روافض کی امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ پر دروغ گوئی گنہگار کون…

روافض کی امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ پر دروغ گوئی گنہگار کون ہے؟ عقیدہ اہلِ سنت پر رافضی الزام و شبہ کا رد

  امام ابن تیمیہ

صفحہ 3 از 6
پس جب یہ کہا جائے گا کہ یہ ناگوار ہوائیں اور گندگیاں اللہ کی طرف سے ہیں وہ اس بات کا وہم ڈالتا ہے کہ شاید یہ ناگوار بدبوئیں اللہ سے نکلی ہیں حالانکہ اللہ اس بات سے برَی ہے۔ اسی طرح جب یہ کہا جائے گا کہ قبائح یا معاصی اللہ کی طرف سے ہیں کہ اس سے کبھی اس بات کا وہم ہوتا ہے کہ یہ باتیں اللہ کی ذات سے نکلی ہیں جیسا کہ بندے کی ذات سے نکلتے ہیں جیسا کہ متکلم کی ذات سے کلام نکلتا ہے حالانکہ اللہ کی ذات اس سے منزہ ہے یا اس سے اس بات کا وہم ہوتا ہے کہ یہ گندی چیزیں اس سے قبیح اور بَری ہیں۔ حالانکہ وہ اس سے بَری ہے بلکہ تفویض اور تعلیل دونوں اقوال کی رو سے رب تعالیٰ کی ہر آفرینش حسن ہی حسن ہے اسی طرح ذائقوں، رنگوں اور بوؤں کے بارے میں جب یہ کہا جاتا ہے کہ یہ میٹھا یا کڑوا ذائقہ اللہ کی طرف سے ہے یا اس بوٹی سے ہے یا یہ اچھی یا بری بو اللہ کی طرف سے ہے یا فلاں عین سے ہے اس طرح کی اور بھی متعدد مثالیں ہیں اور کبھی جب یہ کہا جائے گا کہ ’’یہ اللہ کی طرف سے ہے،‘‘ تو اس بات کا بھی وہم ہوتا ہے کہ شاید اللہ نے اس کا حکم دیا ہے۔ حالانکہ نہ تو فحش بات کاحکم دیتا ہے اور نہ فساد کو پسند کرتا ہے اور نہ ہی اپنے بندوں سے کفر پر راضی ہوتا ہے۔‘‘
یہ حضرتِ ابن مسعودؓ کے اس قول کے مثل ہے جب ان سے مفوضہ کے بارے میں پوچھا گیا تو آپؓ نے فرمایا: ’’میں ان کے بارے میں اپنی رائے سے کہوں گا۔ اگر تو یہ رائے درست ہوئی تو اللہ کی طرف سے ہو گی اور اگر یہ رائے خطا ہو گی تو میرے اور شیطان کی طرف سے ہو گی اور اللہ اور اس کا رسول اللہﷺ دونوں اس سے بَری ہوں گے۔‘‘
اسی طرح حضرت ابوبکر صدیقؓ نے بھی علامہ کے بارے میں کہا تھا اور ایسا ہی حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے بھی کہا تھا۔
ان لوگوں کی مراد یہ تھی کہ درستگی کا کبھی رب تعالیٰ نے امر کیا ہوتا ہے، اور اسے مشروع کیا ہوتا ہے اور اسے پسند ہوتی ہے اور وہ اس سے راضی ہوتا ہے۔ جبکہ شر کا نہ تو اس نے امر دیا ہوتا ہے، نہ اسے محبوب ہوتی ہے اور نہ اس نےخطا کو مشروع کیا ہوتا ہے بلکہ یہ تزیینِ نفس اور تزیینِ شیطان سے ہوتی ہے جو بندہ شیطان کے امر سے کرتا ہے یہی مطلب ہے اسبات کا کہ وہ مجھ سے اور شیطان سے ہو گی۔ تب بھی اس کے متعدد جوابات ہیں:
 اول: یہ کہا جائے کہ اعمال، اقوال، طاعات اور معاصی سب بندے سے ہیں بایں معنیٰ کہ وہ بندے کے ساتھ قائم ہیں اور اس کی قدرت و مشیت سے حاصل ہیں وہ ان سے متصف بھی ہے اور متحرک بھی، جن کا حکم اس کی طرف لوٹتا ہے کیونکہ بسا اوقات محل کے ساتھ متصف شے کے بارے میں یہ بھی کہہ دیا کرتے ہیں کہ یہ اس محل سے نکلی ہے چاہے اس کو اس کا اختیار نہ بھی ہو جیسا کہ کہتے ہیں: یہ ہوا فلاں خطے کی ہے، یہ پھل فلاں درخت کا ہے، یہ غلہ فلاں کھیت کا ہے، تو جو کسی زندہ بااختیار سے صادر ہو، اسے بدرجہ اول یہ کہنا جائز ہوگا کہ یہ شے فلاں سے ہے اور وہ اللہ سے ہے، بایں معنیٰ کہ اس نے اسے پیدا کیا ہے اس حال میں کہ وہ اس کے غیر سے قائم ہے اور اس نے ان چیزوں کو بندے کا عمل، کسب اور صفت ٹھہرایا ہے۔
