روافض کی امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ پر دروغ گوئی گنہگار کون…

روافض کی امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ پر دروغ گوئی گنہگار کون ہے؟ عقیدہ اہلِ سنت پر رافضی الزام و شبہ کا رد

  امام ابن تیمیہ

صفحہ 4 از 6
اِنۡ تُصِبۡكَ حَسَنَةٌ تَسُؤۡهُمۡ‌ وَاِنۡ تُصِبۡكَ مُصِيۡبَةٌ يَّقُوۡلُوۡا قَدۡ اَخَذۡنَاۤ اَمۡرَنَا مِنۡ قَبۡلُ وَيَتَوَلَّوْا وَّهُمۡ فَرِحُوۡنَ ۞(سورة التوبة: آیت، 50)
ترجمہ: ’اگر تجھے کوئی بھلائی پہنچے تو انھیں بری لگتی ہے اور اگر تجھے کوئی مصیبت پہنچے تو کہتے ہیں ہم نے تو پہلے ہی اپنا بچاؤ کر لیا تھا اور اس حال میں پھرتے ہیں کہ وہ بہت خوش ہوتے ہیں ۔‘‘
رب تعالیٰ نے بیان فرمایا ہے کہ نعمتیں اور مصائب اس کی طرف سے ہیں ۔ پس نعمت تو ابتداء سے ہی اللہ کی طرف سے ہے جبکہ مصیبت نفسِ انسانی سے کسی سبب سے ہوتی ہے اور وہ اس کے گناہ ہیں۔ جیسا کہ ایک دوسری آیت ارشادہے:
وَمَاۤ اَصَابَكُمۡ مِّنۡ مُّصِيۡبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتۡ اَيۡدِيۡكُمۡ وَيَعۡفُوۡا عَنۡ كَثِيۡرٍ ۞(سورۃ الشورى: آیت، 30)
ترجمہ: ’’اور جو بھی تمھیں کوئی مصیبت پہنچی تو وہ اس کی وجہ سے ہے جو تمھارے ہاتھوں نے کمایا اور وہ بہت سی چیزوں سے در گزر کر جاتا ہے۔‘‘
ایک دوسری جگہ ارشاد ہے:  
اَوَلَمَّاۤ اَصَابَتۡكُمۡ مُّصِيۡبَةٌ قَدۡ اَصَبۡتُمۡ مِّثۡلَيۡهَا قُلۡتُمۡ اَنّٰى هٰذَا‌ قُلۡ هُوَ مِنۡ عِنۡدِ اَنۡفُسِكُمۡ ۞(سورۃ آل عمران: آیت، 165)
ترجمہ: ’’اور کیا جب تمھیں ایک مصیبت پہنچی کہ یقیناً اس سے دگنی تم پہنچا چکے تھے تو تم نے کہا یہ کیسے ہوا؟ کہہ دے یہ تمھاری اپنی طرف سے ہے۔‘‘
وہ اس لیے کہ وہ محسنِ عدل ہے۔ اس سے ملنے والی ہر نعمت اس کا فضل ہے اور اس کی ہر نعمت اس کا عدل ہے اور وہ بندے پر اس کی طرف سے بنا کسی سبب کے فضل و احسان کر کے محسن ہے۔ جبکہ بدون گناہ کے وہ عقاب نہیں کرتا۔ اگرچہ اس نے ان سب افعال کو اپنی حکمت کے تحت پیدا کیا ہے۔ بے شک وہ حکیم عادل ہے اشیاء کو ان کے مواقع پر رکھتا ہے اور کسی پر ظلم نہیں کرتا۔
پھر جب غیر خدا اپنے نوکر کو اس کی زیادتی پر سزا دے سکتا ہے، چاہے وہ اس بات کا مقر بھی ہو کہ بندوں کے افعال کا خالق اللہ ہے اور یہ اس کی طرف سے ظلم بھی نہیں مقصود ہوتا۔ تو رب تعالیٰ اس بات کا بدرجہ اولیٰ مستحق ہے کہ گناہ پر سزا دینے میں وہ ظالم نہ ہو تو جب انسان ایک مقتضائے حکمت مصلحت کو کر سکتا ہے جو کسی حیوان کو تعذیب دیے بغیر حاصل نہ ہوتی ہو (جیسے جانور کو گوشت کھانے کے لیے ذبح کرنا) اور وہ ایسا کر کے بھی ظالم نہ کہلائے تو ایسی تعذیب رب تعالیٰ سے بدرجہ اولیٰ ظلم نہ ہو گی۔
