آیت غاز - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

آیت غاز

  مولانا اللہ یار خانؒ

صفحہ 4 از 5
  1. حضرت مریم علیہ السلام کو فرمایا فَنَادٰىهَا مِنْ تَحْتِهَاۤ اَلَّا تَحْزَنِیْ الخ۔ (سورۃ مریم آیت نمبر 24)۔
  2. حضرت موسی علیہ السلام کی والدہ کو فرمایا: لَا تَخَافِی وَلَا تَحْزَنِی إِنَّا رَادُّوهُ إِلَيْكِ الخ۔ (سورۃ القصص آیت نمبر 7)۔

پھر حزن کا اطلاق اس غم پر ہوتا جو اپنی ذات کے لیے نہیں بلکہ کسی دوسرے کی وجہ سے ہو جیسے حضرت یعقوب علیہ السلام کے متعلق بیان ہوا۔ 

جو حضرت یوسف علیہ السلام کے غم سے جا رہے تھے کہ وَابْيَضَّتْ عَيْنَاهُ مِنَ الْحُزْنِ الخ۔ (سورۃ یوسف آیت نمبر 84)۔

چناچہ شیعہ تفسیر میزان القران میں لکھتے ہیں۔

قال لا تحزن خوفا مما تشاہدہ من الوحدۃ والغربۃ و فقد ان الناصر وتظاہر الاعداء وتعقیبھم ایاھما لَا تَحۡزَنۡ فانَّ ٱللَّهَ مَعَنَا‌۔

ترجمہ: فرمایا خوف نہ کرو جیسا تم کو تنہائی مسافری بے یارو مددگار ہونے کا غلبہ دشمن کا اور دشمن کے تعاقب کرنے کا مشاہدہ ہو رہا ہے بس اللہ تعالیٰ ہمارے ساتھ ہے۔

یعنی سیدنا صدیقِ اکبرؓ کو اندیشہ تھا تو اس بات کا تھا کہ جس متاعِ دو جہان کو رات کے اندھیرے میں کندھوں پر اٹھا کے یہاں لایا ہوں اسے کوئی گزند نہ پہنچ جائے۔

 معیتِ باری:

معیتِ باری کے کئی درجے ہوتے ہیں اور کئی صورتیں ہوتی ہیں۔ مثلاً:

 إِنَّ ٱللَّهَ مَعَ ٱلصَّـٰبِرِينَ۝ (سورۃ البقرہ آیت نمبر 153)۔

 أَنَّ ٱللَّهَ مَعَ ٱلۡمُتَّقِينَ۝ (سورۃ التوبہ آیت نمبر 123)۔  

یہاں ایک طرف ذاتِ باری ہے دوسری طرف صفت خاص ہے اہلِ ایمان کی یعنی وصفِ صبر اور وصفِ اتقا موجود ہے تو معیتِ باری بھی موجود ہے اگر وصف نہیں تو معیت بھی نہیں۔ 

 إِنَّ ٱللَّهَ مَعَنَا‌ الخ (سورۃ التوبہ آیت نمبر 123)۔ 

یہاں ایک طرف ذاتِ باری ہے دوسری طرف ذاتِ رسولﷺ اور ذاتِ سیدنا صدیقِ اکبرؓ۔

اِدھر اللہ تعالیٰ کی کسی صفت کا ذکر ہے نہ ادھر سیدنا ابوبکرؓ کے کسی وصف کا ذکر ہے یعنی ذاتِ سیدنا ابوبکرؓ کو ذاتِ باری کی معیت حاصل ہے اب کوئی شخص سیدنا ابوبکرؓ کی صحابیت کا ایمان کا صداقت کا اظہار کا انکار کر دے تو کوئی بعید نہیں مگر کیا کوئی شخص ایسا بھی ہو سکتا ہے جو ذاتِ سیدنا ابوبکرؓ کا انکار کر سکے جہاں ذاتِ سیدنا ابوبکرؓ موجود ہے وہاں اس سے ذاتِ باری کی معیت بھی حاصل ہے اور یہ رتبہ بلند پوری دنیا میں صرف دو ہستیوں کو حاصل ہے انبیاء میں محمد رسول اللہﷺ اور امتیوں میں سیدنا ابوبکر صدیقؓ کو۔

 ذالک فضل اللہ یؤتیہ من یشاء الخ۔

ذَٲلِكَ فَضۡلُ ٱللَّهِ يُؤۡتِيهِ مَن يَشَآءُ‌ۚ الخ۔(سورة الجمعہ آیت نمبر 4)۔

سیدنا ابوبکر صدیقؓ کی عظمت کا انکار کر دینا بلاشبہ بڑی جرأت کا کام ہے مگر اللہ اور رسولﷺ کو بھی تنقید بلکہ تنقیص کا نشانہ بنا لینا اس سے بھی بڑی جرأت ہے ایک شیعہ مجتہد حامد حسین لکھنوی نے اپنی کتاب استقصاء الافہام میں فرمایا ہے کہ لا تحزن نہی ہے اور سیدنا ابوبکرؓ کا رنجیدہ ہونا گناہ و معصیت ہے اس لیے رسولِ خداﷺ نے منع فرمایا یہ منع بتاتا ہے کہ سیدنا ابوبکرؓ مرتکب معصیت ہوا تھا۔ 

