آیت مودت - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

آیت مودت

  مولانا اللہ یار خانؒ

صفحہ 4 از 5

لیجئے بات صاف ہوگئی محبانِ اہلِ بیتؓ کی بن آئی کہ اول تو محبتِ اہلِ بیتؓ ہی کامیابی کے لیے کافی وافی ہے اور اگر اس محبت کے ساتھ جو اعمال وہ کریں قبول وہی ہوتے ہیں سنی لاکھ ٹکریں ماریں ان کے پلے کچھ نہیں پڑے گا ظاہر ہے کہ کسی کو توحید رسالت آخرت کا نظریہ قبول کرنے نماز روزہ حج اور زکٰوۃ کی پابندی اپنے سر لینے کی کیا ضرورت ہے آسان راستہ کیوں نہ اختیار کرے کہ کہدے میں محبِ اہلِ بیتؓ ہوں پھر جو چاہے کرتا پھرے کوئی مواخذہ نہیں (اس عقیدے کی تفصیل معلوم کرنی ہو تو ہماری کتاب "تحذیر المسلمین" کا باب مواد مطالعہ فرمائیں)۔

ایک امر قابلِ غور ہے کہ یہ جو اہلِ بیتؓ سے محبت کرنے کا حکم ہے اس کی عملی صورت کیا ہے؟ محبت کا مقام تو قلب ہے اور قلب کی حالت کوئی معلوم نہیں کر سکتا۔ تو پھر کیا یہ نری شاعری ہے اگر اسی کا نام محبت ہے کہ آدمی بیٹھ کے گیت گاتا رہے اور بس تو اس فن میں تان سین سے لے کر ملکہ ترنم تک بڑے بڑے اہلِ کمال گزر رہے ہیں تو اس معاملہ میں شیعہ کی تخصیص کیونکر ہوئی 

ہاں یہ کہا جا سکتا ہے کہ محبت ہے تو یہی کچھ بیٹھ کے گیت گاتے رہو البتہ محبوب جدا ہو سکتے ہیں اس لیے محبِ اہلِ بیتؓ صرف وہی ہے جو پیت کے گیت ہی گائے مگر محبوبِ اہلِ بیتؓ ہوں اس طرح انفرادیت تو آگئی مگر کام بڑا آسان ہے کیا کرایا کچھ نہیں صرف گیت گاتے رہو محبت کا مطالبہ پورا ہو گیا محبت کی یہ قسم انسانی تاریخ میں کہیں نہیں ملتی۔

اگر محبت کرنے سے یہ مراد ہے کہ اہلِ بیتؓ کی خاطر مالی اور جانی قربانی پیش کرو تو سوچنا پڑے گا کہ اہلِ بیتؓ کس کی خاطر جان اور مال قربان کرتے رہے ظاہر ہے کہ ان کی قربانی دین کی خاطر تھی اور یہی بات 23 برس تک رسول اللهﷺ سکھاتے رہے کہ جہاد فی سبیل اللہ کے لیے اپنے مال اور جان کو پیش کرو اس لیے دین کی خاطر تو غیر اہلِ بیتؓ بھی میدان میں نکلے تو اس کے ساتھ تعاون کرتے ہوئے جان اور مال پیش کر دینا اسلام کا مطالبہ ہے پھر اہلِ بیتؓ کی تخصیص کیا رہی۔

اور اگر محبت کرنے سے مراد اطاعت کرنا ہے جیسا کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: من احب سنتی فقد احبّنی یعنی محبت میں سچا ہے تو دیکھنا پڑے گا کہ اہلِ بیتؓ نے کس کی اطاعت میں عمریں صرف کیں ظاہر ہے کہ وہ رسول اللہﷺ کی اطاعت ہی کرتے رہے اس لیے رسول اللہﷺ کی اطاعت ہی اہلِ بیتؓ کی اطاعت ہے اور رسول اللہﷺ کی اطاعت ہی رسول اللہﷺ سے محبت ہے مگر محبانِ اہلِ بیتؓ کا معاملہ یوں نظر اتا ہے کہ اس طرف رخ ہی نہیں کرنا جدھر اہلِ بیتؓ ہمیشہ رواں دواں رہے مگر محبت کا اظہار جس رنگ میں ہوتا رہا اس کی تفصیل درکار ہو تو ہماری کتاب "تحذیر المسلمین" کا باب "امامت" مطالعہ فرمائیں البتہ تین اوصاف ایسے ہیں جو دنیا میں کہیں اور نہیں پائے جاتے یعنی متعہ ماتم اور تقیہ ممکن ہے یہی اوصاف محبتِ اہلِ بیتؓ کی دلیل کے طور پر پیش کیے جاتے ہوں۔

چند مغالطے اور ان کی اصلاح:

