Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

دوسرا نکتہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی شان میں علماء کے اقوال

  علی محمد الصلابی

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے مناقب اور ان کے فضائل کے اعتراف میں اہل سنت کا قطعاً کوئی اختلاف نہیں۔ لیکن ہم چاہتے ہیں ان کے مختلف مذاہب فقہیہ، مختلف مناہج کے اعتبار سے، متقدمین و متاخرین اور معاصرین، متکلمین، اہل تصوف وغیرہم کے اقوال و آراء کو جمع کر دیں۔ تاکہ جو لوگ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے فضائل کے انکاری ہیں ان کی حیثیت واضح ہو جائے۔

1۔ عبید بن عمیر (ت: 68 ہجری)

ایک سائل آیا اور اس نے عبید بن عمیر سے پوچھا: لوگ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟ تو انھوں نے جواب دیا:’’لوگ جو کچھ کہتے ہیں سو کہتے ہیں البتہ ان کے خلاف کوئی بات سن کر دکھ اسی کو ہوتا ہے جس کی وہ ماں ہے۔‘‘

(الطبقات الکبرٰی لابن سعد: جلد 8 صفحہ 78)

2۔ عیسیٰ بن طلحہ (ت 100 ہجری)

(عیسیٰ بن طلحہ بن عبیداللہ، ابو محمد مدنی یہ ثقہ عالم اور حلیم الطبع معزز تھے۔ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس نمائندہ بن کر آئے۔ (سیر اعلام النبلاء للذہبی: جلد 4 صفحہ 367۔ شذرات الذہب لابن العماد: جلد 1 صفحہ 113)

عیسیٰ بن طلحہ کہتے ہیں: ’’نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا جنتی ہیں۔‘‘

(الطبقات الکبری لابن سعد: جلد 8 صفحہ 79)

3۔ الشعبی رحمہ اللہ (ت: 103 ہجری)

کسی نے شعبی رحمہ اللہ سے کہا کہ عائشہ کے علاوہ تمام امہات المومنین سے میں محبت کرتا ہوں، تو شعبی رحمہ اللہ نے اس سے کہا: ’’تو اپنے اس قول میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مخالف ہے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان سب سے زیادہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے محبت کرتے تھے۔‘‘

(المعجم الکبیر للطبرانی: جلد 23 صفحہ 182)

4۔ ابو بکر خلال( احمد بن محمد بن ہارون ابوبکر خلال حنبلی۔ شیخ الحنابلہ، اپنے وقت کے امام، حافظ، فقیہ اور بہت بڑے عالم تھے ان کی مشہور تصنیفات ’’العلل‘‘ اور ’’الجامع لعلوم الامام احمد‘‘ ہیں۔ (طبقات الحنابلہ لابن ابی یعلیٰ: جلد 2 صفحہ 11۔ سیر اعلام النبلاء للذہبی: جلد 14 صفحہ 297) ( رحمہ اللہ (ت: 311 ہجری) وہ فرماتے ہیں:

’’ام المؤمنین رضی اللہ عنہا نے سچ کہا، وہ اللہ عزوجل کے نزدیک پاک دامن ہیں۔‘‘

5۔ الآجری رحمہ اللہ (ت: 360 ہجری)

فرماتے ہیں:

’’اللہ تعالیٰ ہمارے اور تمہارے اوپر رحم کرے، تم جان لو کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سمیت تمام امہات المؤمنینؓ کو اللہ عزوجل نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے فضیلت عطا کی۔ ان میں سے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا شرف عظیم ہے اور وصف کریم ہے۔ وہ دنیا و آخرت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی ہیں۔‘‘

(الشریعۃ للآجری: جلد 5 صفحہ 2394)

نیز وہ فرماتے ہیں:

’’وہ شخص برباد و ہلاک اور خسارے میں ہو گیا جس کے دل میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے خلاف ذرہ بھر بغض ہے، یا کسی صحابی رسول یا اہل بیت رسول کے کسی بھی فرد کے خلاف وہ کینہ رکھتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان سب سے راضی ہو جائے اور ان کی محبت کے واسطے ہمیں نفع دے۔‘‘

(حوالہ سابقہ: جلد 5 صفحہ 2428)

6۔ ابن شاہین (ت: 385 ہجری)

فرماتے ہیں:

’’سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ایسے بے شمار فضائل ہیں جو اور کسی میں نہیں، مثلاً:

1۔ قرآن کریم میں تقریباً مسلسل سولہ آیات ان کی برأت میں نازل ہوئیں۔

2۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اکثر مواقع پر ان کے ساتھ مزاح فرماتے تھے۔

3۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھل کر بے تکلفانہ گفتگو کرتی تھیں جن کی کسی دوسرے میں جرأت نہ تھی۔

