آیت مودت - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

آیت مودت

  مولانا اللہ یار خانؒ

صفحہ 2 از 5

فاخراج طبرانی و ابن حاتم من طریق قیس ابن ربیع عن الاعمش عن سعید بن جبیر عن ابن عباسؓ قال لما نزلت قالوا یا رسول اللہﷺ من قرابت کا الذین وجبت علینا مودتھم الی الحدیث و اسنادہ ضعیف وھو ساقط لمخالقة هذا الحديث الصحيح والمعنیٰ الا ان تودونی لقرابتی فتحفظونی والخطاب لقریش۔ 

ترجمہ: جب آیت نازل ہوئی تو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے پوچھا یا رسول اللہﷺ آپ کے اہلِ قرابت کون ہیں جن کی محبت ہم پر واجب ہے مگر اس روایت کی سند ضعیف ہے یہ قابلِ اعتبار نہیں یہ روایت بخاری کی صحیح حدیث کے مخالف ہے آیت کا صحیح مطلب یہ ہے کہ میں تم سے کچھ نہیں مانگتا سوائے اس کے کہ جو قرابت کا رشتہ میرے اور تمہارے درمیان ہے اس کا لحاظ کرتے ہوئے میرے ساتھ مودت سے پیش آؤ اس سے مجھے تحفظ مل جائیگا یہ خطاب قریش سے ہے۔

یعنی اصولاً یہ بات ہی نا قابلِ اعتبار ہے کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے سوال کیا کہ اہلِ قرابت کون ہیں پھر خطاب قریش کو ہو رہا ہے لہٰذا مفہوم یہ ہے کہ تمہارا معمول یہ ہے کہ دشمنی بھی ہو تو قرابت کا لحاظ رکھتے ہو میں تو تمہارا خیر خواہ ہوں لہٰذا اسی اپنے معمول کے مطابق قرابت کا لحاظ رکھتے ہوئے میرا راستہ تو نہ روکو۔

اس روایت کی صحت عدمِ صحت پر علامہ ابن حجر عسقلانی نے ایک اور مقام پر بحث کی ہے فرماتے ہیں:

عن ابن عباسؓ عن طبرانی وابن ابی حاتم واسناد واح فیه ضعیف ورافضی وذکر زمحشری ھو ھنا احادیث ظاھر وضعھا و روالزجاج بما سمع عن ابن عباسؓ من روایة طائوس فی حدیث الباب۔

جو روايت سیدنا ابنِ عباس سے بحوالہ طبرانی و ابنِ ابی حاتم نقل کی ہے اس کی سند واہی تباہی ہے اس میں ایک راوی ضعیف ہے اور ایک راوی رافضی ہے اور زمحشری نے اس مقام پر کچھ حدیثیں ذکر کی ہیں جن کا موضوع ہونا ظاہر ہے اور علامہ زجاج نے اس کو رد کیا ہے بذریعہ اس روایت کے جو سیدنا ابنِ عباس سے طاؤس کی روایت سے اس بات میں روایت ہو چکی ہے۔

محدث جلیل علامہ ابنِ حجر عسقلانی نے بناوٹی مفہوم والے قول کو رد کیا اس کی روایت کو سندًا و متناً دونوں طرح سے مجروح قرار دیا سندًا اس طرح کہ سند کو ضعیف اور واہی کہا ایک راوی ضعیف دوسرا رافضی اور بعض روایات کو ظاہر الوضع فرمایا اور متناً اس طرح مجروح ہے کہ اس کا مضمون احادیث صحیح کے خلاف ہے لہٰذا آیت کی صحیح تفسیر وہی ہے جس پر مختار مذہب اہلِ سنّت و الجماعت کا اتفاق ہے۔

چند نکات:

 (1) القربیٰ:

مصدر ہے مثل زلفیٰ کہ جو معروف بالام ہے اس کا معرفہ ہونا ان لوگوں کی طرف اشارہ کرتا ہے جن کا مخاطبین کو علم تھا اس وقت سیدنا حسنؓ اور سیدنا حسینؓ کا وجود ہی نہیں تھا لہٰذا مخاطبین ان سے واقف کیونکر قرار دئیے جا سکتے ہیں لہٰذا اس سے مراد وہ لوگ ہوں گے جو قریش مکہ کو بھی واضح طور پر معلوم ہوں گے۔ لہٰذا یہ مودت مودة فی الرحم ہے مطلب یہ ہوگا: 

لَّاۤ اَسْئلُكُمْ عَلَیْهِ اَجْرًا اِلَّا الْمَوَدَّةَ فِی الْقُرْبٰى الخ۔ (سورۃ الشوری آیت نمبر 23)۔

میں تم سے کوئی اجرت طلب نہیں کرتا ہاں اس صلہ رحمی کا مطالبہ کرتا ہوں جو میرے اور تمہارے درمیان ہے۔

 (2)۔ مودة فی القربیٰ: سے آلِ محمدﷺ مراد ہو ہی نہیں سکتا اگر مودة لذی القربیٰ ہوتا تو مراد آلِ محمدﷺ ہو سکتی تھی قرآنِ کریم کی متعدد آیات شاہد ہیں مثلاً:

  1.  فَاَنَّ لِلّٰہِ خُمُسَہٗ وَ لِلرَّسُوۡلِ وَ لِذِی الۡقُرۡبٰی الخ۔ (سورة الانفال آیت نمبر 41)۔
  2.  مَّا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَىٰ رَسُولِهِ مِنْ أَهْلِ الْقُرَىٰ فَلِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ وَلِذی الْقُرْبَىٰ الخ۔ (سورة الحشر آیت نمبر 7)۔
  3.  فَاٰتِ ذَا الْقُرْبٰى حَقَّهٗ الخ۔ (سورة الروم آیت نمبر38)۔
  4.   وَ اٰتَی الۡمَالَ عَلٰی حُبِّہٖ ذَوِی الۡقُرۡبٰی الخ۔ (سورة ال آیت نمبر 177)۔

یعنی قرآنِ کریم میں جہاں کہیں اس مضمون کی نصیحت یا حکم ہے وہاں ذوی القربیٰ یا اولی القربیٰ ہے فی القربیٰ کہیں نہیں آیا القربیٰ چونکہ مصدر ہے اس لیے اگر اہلِ بیتؓ مراد ہوتے تو یوں ہوتا إلا المودة لاھل القربیٰ۔ 

(3) اگر محبت اہلِ بیتؓ اور اس حالت کی اجرت قرار دی جائے تو اس میں رسول اللہﷺ کی سخت توہین کا پہلو نکلتا ہے جس کی کوئی مسلمان جرأت نہیں کر سکتا وہ یوں کہ حضرت نوح علیہ السلام سے لے کر رسول اللہﷺ تک جتنے انبیاء کا ذکر قرآن مجید میں تبلیغ رسالت کے سلسلے میں آیا ہے ہر جگہ ایک ہی عبارت ہے کہ اَسْـئـلُكُمْ عَلَیْهِ مِنْ اَجْرٍ کہیں کوئی استثنیٰ نہیں مثلاً:

صفحہ 2 از 5