیدنا صدیقِ اکبرؓ کی طرف کی۔

حضرت موسیٰ علیہ السلام کے فرمان میں ایک صفت باری تعالیٰ ہے دوسری صفت ذات موسیٰ علیہ السلام ہے۔ 

حضورﷺ نے فرمایا لَا تَحْزَنْ تو قرآنِ کریم میں حزن کا لفظ یا تو انبیاء کے لیے استعمال ہوا ہےایک طرف ذاتِ باری تعالیٰ دوسری طرف ذاتِ رسولﷺ اور ذاتِ سیدنا صدیقؓ ہیں حضور نے فرمایا لَا تَحْزَنْ تو قرآن۔ کریم میں حزن کا لفظ یا تو انبیاء کے لیے استعمال ہوا ہے یا کسی مقرب ولی اللہ کے لیے مثلاً۔ 

صفحہ 3 از 5