4۔ اکثر اصحاب رسولﷺ کا اس حقیقت پر اجماع ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک محبوب ترین شخصیت تھیں۔ جیسا کہ ام سلمہ، عمار رضی اللہ عنہما اور دوسروں نے روایت کیا ہے۔

5۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان کہ ’’تمام عورتوں سے عائشہ اس طرح افضل ہیں جس طرح تمام کھانوں سے ثرید افضل کھانا ہے۔‘‘

6۔ نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ رضی اللہ عنہا کے ساتھ دو بار دوڑنے کا مقابلہ کیا۔

7۔ ایک دن سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ’’وَاعَرُوْسَاہ‘‘ ہائے میری دلہن! جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو گھر میں نہ پایا۔ تب اللہ عزوجل ان کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے آیا۔

(شرح مذاہب اہل السنۃ لابن شاہین: صفحہ 303)

7۔ ابو نعیم (احمد بن عبداللہ بن احمد ابو نعیم الاصبہانی۔ حافظ، محدث العصر۔ 336 ہجری میں پیدا ہوئے۔ پختہ حافظ تھے، علویت کی طرف مائل تھے۔ ان سے علم حاصل کرنے کے لیے حفاظ حدیث بکثرت آیا کرتے تھے۔ ان کی تصنیفات میں سے ’’حلیۃ الاولیاء‘‘ اور ’’معرفۃ الصحابۃ‘‘ مشہور ہیں۔ 430 ہجری میں وفات پائی۔ (سیر اعلام النبلاء للذہبی: جلد 17 صفحہ 453۔ وفیات الاعیان لابن خلکان: جلد 7 صفحہ 373۔ رحمہ اللہ (ت: 430 ہجری)

ابو نعیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

’’انھیں دنیا کی رغبت نہیں تھی اور دنیاوی مسرتوں سے بے پروا تھیں اور دنیا داروں کی موت پر افسوس کرتی تھیں۔‘‘

(حلیۃ الاولیاء و طبقات الاصفیاء لابی نعیم الاصبہانی: جلد 2 صفحہ 44)

مزید فرماتے ہیں: ’’جو گزشتہ صفحات میں ابن شاہین سے منسوب کیا گیا ہے وہی ان سے منسوب و مکرر ہے۔‘‘ (ظفر)

8۔ ابن بطال رحمہ اللہ (ت: 449 ہجری)

ابن بطال رحمہ اللہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کہ ’’بے شک وہ آخر ابوبکر کی بیٹی ہے۔‘‘ کی تشریح میں لکھتے ہیں :’’اس جملے میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی فہم و فراست کے ساتھ فضیلت کی طرف بھی اشارہ ہے۔‘‘

(شرح صحیح البخاری لابن بطال: جلد 7 صفحہ 94)

9۔ ابن حزم رحمہ اللہ (ت: 456 ہجری)

آپ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

’’تو یہ صحیح ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان کہ سب لوگوں سے زیادہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو محبوب سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور مردوں میں سے ان کا باپ ہے۔‘‘ وحی تھا جو اللہ تعالیٰ نے آپ پر کی تھی۔ تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایسے ہو جائیں تو آپ نے وحی کے ذریعے یہ بتایا اپنی خواہش سے نہیں اور جو یہ گمان کرے (کہ ایسا نہیں ) تو بے شک اس نے اللہ تعالیٰ کو جھوٹا کہا ہے۔ لیکن سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا دین میں اس فضیلت کی مستحق قرار پائیں اور اس فضیلت میں سب لوگوں سے آگے بڑھ گئیں یہ اس بات کا سبب ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سب لوگوں سے زیادہ ان سے محبت کریں اور بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو ان کے باپ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور عمر و علی اور فاطمہ رضی اللہ عنہم پر اعلانیہ فضیلت دی ہے۔ اس میں کوئی شک و شبہ نہیں۔‘‘

(الفصل فی الملل و الاہواء و النحل لابن حزم: جلد 4 صفحہ 95 اور عنقریب اس روایت کی مزید تفصیل سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی فضیلت کے ضمن میں بیان کی جائے گی۔ ان شاء اللہ۔

10۔ البیہقی رحمہ اللہ (ت: 458)

آپ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

’’سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بنت صدیق کی برأت میں اللہ تعالیٰ نے سولہ یا سترہ مسلسل آیات اتاریں:

اِنَّ الَّذِيۡنَ جَآءُوۡ بِالۡاِفۡكِ عُصۡبَةٌ مِّنۡكُمۡ‌  لَا تَحۡسَبُوۡهُ شَرًّا لَّـكُمۡ‌ بَلۡ هُوَ خَيۡرٌ لَّـكُمۡ‌  لِكُلِّ امۡرِىٴٍ مِّنۡهُمۡ مَّا اكۡتَسَبَ مِنَ الۡاِثۡمِ‌ وَالَّذِىۡ تَوَلّٰى كِبۡرَهٗ مِنۡهُمۡ لَهٗ عَذَابٌ عَظِيۡمٌ ۞ (سورۃ النور آیت 11 )