دوم:  یہ کہا جائے کہ یہ افعال اللہ کی طرف سے بایں معنیٰ ہیں کہ اس نے ان کو اپنے غیر میں پیدا کیا ہے اور انہیں اپنے غیر کا فعل قرار دیا ہے اور یہ بندے کی طرف سے بایں معنیٰ ہیں کہ یہ اس کا فعل اس کی ذات کے ساتھ قائم اور اس کا کسب ہیں جن کے ذریعے وہ جلبِ منفعت اور دفعِ مضرت کا کام لیتا ہے اور بندے کا یہ اعتبار کہ وہ فعل اس کے ساتھ قائم ہے اور اس کے ضرر و انتفاع کا حکم خاص اسی کی طرف لوٹتا ہے کہ یہ ایسا اعتبار ہے جو اللہ کے شایانِ شان نہیں۔ کیونکہ بندوں کے افعال رب تعالیٰ کی ذات کے ساتھ قائم نہیں ہوتے اور نہ وہ ان افعال سے متصف ہوتا ہے اور نہ ان کے وہ احکام ہی اس کی طرف لوٹتے ہیں جو اپنے موصوفات کی طرف لوٹتے ہیں۔
رب تعالیٰ کا یہ اعتبار کہ اس نے ان افعال کو پیدا کیا اور ان کو اپنے غیر کا، ان میں قدرت، مشیت اور فعل کو پیدا کر کے فعل بنایا ہے، ایسا اعتبار ہے جو بندہ کے لائق نہیں کہ ان باتوں پر سوائے اللہ کے کسی کو قدرت نہیں۔ اس لیے اکثر مثبتین قدر کا قول ہے: کہ بندے کے افعال رب تعالیٰ کی مخلوق ہیں اور بندے کا فعل ہیں۔
جب یہ کہا جاتا ہے کہ وہ اللہ کا فعل ہیں تو مراد اللہ کا مفعول ہونا ہوتا ہے نا یہ کہ یہ وہ فعل ہے جو مصدر کا مسمی ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو خلق اور مخلوق میں فرق کرتے ہیں یہ اکثر آئمہ کا قول ہے اور یہ قاضی ابو یعلیٰؒ کے دو اقوال میں سے آخری قول ہے اور یہی امام احمدؒ کے اکثر اصحاب کا قول ہے اور یہی قاضی ابو یعلیٰؒ کے دو بیٹوں قاضی ابوحازمؒ اور قاضی ابو الحسینؒ وغیرہ کا قول ہے۔
سوم: قائل کا قول کہ: ’’اللہ اس بات سے کہیں زیادہ عادل ہے کہ وہ اپنے بندے پر ظلم کرے اور اس کا ناکردہ فعل پر مواخذہ کرے۔‘‘ سو ہم اس کے موجب کا قول کرتے ہیں کہ نہ تو اللہ نے اپنے بندے پر ظلم کیا ہے اور نہ کسی ناکردہ فعل پر اس کی گرفت کی ہے۔ سوائے اس فعل کے جو بندہ اپنے اختیار اور قوت کے ساتھ کرتا ہے نا کہ اس پر جو دوسری مخلوق نے کیا ہے۔
رہا رب تعالیٰ کا ہر شی کا خالق ہونا تو یہ بندے کے ظلم پر ملوم (ملامت زدہ) ہونے کو مانع نہیں، جیسا کہ دوسری مخلوقات اس کے ظلم و عدوان پر اسے ملامت کرتی ہیں حالانکہ وہ اس بات کا بھی اقرار کرتے ہیں کہ رب تعالیٰ بندے کے افعال کا خالق ہے۔
اب جمہور امتیں تقدیر کا اقرار کرتی ہیں اور مانتی ہیں کہ اللہ ہر شے کا خالق ہے اور اس کے باوجود وہ ظالموں کی مذمت بھی کرتی ہیں اور ان کے ظلم و عدوان کو دفع کرنے کے لیے ان پر عقاب بھی کرتی ہیں جیسا کہ وہ اس بات کا بھی اعتقاد رکھتے ہیں اللہ مضر حیوانات و نباتات کا بھی خالق ہے اور وہ اس اقرار کے ہوتے ہوئے بھی ان نباتات وغیرہ کے ضر و شر کو دور کرنے کی کوشش کرتے ہیں پھر سب کا اس بات پر بھی اتفاق ہے کہ کاذب و ظالم اپنے ظلم و کذب کی وجہ سے مذموم ہے اور یہ اس میں ایک برا وصف ہے اور یہ کہ ظلم و کذب سے متصف نفس خبیث اور ظالم ہوتا ہے جو کسی ایسے اکرام کا مستحق نہیں ہوتا جو اہلِ صدق و عدل کے مناسب ہو۔ اگرچہ وہ اس بات کا بھی اقرار کرتے ہیں کہ یہ سب مخلوق ہے۔
صفحہ 4 از 6