روافض کی امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ پر دروغ گوئی گنہگار کون…

روافض کی امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ پر دروغ گوئی گنہگار کون ہے؟ عقیدہ اہلِ سنت پر رافضی الزام و شبہ کا رد

  امام ابن تیمیہ

صفحہ 1 از 6
اشکال
شیعہ مصنف لکھتا ہے: ’’ایک وہ تقسیم ہے جو ہمارے سید و مولیٰ امام موسیٰ بن جعفر کاظم رحمہ اللہ سے وارد ہے آپ صغیر السن تھے کہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ نے ان سے دریافت کیا، معصیت (نافرمانی، گناہ) کس سے صادر ہوتی ہے؟ امام موسیٰ نے جواباً فرمایا:
1۔ بندے سے 
 2۔ اللہ تعالیٰ سے 
 3۔ یا دونوں سے
اگر معصیت کا مصدر و منبع اللہ تعالیٰ کی ذات ہے تو اللہ تعالیٰ بندے پر کیوں کر ظلم کر سکتا ہے، اور اسے ناکردہ گناہ کی سزا کیونکر دے سکتا ہے؟ اور اگر دونوں سے صادر ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ اور بندہ گناہ کے ارتکاب میں برابر کے شریک ہوئے، اللہ تعالیٰ قوی ہے اور اس لائق ہے کہ اپنے ضعیف بندے سے منصفانہ برتاؤ کرے گا اور اگر بندہ گناہ کا مرتکب ہونے میں منفرد ہے تو مذمت و ملامت کا سزاوار بھی وہی ہو گا، اور ثواب و عقاب کا زیادہ مستحق بھی وہی ہو گا اور اسی کے لیے جنت یا جہنم واجب ہو گی۔ اس پر امام ابو حنیفہؒ نے یہ آیت پڑھی:
ذُرِّيَّةً بَعۡضُهَا مِنۡ بَعۡضٍ‌۞(سورۃ آل عمران: آیت، 34)
ترجمہ: ’’ایسی نسل جس کا بعض بعض سے ہے۔‘‘
(انتہیٰ کلام الرافضی)
جواب: اس سے کہا جائے گا کہ جو بات سنداً مذکور ہو ہم اسکی صحت سے آگاہ ہیں، جو بات شیعہ مصنف نے بیان کی ہے وہ قطعی طور پر جھوٹ ہے اس واقعہ کی کوئی قابلِ ذکر صحیح اور معروف اسناد نہیں پائی جاتی کیونکہ منقولات کی صحت جاننے کا مدار ان کی اسناد ثابتہ ہوتی ہیں۔ بالخصوص جب کسی باب میں کذب کی کثرت بھی ہو اور جب کسی واقعہ کا کذب ظاہر و باطن ہو تب تو اشکال ہی نہیں رہتا، کیونکہ جو لوگ امام صاحب اور ان کے مذہب سے واقف ہیں وہ جانتے ہیں کہ امام ابو حنیفہؒ تقدیر کے قائل ہیں اور انہوں نے ’’فقہ اکبر‘‘ (کتاب فقہ اکبر کے بارے میں بعض کم علم لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ امام ابو حنیفہؒ کی تالیف نہیں، بلکہ کسی اور ابو حنیفہ نامی آدمی نے لکھ کر امام صاحب کی طرف منسوب کر دی ہے۔ یہ بات ان کبار و قدیم علماء کے اقوال کے مخالف ہے جو اسے امام ابو حنیفہؒ کی تالیف لطیف تسلیم کرتے ہیں جیسے استاذ ابو منصور عبدالقاہر بغدادیؒ، فخر الاسلام علی البزدویؒ، و دیگر حضرات یہ امام شیخ الاسلام ابنِ تیمیہ رحمہ اللہ ہیں، جنہیں کتابوں کا ایک جامع احاطہ حاصل ہے آپ بھی اسی چیز کی صراحت کرتے ہیں جس کی صراحت متقدمین علماء نے کی ہے۔ حالانکہ استاذ ابو منصور رحمہ اللہ شافعی ہیں اور فخر الاسلام رحمہ اللہ حنفی اور ابنِ تیمیہ رحمہ اللہ حنبلی ہیں۔ استاذ ابو منصورؒ اپنی کتاب ’’التبصرۃ ‘‘میں فرماتے ہیں: ’’فقہاء میں سے سب سے پہلے جس ہستی نے معتزلہ کے عقائد کا بطلان ثابت کیا وہ حنفیہ کے امام امام ابو حنیفہؒ ہیں۔'‘ 