ترجمہ: یقین جانو کہ جو لوگ یہ جھوٹی تہمت گھڑ کر لائے ہیں وہ تمہارے اندر ہی کا ایک ٹولہ ہے تم اس بات کو اپنے لیے برا نہ سمجھو، بلکہ یہ تمہارے لیے بہتر ہی بہتر ہے۔ ان لوگوں میں سے ہر ایک کے حصے میں اپنے کیے کا گناہ آیا ہے۔ اور ان میں سے جس شخص نے اس (بہتان) کا بڑا حصہ اپنے سر لیا ہے اس کے لیے تو زبردست عذاب ہے۔

جب ان پر بہتان تراشا گیا تو یہ آیات قیامت تک مسلمانوں کی مساجد، ان کی نمازوں، ان کے محرابوں میں پڑھی جاتی رہیں گی۔ جن میں اس مظلومہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی عفت و پاک دامنی، طہارت اور محافظت کا اعلان کیا گیا اور جن ظالموں نے یہ بہتان تراشا تھا ان کے گناہ، عذاب عظیم اور متواتر لعنت کا اظہار کیا گیا۔ اس میں وہ جتنا بھی فخر کریں کم ہے اور ان پر الزام لگانے والوں کے لیے تیار کیے گئے عذاب دنیوی و اخروی کا تذکرہ ہے جو بے حد و حساب و بے کنار ہے۔

11۔ ابو القاسم اسماعیل اصبہانی (اسماعیل بن محمد بن فضل ابو القاسم اصبہانی رحمہ اللہ۔ حافظ کبیر اور شیخ الاسلام مشہور ہوئے۔ 457 ہجری میں پیدا ہوئے۔ اپنے وقت کے ائمہ کے امام ان کا لقب ’’قوام السنہ‘‘ تھا لوگوں کو حدیث کا درس دیتے جرح و تعدیل کے بہت بڑے عالم تھے۔ ان کی مشہور تصنیف ’’الترغیب و الترہیب‘‘ ہے۔ 535 ہجری میں وفات پائی۔ (سیر اعلام النبلاء للذہبی: جلد 20 صفحہ 80۔ شذرات الذہب لابن العماد: جلد 4 صفحہ 104۔) رحمہ اللہ (ت: 535 ہجری)

آپ فرماتے ہیں:

’’سیدہ عائشہ صدیقہ بنت صدیق رضی اللہ عنہما اللہ کے محبوب کی محبوبہ، ہر عیب سے پاک ہر شک و شبہ سے بالاتر ہیں۔ اللہ ان سے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام ازواج سے راضی ہو جائے۔‘‘

(الحجۃ فی بیان المحجۃ لقوام السنۃ: جلد 1 صفحہ 248)

12۔ الزمخشری رحمہ اللہ (ت: 538 ہجری)

آپ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

’’اگر آپ قرآن کی تلاوت کریں اور اس میں اللہ تعالیٰ نے نافرمانوں کو جتنی وعیدیں دلائی ہیں سب کو جمع کریں تو آپ کو بخوبی علم ہو گا کہ اللہ تعالیٰ نے جتنا غیظ و غضب اور غصہ اور شدت وعید ان لوگوں کو دی ہے جنھوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر بہتان لگایا اس قدر کسی اور نافرمان کو اللہ تعالیٰ نے سخت وعید نہیں دی۔

(الاجابۃ لا یراد ما استدرکتہ عائشۃ علی الصحابۃ للزرکشی: صفحہ 59، 60)

13۔ الرازی رحمہ اللہ (ت: 606 ہجری)

آپ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

’’اس حقیقت حال سے واقف ہو جانا چاہیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام ازواج مطہراتؓ آپﷺ کے ساتھ جنت میں ہوں گی۔ اس ضمن میں متعدد صحیح احادیث موجود ہیں اور یہ احتمال ہے کہ ان احادیث سے مراد یہ ہے کہ اگر وہ کبائر سے اجتناب کریں اور توبہ کریں تاہم پہلی بات زیادہ بہتر ہے۔ کیونکہ جب آیت کو ظاہری معنیٰ پر محمول نہ کیا جائے تو اس کی شرط موجود ہونی چاہیے لیکن جب آیت کا ظاہری معنیٰ کیا جا سکے تو پھر شرط لگانے کی کوئی ضرورت نہیں اور اس میں یہ دلیل بھی ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا لامحالہ جنت میں جائیں گی۔‘‘

(مفاتیح الغیب للرازی: جلد 23 صفحہ 355)

