آیت مودت - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

آیت مودت

  مولانا اللہ یار خانؒ

صفحہ 1 از 5

آیتِ مَوَدت

 قُل لَّا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا إِلَّا الْمَوَدَّةَ فِی الْقُرْبَىٰ الخ۔(سورۃ الشوریٰ آیت نمبر 23)۔ 

یہ جملہ سورۃ شوریٰ کی آیت کا حصہ ہے اس کی تفسیر امام بخاریؒ حب الامت ترجمان القران امام المفسرین سیدنا عبداللہ بن عباسؓ سے یوں بیان کی ہے سلسلہ سند بیان کرتے ہیں:

حدثنا محمد بن بشار حدثنا محمد بن جعفر حدثنا شعبة عن عبدالملك بن ميسرة قال: سمعت طاوسا عن ابنِ عباسؓ انه سئل أن قوله إلا المودة فی القربیٰ فقال سعيد بن جبير: قربیٰ آل محمدﷺ فقال ابنِ عباسؓ: اجلت عن النبیﷺ لم يكن بطن من قريش إلا كان له فيهم قرابة، فقال: إلا ان تصلوا ما بينی وبينكم فی القرابة۔ (بخاری کتاب التفسیر)۔

ترجمہ: ان سے إلا المودة فی القربیٰ کا مطلب پوچھا گیا تو سیدنا سعید بن جبیرؓ نے کہا قرابت آلِ محمدﷺ کی مراد ہے یا رسول اللہﷺ تو سیدنا ابنِ عباسؓ نے فرمایا تم نے جواب میں جلدی کی اصل بات یہ ہے کہ رسول اللہﷺ کی قریش کے قبیلے سے قرابت تھی اس لیے فرمایا کہ میرے اور تمہارے درمیان جو قرابت ہے صلہ رحمی کے پیش نظر اس کا لحاظ کرو۔

ظاہر ہے کہ سیدنا سعید بن جبیرؓ نے اپنے مبہم سے قول کے جواب میں سیدنا ابنِ عباسؓ کا جو تفصیلی اور مدلل بیان سنا تو خاموش ہو گئے ان کا سکوت ہی سیدنا ابنِ عباسؓ کی تائید کی دلیل ہے لہٰذا آیت کا حقیقی مفہوم یہی ہے جو حب امت نے فرمایا۔

حافظ عماد الدین ابنِ کثیر اپنی مشہور تفسیر میں فرماتے ہیں:

وقوله عزوجل: قل لا أسألكم عليه أجرا إلا المودة فی القربیٰ أی: قل يا محمدﷺ لهؤلاء المشركين من كفار قريش: لا أسألكم على هذا البلاغ والنصح لكم ما لا تعطونيه وإنما أطلب منكم أن تكفروا اشرّكم عنی وتذرونی أبلغ رسالات ربی إن لم تنصرونی فلا تؤذونی بما بينی وبينكم من القرابة۔

ترجمہ: آیت کا مطلب یہ ہے کہ محمدﷺ ان مشرکین قریش سے کہیے کہ میں تم سے اس تبلیغ اور نصیحت کے بدلے کوئی مال طلب نہیں کرتا بلکہ یہ کہتا ہوں کہ شر و فساد سے ہاتھ روکو اور مجھے میرے حال پر چھوڑو کہ اپنے رب کے پیغام پہنچاتا رہوں اس کام میں اگر تم میری مدد نہیں کر سکتے تو نہ کرو مگر مجھے ایذا نہ دو میرے تمہارے درمیان جو قرابت کا تعلق ہے اس کا لحاظ کرو۔

اس کے ساتھ ہی یہ بھی وضاحت کر دی کہ یہ سورت مکّی ہے جب یہ مکہ میں نازل ہوئی تو وہاں وہ آلِ رسول کہاں تھی جو اس سے بعض لوگ مراد لیتے ہیں سیدہ فاطمہؓ کا نکاح نہ سیدنا علیؓ سے ہوا نہ سیدنا حسنؓ و سیدنا حسینؓ وجود میں آئے تو رسول اللہﷺ قریشِ مکہ سے کن قربیٰ کی مَوَدت کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

پھر آگے لکھتے ہیں کہ صحیح تفسیر اس آیت کی وہی ہے جو حب الامت ترجمان القران سیدنا عبداللہ بن عباسؓ نے بیان کی ہے جیسا کہ امام بخاریؒ نے روایت کیا ہے پھر فرماتے ہیں:

