روافض کی امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ پر دروغ گوئی گنہگار کون…

روافض کی امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ پر دروغ گوئی گنہگار کون ہے؟ عقیدہ اہلِ سنت پر رافضی الزام و شبہ کا رد

  امام ابن تیمیہ

صفحہ 2 از 6
"اَلْمَعْصِیَۃُ مِمَّنْ" ایک مجمل و مبہم لفظ ہے جو محتاجِ تشریح ہے۔ ظاہر ہے کہ معصیت ہو یا اطاعت و عبادت وہ ایک عرض (وہ چیز جو اپنے وجود میں کسی دوسری چیز کی محتاج ہو) ہے جو قائم بالغیر ہے اور ضروری طور پر اپنے قیام میں کسی محل کی محتاج ہے اور لامحالہ یہ بات بھی پوشیدہ نہیں کہ اس کا قیام بندے کے ساتھ ہے اللہ کے ساتھ نہیں، اور جو چیز بھی اللہ کی پیدا کردہ ہے اس کے متعلق یہ کہنا درست ہے کہ وہ اللہ کی طرف سے ہے، بایں معنیٰ کہ وہ اس کی پیدا کردہ ہے، مگر یہ الگ چیز ہے یہ مطلب نہیں کہ وہ اللہ کے ساتھ قائم ہے اور اللہ تعالیٰ اس سے موصوف ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
وَسَخَّرَ لَـكُمۡ مَّا فِى السَّمٰوٰتِ وَمَا فِى الۡاَرۡضِ جَمِيۡعًا مِّنۡهُ‌ اِنَّ فِىۡ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّقَوۡمٍ يَّتَفَكَّرُوۡنَ ۞(سورۃ الجاثية: آیت، 13)
ترجمہ: اور آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے ان سب کو اس نے اپنی طرف سے تمہارے کام میں لگا رکھا ہے۔ یقیناً اس میں ان لوگوں کے لیے بڑی نشانیاں ہیں جو غور و فکر سے کام لیں۔
دوسری جگہ ارشاد فرمایا:
وَمَا بِكُمۡ مِّنۡ نّـِعۡمَةٍ فَمِنَ اللّٰهِ‌۞(سورۃ النحل: آیت، 53)
ترجمہ: ’’تمہارے پاس جو بھی نعمت ہے وہ اللہ کی طرف سے ہے۔‘‘
اب اگرچہ رب تعالیٰ ہر چیز کا خالق ہے، اسی نے خیر و شر کو پیدا کیا ہے اور اس میں اس اعتبار سے حکمت ہے کہ اسکا فعل حسن اور متفق ہے۔ جیسا کہ ارشاد ہے:
الَّذِىۡۤ اَحۡسَنَ كُلَّ شَىۡءٍ خَلَقَهٗ‌ وَبَدَاَ خَلۡقَ الۡاِنۡسَانِ مِنۡ طِيۡنٍ‌ ۞(سورۃ السجدة: آیت، 7)
ترجمہ: جس نے اچھا بنایا ہر چیز کو جو اس نے پیدا کی اور انسان کی پیدائش تھوڑی سی مٹی سے شروع کی۔‘‘
اور فرمایا:
صُنۡعَ اللّٰهِ الَّذِىۡۤ اَتۡقَنَ كُلَّ شَىۡءٍ‌۞(سورة النمل: آیت، 88)
ترجمہ: ’’اس اللہ کی کاری گری سے جس نے ہر چیز کو مضبوط بنایا۔‘‘
اس لیے نرے شر کی اللہ کی طرف نسبت نہ کی جائے گی بلکہ یا تو اسے عموم میں داخل کر کے ذکر کریں گے یا سبب کی طرف مضاف کریں گے یا اس کے فاعل کو محذوف کر کے ذکر کریں گے۔ پہلی کی مثال: ارشاد ربانی ہے:
اَللّٰهُ خَالِقُ كُلِّ شَىۡءٍ‌۞(سورۃ: الزمر آیت، 62)
ترجمہ: ’’اللہ ہر چیز کو پیدا کرنے والا ہے۔‘‘
دوسری کی مثال:
قُلۡ اَعُوۡذُ بِرَبِّ الۡفَلَقِ ۞مِنۡ شَرِّ مَا خَلَقَ۞(سورة الفلق: آیت، 1،2)
ترجمہ: ’’تو کہہ میں مخلوق کے رب کی پناہ پکڑتا ہوں۔ اس چیز کے شر سے جو اس نے پیدا کی۔‘‘
تیسری کی مثال وہ ہے جو جن کی حکایت کے تحت ہے۔ارشاد ہے:
وَّاَنَّا لَا نَدۡرِىۡۤ اَشَرٌّ اُرِيۡدَ بِمَنۡ فِى الۡاَرۡضِ اَمۡ اَرَادَ بِهِمۡ رَبُّهُمۡ رَشَدًا ۞(سورۃ الجن: آیت، 10)
ترجمہ: ’’اور یہ کہ بے شک ہم نہیں جانتے کیا ان لوگوں کے ساتھ جو زمین میں ہیں، کسی برائی کا ارادہ کیا گیا ہے، یا ان کے رب نے ان کے ساتھ کسی بھلائی کا ارادہ فرمایا ہے۔‘‘
اور سورۂ فاتحہ میں ارشاد ہے:
اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَـقِيْمَ ۞صِرَاطَ الَّذِيۡنَ اَنۡعَمۡتَ عَلَيۡهِمۡ غَيۡرِ الۡمَغۡضُوۡبِ عَلَيۡهِمۡ وَلَا الضَّآلِّيۡنَ۞ (سورۃ الفاتحۃ: آیت، 5، 6)
ترجمہ: ’’ہمیں سیدھے راستے پر چلا ان لوگوں کے راستے پر جن پر تو نے انعام کیا، جن پر نہ غصہ کیا گیا اور نہ وہ گمراہ ہیں۔‘‘
پس اللہ نے ذکر کیا ہے کہ وہ فاعل نعمت ہے جبکہ فاعل غضب کو حذف کر دیا اور ضلالت کو ان کی طرف منسوب فرمایا اور حضرت ابراہیم (خلیل) علیہ السلام فرماتے ہیں:
وَاِذَا مَرِضۡتُ فَهُوَ يَشۡفِيۡنِ ۞(سورة الشعراء: آیت، 80) 
ترجمہ:’’اور جب میں بیمار ہوتا ہوں تو وہی مجھے شفا دیتا ہے۔‘‘
اس لیے جملہ اسمائے حسنیٰ اللہ ہی کے ہیں رب تعالیٰ نے اپنے وہ اسمائے حتیٰ رکھے ہیں جو سراسر خیر کو ہی مقتضی ہیں اور شر کو صرف مفعولات میں ذکر کیا جائے گا۔ جیسا کہ ارشاد ہے: 
اِعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اللّٰهَ شَدِيۡدُ الۡعِقَابِ وَاَنَّ اللّٰهَ غَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ ۞
(سورۃ المائدہ: آیت، 98) 
ترجمہ: ’’جان لو! بیشک اللہ بہت سخت عذاب والا ہے اور بیشک اللہ بے حد بخشنے والا، نہایت رحم والا ہے۔‘‘
اور سورة انعام کے آخر میں ارشاد ہے
 اِنَّ رَبَّكَ سَرِيۡعُ الۡعِقَابِ وَ اِنَّهٗ لَـغَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ ۞(سورة الانعام: آیت، 165) 
ترجمہ: ’’بے شک تیرا رب بہت جلد سزا دینے والا ہے اور بے شک و بے حد بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘
اور سورة الاعراف میں ارشاد ہے:
اِنَّ رَبَّكَ لَسَرِيۡعُ الۡعِقَابِ ‌وَاِنَّهٗ لَـغَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ ۞(سورة الاعراف: آیت، 167) 
ترجمہ: ’’بے شک تیرا رب یقیناً بہت جلد سزا دینے والا ہے اور بے شک وہ بے حد بخشنے والا رحم والا ہے۔‘‘
اور فرمایا:
نَبِّئۡ عِبَادِىۡۤ اَنِّىۡۤ اَنَا الۡغَفُوۡرُ الرَّحِيۡمُ۞وَاَنَّ عَذَابِىۡ هُوَ الۡعَذَابُ الۡاَلِيۡمُ ۞(سورة الحجر: آیت، 49، 50) 
ترجمہ: میرے بندوں کو خبر دے دے کہ بے شک میں ہی بے حد بخشنے والا، نہایت رحم والا ہوں۔ اور یہ بھی کہ بے شک میرا عذاب ہی دردناک عذاب ہے۔‘‘
اور فرمایا:
حٰمٓ‌۞ تَنۡزِيۡلُ الۡكِتٰبِ مِنَ اللّٰهِ الۡعَزِيۡزِ الۡعَلِيۡمِ ۞غَافِرِ الذَّنۡبِ وَقَابِلِ التَّوۡبِ شَدِيۡدِ الۡعِقَابِ ذِى الطَّوۡلِ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ اِلَيۡهِ الۡمَصِيۡرُ ۞(سورة غافر: آیت، 1تا3) 
ترجمہ: ’حٓمٓ اس کتاب کا اتارنا اللہ کی طرف سے ہے، جو سب پر غالب، ہر چیز کو جاننے والا ہے۔ گناہ بخشنے والا اور توبہ قبول کرنے والا، بہت سخت سزا والا، بڑے فضل والا، اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔‘‘
یہ اس لیے کہ وہ امور جن میں بعض بندوں کے اعتبار سے شر ہوتا ہے رب تعالیٰ کی ان کے پیدا کرنے میں ایک حکمت ہوتی ہے وہ ان کو پیدا کر کے بھی حمید و مجید ہے اسی کی بادشاہی اور اسی کی تعریف ہے اور اس کی طرف نسبت کے اعتبار سے یہ امور شر نہیں ہیں اور نہ مذموم ہی ہیں سو اس کی طرف ایسی کسی بات کی نسبت نہ کی جائے گی جو اس کی نقیض سمجھی جائے۔ جیسا کہ رب تعالیٰ بیماریوں، تکلیفوں، ناگوار ہواؤں، بدبوؤں، بدصورتوں، خبیث اجسام وغیرہ کا خالق ہے جیسے سانپ، بچھو، غلاظتیں اور نجاستیں وغیرہ کیونکہ اس کی اس میں زبردست حکمت ہے۔
صفحہ 2 از 6