 اہلِ سنت کی بیان کی ہوئی تفسیر سے اجرت ثابت ہوتی ہے یہ اجرت محبت اہلِ بیتؓ نہ سہی جان کی حفاظت کی درخواست سہی لہٰذا اعتراض پھر بھی رفع نہیں ہو سکتا۔

اصلاح: الا المودة فی القربیٰ میں اہلِ سنت نے استثنٰی منقطع بیان کیا ہے مستثنیٰ منقطع وہ ہوتا ہے جو مستثنیٰ منه کی جنس سے نہ ہو اور ظاہر ہے کہ اجرت مستثنیٰ منه ہے مودة مستثنیٰ ہے اور یہ بھی ظاہر ہے مودة فی القربیٰ اجرت کا ہم جنس نہیں ہے کیونکہ اجر شے کا وہ چیز ہوتی ہے جو اسی شے کی وجہ سے ثابت ہو اور مودة فی القربیٰ میں محبت بوجہ قرابت کے ثابت ہوتی ہے تبلیغ و تعلیم رسالت کی وجہ سے نہیں لہٰذا اس کو اجرت رسالت کہنا باطل ہوگا۔

استثنا منقطع کی مثالیں قران کریم میں موجود ہیں مثلاً 

 لَا یَذُوْقُوْنَ فِیْهَا بَرْدًا وَّ لَا شَرَابًا۝ اِلَّا حَمِیْمًا وَّ غَسَّاقًا۝ جَزَآءً وِّفَاقًا۝۔(سورة الواقعہ آیت 24۔25۔26)۔

اس آیت میں گرم پانی اور پیپ مستثنیٰ ہیں اور ٹھنڈک اور پینے کی چیز مستثنیٰ منه اور یہ دونوں ہم جنس نہیں ہیں۔

 اہلِ سنت کی تفسیر میں انبیاء علیہم السلام کا غیروں سے ڈرنا لازم آتا ہے جبھی تو رسول اللہﷺ نے الا المودۃ فی القربیٰ کا مطالبہ کیا ہے۔

 اصلاح: ان میں انبیاء علیہم السلام کے ڈرنے کا ذکر تک نہیں بلکہ یہ کہا جا رہا ہے کہ میں تمہارا قرابتدار ہوں اور اقارب کی ایذا کو تم بھی جائز نہیں سمجھتے لہٰذا قرابتداری کا لحاظ رکھتے ہوئے اور اپنے مسلمہ اور متداول اصول کا پاس کرتے ہوئے میری ایذا کے کے درپے مت ہو اپنی برادری میں کیا منہ دکھاؤ گے کیونکہ تمہارے معاشرے میں قرابت کا بڑا لحاظ رکھا جاتا ہے۔

اہلِ سنت کی تفسیر سے ظاہر ہوتا ہے کہ رسول اللہﷺ کو اللہ تعالیٰ کے وعدوں پر اعتماد جب کہ اللہ نے جا بجا نصرت کے وعدے کیے ہیں پھر بھی آپ نے الا المودۃ نہ تھا فی القربیٰ کی درخواست ہی دی۔

 اصلاح: قریش کو قرابت داری کے لحاظ کا اصول یاد دلانا ان سے ڈرنے کی دلیل کیونکر بن گئی اللہ تعالیٰ نے تمام جانداروں کو روزی دینے کا وعدہ فرمایا ہے تو جو لوگ روزی کی تلاش میں تجارت زراعت ملازمت وغیرہ کرتے ہیں انہیں اللہ کے وعدے پر اعتماد نہیں کیا؟ وعدہ پورا کرنا اللہ کا کام ہے مگر اس دار الاسباب میں سبب کا اختیار کرنا بندے کا فرض ہے۔

 رسول اللہﷺ کا خود غرض ہونا لازم آتا ہے کہ اپنی جان کی حفاظت کی درخواست تو کرتا ہے اہل وعیال کی پرواہ نہیں۔

 اصلاح: الا المودۃ فی القربیٰ سے یہ مفہوم کیوں کر ظاہر ہوا کہ مجھے کچھ نہ کہو میرے اہل و عیال کو بے شک قتل کر دو جب قریش کو قرابت کے لحاظ سے یاد دلائی تو کیا ان قریش کی قرابت صرف رسول اللہﷺ کی ذات سے تھی آپ کے خاندان کے دوسرے افراد سے ان کا کوئی رشتہ نہیں تھا جس جذبے کی یاد دہانی قرار رہے ہیں اس کی لپیٹ میں صرف رسول اللہﷺ کی ذات نہیں آتی سارے اہلِ قرابت آتے ہیں پھر قریش میں یہ وصف تھا کہ بچوں کو ایذا نہ دیتے تھے پھر انہیں عداوت تو رسول اللہﷺ سے تھی کہ انہیں کفر سے ہٹا کر اسلام کی طرف لانے کی کوشش فرما رہے تھے۔ 

صفحہ 4 از 5