خود فریبی اور ابلہ فریبی کو فن کاری کہنے یا بیماری بہرحال یہ ہے کچھ اسی قسم کی چیز ذرا قرآنِ کریم سے چند مثالیں ملاحظہ ہوں۔

  1.  حضرت مریم علیہا السلام کو ارشاد ہوا: لَّا تَحْزَنِیْ قَدْ جَعَلَ رَبُّكِ تَحْتَكِ سَرِیًّا۝۔(سورۃ مریم آیت نمبر 24)۔ یعنی حضرت مریم علیہا السلام مرتکب معصیت ہوئی لہٰذا اس سے منع فرما دیا گیا کہ لا تحزنی مگر اس کے آگے یہ فرمایا کہ تیرے نیچے تیرے رب نے ایک چشمہ جاری کر دیا ہے یہ اس معصیت کی سزا ہے کیا؟۔
  2. والدہ موسی علیھا السلام کو ارشاد ہوا: لَا تَخَافِی وَلَا تَحْزَنِی إِنَّا رَادُّوهُ إِلَيْكِ وَجَاعِلُوهُ مِنَ الْمُرْسَلِينَؕ۝۔ (سورۃ القصص آیت 7)۔ یعنی والدہ موسیٰ علیہا السلام نے معصیت کا ارتکاب کیا تو خدا نے نہی فرما دی مگر ساتھ ہی یہ فرما دیا کہ ہم تیرے بیٹے کو تیرے پاس لٹا دیں گے اور اسے رسول بنائیں گے یعنی والدہ موسی علیہا السلام کو ایک معصیت کی دو سزائیں سنا دیں اگر کوئی یہ پوچھے کہ یہ سزائیں ہیں یا انعام ہیں یا بشارتیں ہیں اگر بشارتیں ہیں تو اللہ کا نظام بھی عجیب ہے کہ گناہ کرو تو انعام کی بشارتیں ملیں۔
  3.  سیدنا ابوبکرؓ کو نبی کریمﷺ نے فرمایا: لا تحزن اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: فَأَنزَلَ اللّهُ سَكِينَتَهُ عَلَيْهِ یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف سے اس پر تسکین نازل فرمائی اگر لا تحزن معصیت کے ارتکاب پر نہی ہے تو نزول سکینہ لازم سزا ہی ہوگی اور اگر ایسا نہیں تو عجیب معاملہ ہے اللہ کا رسول ارتکاب معصیت پر منع کر رہا ہے اور اللہ تسلیاں دے رہا ہے اگر مجتہد صاحب کی بات مانی جائے تو یہاں اللہ و رسولﷺ میں آپس میں ان بن نظر آتی ہے ایک سوال یہ ہے کہ قبل نہی کوئی فعل معصیت کیونکر شمار ہوتا ہے اگر کوئی فعل ہی نہ ہو تو نہی سے کیا یہی مراد ہوگی کہ لازماً کوئی فعل ہوا ہے مثلاً حضور کو ارشاد ہے: وَ لَا تَكُنْ لِّلْخَآىٕنِیْنَ خَصِیْمًا۝۔ (سورة النساء آیت نمبر 105) اور وَلَا تُجَادِلْ عَنِ الَّذِیْنَ یَخْتَانُوْنَ اَنْفُسَهُمْؕ الخ۔(سورة النساء آیت نمبر 107)۔

کیا دونوں مقامات پر نہی نہیں تو کیا نبی کریمﷺ نے کسی معصیت کا ارتکاب کیا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے منع فرمایا۔

 ظاہر ہے کہ بات وہ نہیں جو ظاہر کی گئی بلکہ اندر کی اگلنے کے بہانے ہیں یہ اور بات ہے کہ ان تیروں کا ہدف اللہ اور رسولﷺ کی ذات بھی بنتی ہے۔

 ایک علمی شُبہ:

سوال: فَأَنزَلَ اللّهُ سَكِينَتَهُ عَلَيْهِ میں علیہ ضمیر کا مرجع سیدنا ابوبکرؓ نہیں بلکہ رسول کریمﷺ ہیں یعنی اللہ تعالیٰ نے رسول کریمﷺ پر تسکین نازل فرمائی۔ 

اگر یہ بات درست تسلیم کی جائے تو پہلے ثابت کرنا پڑے گا کہ رسول کریمﷺ گھبرا گئے تھے اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان پر تسلی نازل فرمائی مگر یہ ثابت کہاں سے ہوگا اگر واقعات پر نگاہ کی جائے تو عجیب منظر سامنے آتا ہے کہ حضورﷺ گھبرائے ہوئے تو خود ہیں اور تسلی دے رہے ہیں سیدنا ابوبکرؓ کو کہ غم نہ کر کیا نبی کریمﷺ کی ذات سے ایسی طفلانہ حرکت منسوب کی جا سکتی ہے؟

"پھر سوال ہوتا ہے کہ اگر ضمیر کا مرجع سیدنا ابوبکر صدیقؓ کو بنایا جائے تو انتشار ضمائر لازم آتا ہے جو جائز نہیں۔ 

صفحہ 4 از 5