آیت مودت - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

آیت مودت

  مولانا اللہ یار خانؒ

صفحہ 5 از 5

اہلِ سنّت کی تفسیر خلاف عقل ہے کیونکہ خطاب کفار کو ہے کہ تمہارے مذہب کی بیخ کنی کرتا ہوں مگر تم مجھ سے دوستی کرو اور ایذا نہ دو بلکہ میری حفاظت کرو بھلا یہ تفسیر کب موافقِ عقل ہے۔

 اصلاح: اگر واقعہ کی تعبیر یہی ہے تو یہ کون سی عقل کی بات ہے کہ میں تمہارے مذہب کی بیخ کنی کرتا ہوں تم میرے گھر والوں سے محبت کرو حقیقت یہ ہے کہ یہ بات خلاف عقل نہیں بشرطیکہ عقل موجود ہوں اصل بات دشمنی کی نہیں بلکہ دوستی اور خیر خواہی کی ہے کہ میں تمہیں آگ سے بچاتا ہوں میں تمہیں ذلت سے نکالنا چاہتا ہوں میں تمہیں اپنے خالق سے آشنا کرنا چاہتا ہوں اس لیے اپنے بدخواہ اور اپنے دشمن نہ بنو کم سے کم جس شرافت کا اظہار تمہاری طرف سے ہو سکتا ہے وہ یہ ہے کہ میری راہ نہ روکو اور اپنے بھائیوں کو جہنم کا ایندھن بننے پر مجبور نہ کرو۔

خلاصة المباحث:

 اِلَّا الْمَوَدَّةَ فِی الْقُرْبٰى کی تعبیر میں تین مذہب ہیں۔

اول: صحیح و مختار مذہب جو قرآن و حدیث صحیح سے ثابت ہے جسے سیدنا ابنِ عباسؓ سے امام بخاریؒ امام مسلمؒ اور امام ترمذیؒ نے بیان کیا روح المعانی میں اس کا بیان اس طرح ہے

ھذا فی الصحیحین عن ابنِ عباسؓ بل جاء عنه فی روایات کثیرة وظاھرھا ان الخطاب لقریش منھا ما اخرجه سعد ابنِ منصور و ابن سعد و عبد بن حمید والحاکم وصححه وابن مردویه والبیھقی فی الدلائل عن الشعبی قال اکثر الناس علینا فی ھذہ الآیة قل لا اسئلکم فکتبنا الی ابنِ عباسؓ فساله الخ۔ 

ترجمہ: یہی مذہب بخاری مسلم میں سیدنا ابنِ عباسؓ سے مروی ہے بلکہ سیدنا ابنِ عباسؓ سے کثیر روایات میں آچکا ہے اور ظاہر آیت یہ ہے کہ لا اسئلکم خطاب قریش کو ہے ان کثیر حدیثوں میں پہلی وہ حدیث ہے جس کو سعد بن منصور نے ابنِ سعد عبد بن حمید نے اور حاکم نے اور صحیح قرار دیا حاکم نے اور ابنِ مردویہ اور بیہقی نے دلائل النبوة میں امام شعبی نے بیان کیا کہ امام شعبی نے کہا کہ لوگوں نے آیت کے متعلق ہم سے سوال کیے ہم نے سیدنا ابِن عباسؓ کو لکھا انہوں نے جواب دیا جو صحیحین وغیرہ میں بیان ہوا۔ 

جمہور علماء کا یہی مذہب مختار ہے اور حق جمہور کے ساتھ ہوتا ہے۔

دوم: جو کلبی سے منقول ہے کلبی خود شیعہ ہے اور اس کے مذہب کی بنیاد مجروح ضعیف اور موضوع روایات پر ہے کلبی نے قربیٰ سے مراد آلِ محمدﷺ‎ لی ہے۔

روح المعانی میں اس پر اظہار خیال کیا ہے: 

وقیل فی ھذا المعنیٰ انه لا یناسب شان النبوة لما فیه من التھمة فان کثیر طلبة الدنیا یفعلون شیاً ویسئالون علیه ما یکون فیه نفعاً لاولادھم وقرابتھم۔ 

ترجمہ: یہ مذہب اور آیت کے یہ معنیٰ لینا شانِ نبوت کے منافی ہے یہ نبوت پر تہمت ہے اکثر طالبِ دنیا جب کوئی کام کرتے ہیں تو اس کی اجرت میں ایسی چیز کا مطالبہ کرتے ہیں جس سے ان کی اولاد اقرباء کو فائدہ پہنچے۔