قال ابنِ ابی حاتم حدثنا علی ابنِ حسین حدثنا رجل سماہ حدثنا حسین الاشقر عن قیس عن الاعمش عن سعید بن جبیرؓ عن ابن عباسؓ لما نزلت ھذہ الآیة قل لا اسئلکم الخ

قالوا یا رسول اللہﷺ من ھؤلاء الذین امر اللہ بمجتھم قال فاطمهؓ وولدھا رضی اللّٰه عنھم وھذا اسناد ضعیف فیه مبھم لا یعرف عن شیخ شیعه مسخرق وھو حسین الاشقر ولا یقبل خبره فی ھذا المحل۔ 

ترجمہ: محدث ابی حاتم نے کہا مجھ سے بیان کیا علی ابنِ حسین نے وہ کہتا ہے مجھ سے بیان کیا ہے ایک آدمی نے جس کا نام انہوں نے لیا تھا وہ کہتا ہے مجھ سے بیان کیا حسین اشقر نے اس نے بیان کیا قیس سے اس نے اعمش سے اس نے سیدنا سعید بن جبیرؓ سے اس نے سیدنا ابنِ عباسؓ سے کہ انہوں نے کہا جب یہ آیت نازل ہوئی تو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے پوچھا یا رسول اللہﷺ وہ کون لوگ ہیں جن کی محبت کا اللہ نے ہمیں حکم دیا ہے تو فرمایا سیدہ فاطمہؓ اور اسکی اولاد رضی الله عنھم یہ اسناد ضعیف ہے اس میں راوی مبہم ہے جس کی پہچان نہیں ہو سکتی وہ ایک بوڑھے مخبوط الحواس شیعہ سے روایت ہے وہ حسین اشقر ہے لہٰذا اس کی روایت اس محل میں قبول نہیں۔

ابنِ کثیر نے اصول حدیث کی رو سے یہ روایت مردود قرار دی اس پر کچھ اور سوال بھی پیدا ہوتے ہیں۔

  1.  آیت میں خطاب صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو ہے یا مشرکینِ قریش کو ہے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے تو اسلام کو قبول کر لیا اب ان سے یہ کہنے کی کیا ضرورت ہے کہ میں تم سے کوئی اجر نہیں مانگتا اس بات کا موقع تو اس وقت ہو سکتا ہے کہ پیغام قبول کرنے سے پہلے وہ اس شش و پنج میں ہوں کہ نہ جانے یہ بات مان لینے کی اجرت کیا دینی پڑے گی لہٰذا یہ بات تو بالکل بے محل ہے خطاب صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو ہو رہا ہے رہا سوال مشرکین کا تو وہ بات ماننے پر تیار ہی نہیں تو ان سے یہ کہنا کہ میری بات اس شرط پر مانو کہ میرے قرابت والوں سے محبت کرنے پڑے گی جب وہ سرے سے بات ماننے کو تیار ہی نہیں تو اس شرط کا اور اضافہ کر دینا تو بالکل بے تکی بات ہے۔ 
  2.  صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے یہ سوال کیوں پوچھا کہ وہ اہلِ قرابت کون ہیں کیا انہیں قربیٰ کے لفظ کے معنیٰ نہیں آتے تھے یا وہ رسول اللہﷺ کہ اہلِ قرابت سے واقف نہیں تھے اہلِ زبان کے متعلق یہ سمجھنا کہ ایک عام استعمال کے لفظ کا مفہوم ہی نہیں جانتے اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے متعلق یہ سمجھنا کہ رسول اللہﷺ اس درجہ کی اجنبیت تھی کہ رسول اللہﷺ کے رشتہ داروں کو ہی نہیں جانتے تھے۔ 
  3.  جب رسول اللہﷺ نے اہلِ قرابت کی نشاندہی کی تو وہ کیا سمجھے ہوں گے کہ سیدہ فاطمہؓ کا نکاح ہوا نہیں اولاد کا سوال ہی کہاں! پھر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے پلے کیا پڑا وہ اس فرمان پر عمل کیونکر کرنے لگے لہٰذا معلوم ہوتا ہے کہ سیدنا زین العابدین کے نام کو آڑ بنا کر بات بنانے کی کوشش تو کی ہے مگر تاریخ اس کا ساتھ نہیں دیتی اور عقل اسے ماننے سے ابا کرتی ہے۔

علامہ ابنِ حجر عسقلانیؒ نے اپنی کتاب فتح الباری شرح بخاری میں کچھ اشارہ کیا ہے:

صفحہ 1 از 5