میں منکرین تقدیر کی تردید کی ہے اس کتاب میں امام صاحب نے جس تفصیل کے ساتھ قدریہ کا رد کیا ہے کسی اور کا نہیں کیا اور امام صاحب کے متبعین اس بات پر متفق ہیں کہ یہ ہی امام صاحب کا مذہب ہے اور یہی حنفیہ کا بھی مذہب ہے۔ اب فروع میں امام صاحب کی طرف کوئی شخص معتزلہ کے بارے میں امام صاحب کی بابت ایسی کوئی حکایت نقل نہیں کر سکتا۔ بلکہ یہ معتزلہ اور قدریہ آئمہ احناف کے نزدیک ان کا قول مفتی بہ ہوتا ہے۔ مذموم، معیوب، بدعتی اور اہل زیغ و ضلال ہیں۔ لہٰذا امام صاحب اس شخص کی تائید نہیں کر سکتے، جو یہ کہتا ہو کہ اللہ تعالیٰ نے بندوں کے افعال کو پیدا نہیں کیا مزید برآں امام موسیٰ بن جعفرؒ متقدمین شیعہ اور دیگر علماء اہلِ بیت تقدیر کے قائل تھے انکار تقدیر شیعہ میں اس وقت رائج ہوا جب وہ بنوبویہ (بنوبویہ نے ایران اور بلادِ مشرق کو تشیع کے جہنم میں جھونک دیا، یہ شیعہ کا پہلا دور تھا، دوسرے دور کا آغاز خدا بندہ نامی سلطان کے عہدِ حکومت سے ہوتا ہے، اسی بادشاہ کے لیے اس شیعہ مصنف نے یہ کتاب تصنیف کی جس کی تردید کے لیے شیخ الاسلام ابن تیمیہؒ کو قلم اٹھانا پڑا، شیعہ کا تیسرا دور ایران کے سلاطین صفویہ سے شروع ہوتا ہے۔) کے دور حکومت میں معتزلہ سے مل جل گئے، اس عقیدہ کا ان سے منقول ہونا ظاہر اور معروف ہے جبکہ خود قدماء شیعہ قدر و صفات کے اثبات پر متفق تھے بعد میں ان لوگوں میں قدریہ آ ملے تھے۔
شیعہ مصنف نے امام موسیٰ بن جعفرؒ سے جو قول نقل کیا ہے اس کے بیان کرنے والے زیادہ تر منکرین تقدیر کے کم سن لوگ اور بچے ہیں، یہ نظریہ قدریہ کے آغازِ ظہور اور امام موسیٰ کی ولادت سے بھی پہلے لوگوں میں معروف تھا کیونکہ موسیٰ بن جعفرؒ مدینہ میں 128ھ یا 129ھ میں دولت عباسیہ سے تقریباً تین برس پہلے پیدا ہوئے تھے اور انہوں نے بغداد میں 183ھ میں وفات پائی تھی۔ ابو حاتم کہتے ہیں: موسیٰ بن جعفرؒ ثقہ، صدوق اور آئمہ مسلمین میں سے ہیں اور قدریہ اس تاریخ سے قبل پیدا ہوئے ہیں یہ امر محتاجِ بیان نہیں کہ قدریہ نے اموی دور میں حضرت عبداللہ بن زبیرؓ اور عبدالملک بن مروانؒ کے عہدِ خلافت میں پرزے نکالنے شروع کئے، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ حکایت سراپا کذب ہے کیونکہ امام ابو حنیفہؒ جن سے ملے تھے وہ جعفر بن محمدؒ ہیں، رہے موسیٰ بن جعفرؒ تو وہ ان لوگوں میں سے نہ تھے کہ جن سے امام ابو حنیفہؒ سوال پوچھتے، اور نہ ان کے ساتھ کہیں جمع ہوئے۔ امام صاحب کے اقران و معاصرین میں سے تو جعفر بن محمدؒ تھے اور ابو حنیفہؒ بایں علمی شہرت کے ان سے علم لینے والے نہ تھے تب پھر بھلا وہ موسیٰ بن جعفرؒ سے کیونکر علم حاصل کرتے؟
پھر رافضی نے اس حکایت میں جو یہ قول نقل کیا ہے کہ ’’اللہ اس بات سے کہیں زیادہ عدل والا ہے کہ وہ اپنے بندے پر ظلم کرے اور اس کے نا کردہ پر اس کا مؤاخذہ کرے۔‘‘ کہ یہ قدریہ کے کلام کی اصل و اساس ہے جسے عوام و خواص سب جانتے ہیں۔ یہ ان کے مذہب کی اساس اور ان کا شعار ہے۔ اسی لیے یہ لوگ خود کو ’’عدلیہ‘‘ بھی کہلاتے ہیں۔ لہٰذا اگر تو اس حکایت کی موسیٰ بن جعفرؒ کی طرف نسبت درست ہے تو اس میں ان کی نہ کوئی فضیلت ہے اور نہ تعریف و مدح جبکہ قدریہ کے بچے بھی اس کو جانتے ہیں پھر اس وقت حال ہو گا جب یہ حکایت جھوٹی اور اختلافی ہو؟
دوسرا جواب: اس تقسیم کی بابت یہ ہے کہ یہ تقسیم حصری نہیں کیونکہ قائل کا یہ قول کہ:
صفحہ 1 از 6