اس مذہب کی بنیاد اس روایت پر ہے جس کو علامہ ابنِ جریر نے ابن الدیلم سے نقل کیا جسے سیدنا زین العابدین سے بیان کیا اور دوسری روایت وہ ہے:

خرج بن ابی حاتم والطبرانی وابن مردویه عن ابی عباسؓ قیل یا رسول اللہﷺ من قرابتكَ ھؤلاء قال علیؓ و فاطمہؓ وابناھما۔

ترجمہ: پوچھا گیا یہ آپﷺ کے قربیٰ کون ہیں فرمایا سیدنا علیؓ سیدنا وفاطمہؓ اور ان کے دو بیٹے۔ 

تفسیر مظہری میں اس کے متعلق لکھا ہے: 

  •  ان ھذا الحدیث غیر صحیح فی اسنادہ حسین الاشقر شیعی غلیظ وھذہ الآیة مکیة ولم یکن لفاطمةؓ حینئذٍ ولد۔ 

ترجمہ: یہ حدیث صحیح نہیں اس کی سند میں حسین الاشقر غلیظ شیعہ ہے اور آیت مکی ہے اس وقت سیدہ فاطمہؓ کی اولاد کوئی نہیں تھی۔ (جب شادی نہیں ہوئی تھی تو اولاد کا کیا سوال) یعنی اس مذہب کی بنیاد ہی مجروح ضعیف اور موضوع روایات پر ہے۔

حسین کوفی کے متعلق میزان الاعتدال میں ہے: 

  •  قال ابو ذرعه منکر الحدیث وقال ابو حاتم لیس بالقوی وقال الجوزجانی شتان للمغیرہ وقال ابومعمر کذاب۔ 

ترجمہ: ابوذرعہ محدث کہتے ہیں منکر الحدیث ہے محدث ابو حاتم کہتے ہیں قوی نہیں الجوزجانی کہتے ہیں غالی شیعہ ہیں سیدنا مغیرہؓ صحابی رسول کو گالیاں دیتا تھا محدث ابومعمر کہتے ہیں کذاب یعنی چوٹی کا جھوٹا ہے۔

  •  حسین ابن عبداللہ الاشقر القمی من غلاة الروافض وذکرہ ابن النجاشی فی مصنفی الشیعة۔

ترجمہ: حسین ابنِ عبداللہ الاشعری قمی غالی شیعہ تھا اور کتب شیعہ کا مصنف تھا ابن النجاشی نے ذکر کیا ہے۔

لسان المیزان:

الحسین ابنِ احمد بن عامر الاشعری ذکرہ علی بن الحکم فی شیخ الشیعة وکان من شیوخ ابی جعفر الکلینی صاحب کتاب الکافی۔ 

ترجمہ: دوسرا حسین ابنِ احمد بن عمر اشعری ہے اسے علماء بن الحکم نے شیعہ کا شیخ عالم لکھا ہے اور لکھا ہے کہ الکافی کے مصنف ابوجعفر کلینی کا یہ استاد تھا۔

 نوٹ: اس سلسلے میں اہلِ سنت کی کتب سے اس کا ثبوت اس لیے پیش کیا ہے کہ استدلال میں مقابلہ کے لیے اصول یہ ہے کہ الزام مقابل کی کتب سے دیا جاتا ہے مگر رفع الزام اپنی کتب سے کیا جاتا ہے۔

میرے کتب خانہ میں قرآنِ کریم کی (56) تفسیریں موجود ہیں تمام مفسرین نے اول یہی قول نقل کیا ہے جو صحیح اور مختار ہے جس کی تفسیر اکثر صحیح روایات میں آ چکی ہے شیعہ نے قلیل روایات وہ بھی مجروح ضعیف و موضوع پر مذہب کی بنیاد رکھی ہے راوی بھی غالی شیعہ ہیں حسین اشقر اور حسین اشعری کے متعلق فہرست طوسی نجاشی و رجال مامقانی میں اس کے غالی شیعہ ہونا مشاہدہ کیا جا سکتا ہے۔

اس آیت سے تیسرا مذہب تقرب باری تعالیٰ مراد لیا گیا ہے جو اللہ کی اطاعت عبادت اور اعمال صالح سے حاصل ہوتا ہے۔

مگر صحیح اور مختار مذہب وہی پہلا ہے اور اہلِ سنّت والجماعت کا یہی مذہب ہے اور یہی مذہب حق ہے۔


صفحہ 5 از 5