آیت مودت - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

آیت مودت

  مولانا اللہ یار خانؒ

صفحہ 3 از 5
  1.  سورة الانعام: قُل لاَّ أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا إِنْ هُوَ إِلاَّ ذِكْرَى لِلْعَالَمِينَ۝۔ (نبی کریمﷺ)۔ (سورة الانعام آیت 90)۔
  2.  سورة یوسف: وَمَا تَسْاَلُـهُـمْ عَلَيْهِ مِنْ اَجْرٍ ۚ اِنْ هُوَ اِلَّا ذِكْرٌ لِّلْعَالَمِيْنَ۝۔ (نبی کریمﷺ) (سورة یوسف آیت 104)۔
  3.  سورة الفرقان: قُلْ مَآ اَسْاَلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ اَجْرٍ اِلَّا مَنْ شَآءَ اَنْ يَّتَّخِذَ اِلٰى رَبِّهٖ سَبِيْلًا۝۔ (نبی کریمﷺ) (سورة الفرقان آیت 57)۔
  4.   سورة سباء: قُلْ مَا سَاَلْتُكُمْ مِّنْ اَجْرٍ فَهُوَ لَكُمْ اِنْ اَجْرِىَ اِلَّا عَلَى اللّـٰهِ الخ۔(نبی کریمﷺ) (سورة سباء آیت 47)۔
  5.  سورة ص: قُلْ مَاۤ اَسْئلُكُمْ عَلَیْهِ مِنْ اَجْرٍ وَّ مَاۤ اَنَا مِنَ الْمُتَكَلِّفِیْنَ۝۔ (نبی کریمﷺ) (سورة ص آیت 86)۔
  6.   سورة ہود: وَیٰقَوْمِ لَاۤ اَسْئلُكُمْ عَلَیْهِ مَالًاؕ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلَى اللّٰهِ الخ۔ (نوح علیہ السلام) (سورة ہود آیت 29)۔
  7.   سورة ہود: يٰقَوْمِ لَآ اَسْاَلُكُمْ عَلَيْهِ اَجْرًا اِنْ اَجْرِىَ اِلَّا عَلَى الَّذِىْ فَطَرَنِىْ الخ۔ (قول ہود علیہ السلام)۔ (سورة ہود آیت 51)۔
  8. سورة الشعراء: وَ مَاۤ اَسْئلُكُمْ عَلَیْهِ مِنْ اَجْرٍ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۝۔ (نوح علیہ السلام) (سورة الشعراء آیت 109)
  9. سورة الشعراء: وَ مَاۤ اَسْئلُكُمْ عَلَیْهِ مِنْ اَجْرٍ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۝۔ (ہود علیہ السلام) (سورة الشعراء آیت 127)۔
  10. سورة الشعراء: وَ مَاۤ اَسْئلُكُمْ عَلَیْهِ مِنْ اَجْرٍ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۝۔ (صالح علیہ السلام) (سورة الشعراء آیت 145)۔
  11.  سورة الشعراء: وَ مَاۤ اَسْئلُكُمْ عَلَیْهِ مِنْ اَجْرٍ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۝۔ (لوط علیہ السلام) (سورة الشعراء آیت 164)۔
  12.  سورة الشعراء: وَ مَاۤ اَسْئلُكُمْ عَلَیْهِ مِنْ اَجْرٍ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۝۔ (شعیب علیہ السلام) (سورة الشعراء آیت 180)۔

ان اِقتباسات سے دو باتیں معلوم ہوتی ہیں اول یہ کہ پانچ انبیاء علیہم السلام یعنی نوح علیہ السلام، ہود علیہ السلام، صالح علیہ السلام، لوط علیہ السلام، شعیب علیہ السلام سے ایک ہی صورت میں بالکل ایک جیسے الفاظ میں ایک ہی بیان کا ذکر ہے دوم یہ کہ پانچ مختلف سورتوں میں رسول اللهﷺ سے مختلف الفاظ میں پانچ مرتبہ یہی اعلان کرایا کہ میں تم سے کوئی اجر نہیں مانگتا۔

اب یہ سوال ہے کہ سورة الشوریٰ میں جو رسول اللہﷺ سے پانچ مختلف مقامات پر جو اعلان کرایا تو اس میں ایک اجرت کا مطالبہ بھی کرا دیا اول تو یہ سارے انبیاء علیہم السلام سے مختلف روش ہے پھر رسول اللہﷺ سے پانچ مختلف مقامات پر جو اعلان کرایا اس سے بھی یہ مختلف ہے اس سے ایک تو قرآن مجید میں تضاد ثابت ہے دوسرا رسول اللہﷺ خود غرضی اور توہین کا پہلو نکلتا ہے کیا کوئی شخص بقائمی ہوش و حواس یہ جرآت کر سکتا ہے جبکہ وہ مسلمان ہونے کا مدعی بھی ہو۔

