تیسرا مبحث صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور دیگر…

تیسرا مبحث صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور دیگر علمائے امت رحمہم اللہ کی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے لیے مدح و ثنا

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 2

5۔ سیدنا اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو مخاطب کرتے ہوئے کہا:

’’اللہ تعالیٰ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو اچھا بدلہ دے، پس اللہ کی قسم! جب بھی آپ پر کوئی مصیبت آئی اللہ تعالیٰ نے اس میں سے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے لیے نکلنے کا راستہ بنا دیا اور مسلمانوں کے لیے اسے بابرکت بنا دیا۔‘‘

(صحیح بخاری: حدیث نمبر 3773۔ صحیح مسلم: حدیث نمبر 367)

ایک روایت میں ہے سیدنا اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ نے کہا:

’’اے آل ابی بکر! تمہاری یہ پہلی برکت تو نہیں ہے۔‘‘

(صحیح بخاری: حدیث نمبر 334 ۔ صحیح مسلم:  حدیث نمبر 367)

6۔ سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے روبرو کہا اور وہ خاموش رہے:

’’آپ رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبوبہ سے کیا چاہتے ہیں؟ آپ ام المؤمنیؓن سے کیا چاہتے ہیں؟ اور میں گواہی دیتا ہوں کہ وہ جنت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی ہوں گی۔‘‘

(فضائل الصحابۃ للامام احمد: جلد 2 صفحہ 868)

نیز انھوں نے کہا:

’’بے شک وہ دنیا و آخرت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی ہیں۔‘‘

(صحیح بخاری: 3772)

سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کے پاس کسی آدمی نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے متعلق بری بات کی تو عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ نے کہا:

’’اے قبیح و مردود! کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبوبہ کو اذیت پہنچاتا ہے۔‘‘

(سنن ترمذی' حدیث نمبر3888۔ امام ترمذی رحمہ اللہ نے اسے حسن کہا اور علامہ البانی رحمہ اللہ نے ضعیف سنن ترمذی: حدیث نمبر 3888 میں اسے ضعیف کہا ہے)

7۔ سیدنا حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی شان میں ایک قصیدہ کہا جس کے دو اشعار یہاں نقل کیے جاتے ہیں اور مکمل قصیدہ آگے آ رہا ہے:

حَصَّانُ رَزَّانٌ مَا تُزَنُّ بِرِیْبَۃٍ

وَ تُصْبِحُ غَرْثٰی مِنْ لُّحُوْمِ الْغَوَافِلِ

مُہَذَّبَۃٌ قَدْ طَیَّبَ اللّٰہُ خِیَمَہَا

وَ طَہَّرَہَا مِنْ کُلِّ سُوْئٍ وَ بَاطِلٍ

’’تہذیب یافتہ میں اللہ تعالیٰ نے اس کی جبلت کو پاکیزہ بنایا ہے اور اسے ہر برائی اور باطل سے پاک کر دیا ہے۔‘‘

8۔ سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما جب بھی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے حدیث روایت کرتے وہ کہتے:

’’اللہ کی قسم! سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر کبھی جھوٹ نہیں بولتیں۔‘‘

(الطبقات الکبری لابن سعد: جلد 8 صفحہ 69)

9۔ سیدنا ابو ایوب انصاری (خالد بن زید بن کلیب ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ۔ ہجرت مدینہ کے وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں بنونجار میں سے اپنی میزبانی کا شرف بخشا۔ یہ عقبہ ثانیہ اور بدر سمیت تمام غزوات میں شریک رہے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے انھیں بصرہ کا والی بنایا اور انھیں کے ساتھ وہ خوارج کے خلاف معرکوں میں بھی شریک رہے۔ یزید بن معاویہ رحمہ اللہ کی قیادت میں یہ غزوہ قسطنطنیہ میں شریک ہوئی اور 50 ہجری میں وہیں شہید ہوئے اور قلعہ کی فصیل کے باہر دفن ہوئے۔ (سیر اعلام النبلاء للذہبی: جلد 2 صفحہ 402۔ الاصابۃ لابن حجر: جلد 2 صفحہ 234۔)  رضی اللہ عنہ :

ام ایوب رضی اللہ عنہا نے اپنے خاوند ابو ایوب رضی اللہ عنہ سے کہا:

’’اے ابو ایوب! کیا تم نے وہ باتیں نہیں سنیں جو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے متعلق لوگ کہتے ہیں؟ انھوں نے کہا: ہاں سنی ہیں اور یہ جھوٹ ہے، اے ام ایوب! کیا تم یہ کام کر سکتی ہو۔ اس نے کہا: نہیں۔ اللہ کی قسم! میں یہ کام نہیں کر سکتی۔ ابو ایوب رضی اللہ عنہ نے کہا۔ پس عائشہ، اللہ کی قسم! تم سے بہت بہتر ہے۔‘‘

(تفسیر ابن ابی حاتم: جلد 8 صفحہ 2546۔ تاریخ: دمشق لابن عساکر: جلد 16 صفحہ 48)


صفحہ 2 از 2