معاویہ (رضی اللہ عنہ) نے سنت بد ایجاد کی، قوت اور رشوت کے ذریعے بیعت لی۔ (امامت عظمیٰ)
مولانا ابوالحسن ہزارویمعاویہ (رضی اللہ عنہ) نے سنت بد ایجاد کی، قوت اور رشوت کے ذریعے بیعت لی۔ (امامت عظمیٰ)
الجواب اہلسنّت
حضرت مولانامحمد نافع رحمہ فرماتے ہیں:
طعن اور دفع طعن کے باب میں ضابطہ یہ ہے کہ اگر کسی صحیح روایت سے طعن پیش کیا جائے جو اصول روایات کے اعتبار سے قابل قبول ہو تو اس کا ازالہ کیا جائے گا اور جس طعن کی روایت قواعد فن کے اعتبار سے قابل رد اور نا قابل اعتماد ہو اس
سے پیدا کردہ الزام قابل سماعت نہیں ہوتا اور حسب قاعدہ اس کا جواب دینا ہمارے ذمہ نہیں۔ چنانچہ اکابر علماء فرماتے ہیں کہ فترد كل من روايات التاريخ ما يعود فيها على شين و عيب في بعض اصحاب الرسول صلى الله عليه وسلم-
(احکام القرآن از مفتی محمد شفیع جلد 4 صفحہ 273
تحت بحث خاتمہ الکلام فی مشاجرات الصحابہ ) .
یعنی وہ تاریخی روایات جن سے بعض صحابہ کرام رضی اللہ عنہ پر عیب اور طعن پیدا کیا گیا ہے وہ روایات قابل رد اور قبول کرنے کے لائق نہیں۔
مزیدبرآں یہ چیز علماء کرام نے موقعہ میں تو ویسے ہی ذکر کر دی ہے کہ جو روایات خلاف عقل ہوں اور اصول شرعی سے معارض ہوں ان کے متعلق یقین کر لینا کہ وہ بے اصل ہیں ان کے رواة کا کوئی اعتبار نہیں۔ دوسری صورت یہ ہے کہ جو روایات حس اور مشاہدات کے خلاف پائی جائیں اور کتاب و سنت کی نصوص متواترہ سے متبائن ہوں اور اجماع قطعی کے خلاف ہو تو ایسی روایت بھی قبول نہیں کی جاتی چنانچہ علامہ سخاوی رحمہ اللہ کے فرمان کا حاصل یہ ہے کہ ہر وہ روایت جو عقل کے خلاف اور اصول (دین) کے مقابل ہو تو اچھی طرح جان لو کہ وہ موضوع (من گھڑت) ہے اس کا کوئی اعتبار نہیں ایسے ہی جو خلاف مشاہدہ اور کتاب و سنت و اجماع امت کے مقابل ہو تو وہ بھی مردود ہے۔
(فتح المغیث شرافيہ الحديث للعراتی از علامہ السخاوی صفحہ مسلم 249 جلد1)
حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں افتراء اور الزامات پر مشتمل روایات کے بارے میں علمائے امت نے نام لے کر تصريح فرمائی ہے کہ وہ جھوٹ کا پلندہ ہیں اور کچھ نہیں چنانچہ علامہ ابن قیم رحمہ اللہ نے المنار میں لکھا ہے۔
و من ذالك الأحاديث في ذم معاوية رضي الله عنه و كل حديث في ذمه فهو كذب.
(المنار المنیف فی الصحيح والضعيف لابن قیم صفحہ 117)
کہ وہ تمام احادیث و روایات جو حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی مذمت میں پیش کی جاتی ہیں وہ کذب محض ہیں۔
(از سیرت معاویہ جلد صفحہ 27)
ان گزارشات سے یہ بات واضح ہوگئی کہ مصر کے ادیب ہوں یا پاکستان کے قلمکار و صحافی اور سکالر، جو تاریخ کی گھسی پٹی کہانیاں چُن چُن کر کاغذ سیاہ کرتے اور سیاہ لباس کی بہتات میں انعام پاتے ہیں وہ نہ تو اہل سنت کے نمائندہ ہیں اور نہ ہی قابل اعتماد شخصیتیں۔ ایسے لوگوں کی باتوں کا اہلسنّت کے نزدیک اتنا بھی وزن نہیں جتنا کہ بی بی سی کی خبروں کا ہوتا ہے۔ لہٰذا الزام میں صحافت و قلم کی قیمت وصول کرنے والوں کی تحریریں لانا انصاف کا خون کرنا ہے۔