اس نے ان کو اپنی مشیت اور قدرت سے اس بات کے واسطے سے پیدا کیا ہے کہ اس نے بندے کی قدرت و مشیت کو پیدا کیا جیسا کہ وہ مسببات کو ان کے اسباب کے ذریعے پیدا کرتا ہے۔ پس وہ بادلوں کو ہواؤں سے، اور بارش کو بادلوں سے اور نباتات کو بارش سے پیدا کرتا ہے۔
حوادث کی ان کے خالق کی طرف نسبت ایک اعتبار سے ہوتی ہے۔ جبکہ ان کے اسباب کی طرف نسبت ایک دوسرے اعتبار سے ہوتی ہے۔ پس یہ اللہ کی طرف سے اس اعتبار سے ہیں کہ یہ اللہ کی مخلوق ہیں جو اس کے غیر میں پیدا کی گئی ہیں اور جیسا کہ مخلوقات کی جملہ حرکات و صفات اس سے ہیں جبکہ بندے اس کی صفتِ قائمہ ہونے کے اعتبار سے ہیں۔ جیسا کہ حرکت کا صدور اس متحرک سے ہوتا ہے جو اس حرکت سے متصف ہو چاہے وہ جماد ہی ہو۔ پس اس وقت کیا ہو گا جب وہ متحرک حیوان ہو؟
تب بھی اضافت کی جہت کے مختلف ہونے کی وجہ سے بندے اور رب کے درمیان کوئی شرکت نہیں۔ جیسا کہ ہم جب یہ کہتے ہیں کہ یہ فلاں عورت سے ہے تو یہ اس اعتبار سے ہے کہ اس عورت نے اسے جنا ہے اور یہ اللہ کی طرف سے ہے، تو یہ اس اعتبار سے ہے کہ اسے اللہ نے پیدا کیا ہے کہ دونوں نسبتوں میں کوئی تناقض نہیں۔ لہٰذا جب ہم یہ کہتے ہیں کہ یہ پھل درخت کا ہے اور یہ غلہ کھیت کا ہے تو یہ بایں معنیٰ ہوتا ہے کہ ان کا اس میں حدوث ہوا ہے اور یہ اللہ کی طرف سے ہے بایں معنیٰ ہوتا ہے کہ اس نے اس پھل اور کھیتی کو پیدا کیا ہے کہ ان دونوں باتوں میں کوئی تناقض نہیں۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
اَمۡ خُلِقُوۡا مِنۡ غَيۡرِ شَىۡءٍ اَمۡ هُمُ الۡخٰلِقُوۡنَ ۞
ترجمہ: ’’یا وہ کسی چیز کے بغیر ہی پیدا ہو گئے ہیں، یا وہ (خود) پیدا کرنے والے ہیں؟‘‘
اس کی مشہور تفسیر ’’ام خلقو من غیر رب‘‘ ہے۔ جبکہ ایک تفسیر ’’ام خلقوا من غیر عنصر‘‘ بھی ہے۔
اس طرح موسیٰ علیہ السلام کے ہاتھوں جب ایک قبطی مارا گیا تو انہوں نے یہ کہا تھا:
 هٰذَا مِنۡ عَمَلِ الشَّيۡطٰنِ‌ ۞( سورۃ القصص: آیت، 15)
’’کہا یہ شیطان کے کام سے ہے۔‘‘
اور فرمایا:
مَاۤ اَصَابَكَ مِنۡ حَسَنَةٍ فَمِنَ اللّٰهِ‌ وَمَاۤ اَصَابَكَ مِنۡ سَيِّئَةٍ فَمِنۡ نَّـفۡسِكَ‌۞(سورۃ النساء: آیت، 79)
ترجمہ: ’’جو بھلائی تجھے پہنچے وہ اللہ کی طرف سے ہے اور جو برائی تجھے پہنچے وہ تیرے نفس کی طرف سے ۔‘‘
اسی کے ساتھ اس سے قبل یہ ارشاد بھی پڑھیے:
قُلۡ كُلٌّ مِّنۡ عِنۡدِ اللّٰهِ‌۞(سورۃ النساء: آیت، 78)
ترجمہ: کہہ دے سب اللہ کی طرف سے ہے۔
سو یہاں پرحسنات و سئیات سے مراد نعمتیں اور مصائب ہیں۔ اسی لیے فرمایا:
’’مَآ اَصَابَکَ‘‘ اور یہ نہیں فرمایا کہ "مااصبت"
جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
اِنۡ تَمۡسَسۡكُمۡ حَسَنَةٌ تَسُؤۡهُمۡ وَاِنۡ تُصِبۡكُمۡ سَيِّئَةٌ يَّفۡرَحُوۡا بِهَا۞ (سورۃ آل عمران: آیت، 120)
ترجمہ: ’’اگر تمھیں کوئی بھلائی پہنچے تو انھیں بری لگتی ہے اور اگر تمھیں کوئی تکلیف پہنچے تو اس پر خوش ہوتے ہیں ۔‘‘
اور فرمان الہٰی ہے:
صفحہ 3 از 6