(4) ارشاد باری تعالیٰ ہے: اتَّبِعُوا مَنْ لا يَسْأَلُكُمْ أَجْرًا وَهُمْ مُهْتَدُونَ۝۔( سورة یٰس آیت نمبر 21)۔

يعنی اتباع اس شخص کی کرو جو تم سے اجر کا سوال نہیں کرتا اور خود بھی ہدایت یافتہ ہے"۔

یہاں اللہ تعالیٰ نے ایک اصول بتایا کہ اتباع کے لائق وہی ہے جو تم سے اجر کا مطالبہ نہیں کرتا اگر آیت مودة کا وہ مفہوم لیا جائے جس سے محبت اہلِ بیتؓ کا اجر ہونا ظاہر ہے تو گویا اللہ تعالیٰ نے رسول اللہﷺ کے اتباع سے تو منع کر دیا (معاذ اللّٰه) پھر بھی یہ ارشاد ہے کہ قُلۡ اِنۡ كُنۡتُمۡ تُحِبُّوۡنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوۡنِىۡ الخ۔ (سورة آل عمران آیت نمبر 31) اور مَنْ یُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللّٰهَ سورة النساء آیت نمبر 80) اب یہ تضاد کیسے رفع ہو۔

پھر محبت اہلِ بیتؓ کو ہی رسالت کا اجر قرار دیا جائے تو دین کی حاجت ہی نہیں صرف محبت اہلِ بیتؓ کافی ہے کیونکہ رسالت کی اجرت جب یہی ٹھہری تو بات ختم ہو گئی دین قبول کرنا تو بس "جھونگا" کی پرواہ کون کرتا ہے۔

 (5)۔ رسول اللہﷺ کی رسالت کی اجرت اور اس کا مقصد جب یہی ٹھہرا کہ اہلِ بیتؓ کی محبت درکار ہے اور بس۔ چنانچہ یہ دعویٰ تو شیعہ ہی کا ہے کہ محبانِ اہلِ بیتؓ ہم ہی ہیں اور رسول اللہﷺ کی رسالت کا صلہ بھی یہی ہے اس لیے نماز، روزہ، حج، زکٰوة، عقیدہ توحید، رسالت سب امور زائدہ ہیں کیونکہ رسول اللہﷺ نے مطالبہ صرف اہلِ بیتؓ کا کیا تھا اس عقیدے نے جو گل کھلائے ان کی بہار ملاحظہ ہو:

(الف)۔ روضہء کافی طبع جدید مطبع نجف اشرف صفحہ 142۔

عن ابی عبدالله أنه قال لا یباله الناصب صلی ام زنیٰ وھذہ الایته نزلت فیھم وجوہ عاملة ناصبة تصلی نارا حامی۔

ترجمہ: سیدنا جعفرؓ سے روایت ہے کہ سنی کا نماز پڑھنا اور زنا کرنا برابر ہے یہ آیت ان کے حق میں نازل ہوئی ہے محنت کرتے تھکتے تھکتے پہنچیں گے دہکتی آگ میں۔

 (ب)۔ پھر اسی کتاب کے صفحہ 181 پر ہے۔

کل ناصب وان عبد وجتھا منسوب الی ھذہ الآیة عاملة ناصبة الخ وکل ناصب مجتھد فعمله ھباء۔ 

ترجمہ: ہر ناصبی (سُنی) اگرچہ وہ نماز پڑھے اسی آیت کا مصداق ہے اور ہر ناصبی کی محنت اور اس کا عمل غبار کی مانند ہے۔

(ج)۔ مجالس المومنین طبع جدید جلد دوم صفحہ 583۔

ولا تقبل الصلوة الا بحبھم ولا زکٰوۃ فاین عدولنا فی حب قوم بھم اعمالنا متقبلات۔ 

ترجمہ: نماز اور زکٰوۃ بغیر محبت اہلِ بیتؓ کے قبول نہیں ہمارے دشمن کہاں جا رہے ہیں اہلِ بیتؓ کی محبت سے اعمال قبول ہوتے ہیں۔

بہ مذہب درست نمازش درست نیست زاہد اگر زچشمہء حیواں وضو کند

مخالفان علی را درست نیست نماز اگرچہ سینہ اشتر کنند پیشانی۔

صفحہ 3 از 5