آیت غاز - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

آیت غاز

  مولانا اللہ یار خانؒ

صفحہ 5 از 5

یہ تو اچھی بات ہے کہ آدمی ناجائز کام سے اجتناب کرے مگر جائز و ناجائز کے لیے بھی کوئی اصول ہوتا ہے کوئی معیار ہوتا ہے کہ یہ تو کوئی بات نہ ہوئی کہ آدمی جس کو چاہے ناجائز کہہ دے۔ 

 اہلِ فن کے نزدیک اصول یہ ہے کہ:

  1. انتشار ضمائر اس وقت لازم آتا ہے جب تمام ضمائر کا مرجع واحد ہو یہاں یہ بات نہیں تمام ضمائر کا مرجع رسول کریمﷺ کی ذات نہیں سکینہ ضمیر کا مرجع ذاتِ باری ہے۔
  2. قانون یہ ہے کہ جب ضمائر دائر ہو درمیان مضاف و مضاف الیہ کے تو مرجع ضمیر مضاف ہوگا ناکہ مضاف الیہ کیونکہ کلام میں مقصود بالذات مضاف ہوتا ہے لہٰذا علیہ کا مرجع صاحب ہوگا جو مضاف ہے طرف ضمیر کے جس کا مرجع رسول اللہﷺ ہے۔

 وایدہ بجنود لم تروھا کا تعلق جنگِ بدر سے ہے اور اس کا عطف نصرہٗ پر ہے اگر ضمیر کا مرجع سیدنا ابوبکر صدیقؓ بنایا جائے تو بھی کوئی حرج نہیں اس صورت میں معنیٰ یہ ہوں گے کہ سیدنا ابوبکرؓ پر جو سکینہ نازل ہوئی اس کی صورت یہ ہوئی کہ اللہ نے ملائکہ سے امداد کی۔

ملائکہ نے اس کے دل میں سکینہ القاء کیا تاکہ ثابت قدم رہے۔


صفحہ 5 از 5