14۔ ابن قدامہ (عبداللہ بن احمد بن قدامہ ابو محمد المقدسی۔ 541 ہجری میں پیدا ہوئے اپنے وقت کے شیخ الاسلام، فقیہ، زاہد، جامع مسجد دمشق کے امام، ثقہ، حجۃ، طریقۂ اسلاف کے پیروکار، صاحب ورع و عابد تھے۔ ان کی مشہور تصنیفات ’’المغنی‘‘ اور ’’الکافی‘‘ ہیں۔ 620 ہجری میں وفات پائی۔ (ذیل طبقات الحنابلۃ لابن رجب: جلد 3 صفحہ 281۔ سیر اعلام النبلاء للذہبی: جلد 22 صفحہ 166) رحمہ اللہ (ت 670 ہجری)

آپ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج سے راضی رہنا سنت ہے۔ جو امہات المؤمنینؓ ہیں اور ہر عیب سے بری ہیں ان سب میں سے افضل سیدہ خدیجہ بنت خویلد رضی اللہ عنہا اور سیدہ عائشہ بنت صدیق رضی اللہ عنہا ہیں  جن کی برأت اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں نازل فرمائی اور وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دنیوی و اخروی بیوی ہیں، تو جس بہتان سے اللہ تعالیٰ نے ان کو بری کر دیا، اس پر جو شخص وہی بہتان لگاتا ہے وہ عظمت والے اللہ سے کفر کرتا ہے۔‘‘

(لمعۃ الاعتقاد لابن قدامہ المقدسی: صفحہ 40)

15۔ ابن عساکر (عبدالرحمٰن بن محمد بن حسن، ابو منصور دمشقی۔ 550 ہجری میں پیدا ہوئے۔ اپنے وقت کے بڑے امام، شیخ مذہب شافعی، عابد اور صاحب ورع تھے۔ جاروخیہ اور صلاحیہ نامی شہروں میں درس حدیث دیتے رہے اور عذراویہ میں سب سے پہلے انھوں نے تدریس کی۔ ان کی مشہور کتاب ’’الاربعین‘‘ ہے۔ 620 ہجری میں وفات پائی۔ (سیر اعلام النبلاء للذہبی: جلد 22 صفحہ 187۔ طبقات الشافعیۃ الکبرٰی للسبکی: جلد 8 صفحہ 175) رحمہ اللہ ( 620 ہجری)

آپ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

’’تنگ دستی کے باوجود ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن کا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو منتخب کرنا ان کی بہت بڑی فضیلت اور سعادت مندی کی دلیل ہے اور ان سب پر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو مقدم کرنے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان کے ساتھ دیگر سب کی بجائے شدید والہانہ محبت کی دلیل ہے۔‘‘

(الاربعین فی مناقب امہات المومنین رضی اللہ عنہن لابن عساکر: صفحہ 90)

16۔ ابن الاثیر رحمہ اللہ (ت: 630)

آپ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

’’اگر سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے لیے واقعہ افک کے علاوہ کوئی اور فضیلت نہ ہوتی تو ان کے لیے اتنا فضل بزرگی اور علو مرتبت کافی تھا۔ کیونکہ اس واقعہ میں ان کی شان میں قیامت تک پڑھا جانے والا قرآن نازل ہوا۔‘‘

(اسد الغابۃ لابن الاثی: جلد 7 صفحہ 186)

17۔ الآمدی (علی بن محمد بن سالم الآمدی الشافعی۔ اصولی، متکلم 551 ہجری میں پیدا ہوئے۔ علوم معقولات و کلام میں مہارت حاصل کی۔ چنانچہ اپنے زمانے کے متکلمین کے وہ شیخ مشہور تھے۔ ملک معظم بن عادل نے انھیں جامع عزیزیہ کا مدرس مقرر کیا۔ ان کی مشہور تصنیف ’’الاحکام فی اصول الاحکام‘‘ ہے۔ 631 ہجری میں وفات پائی۔ (طبقات الشافعیۃ للسبکی: جلد 8 صفحہ 306۔ سیر اعلام النبلاء للذہبی: جلد 22 صفحہ 364) رحمہ اللہ (ت: 631 ہجری)

آپ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

’’اہل سنت اور اہل الحدیث کا اتفاق ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا تمام جہانوں کی عورتوں سے افضل ہیں۔‘‘

(ابکار الافکار فی اصول الدین للآمدی: جلد 5 صفحہ 291)

18۔ القرطبی رحمہ اللہ (ت: 671ہجری)

آپ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

’’کسی محقق نے کہا: جب یوسف علیہ السلام پر زنا کی تہمت لگائی تو اللہ تعالیٰ نے گود میں پلنے والے ایک بچے کے ذریعہ ان کی برأت کا اعلان کروایا اور جب مریم رحمہ اللہ پر بہتان لگایا گیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کی برأت کا اعلان ان کے نومولود بیٹے عیسیٰ علیہ السلام کے ذریعے کروایا اور عائشہ رضی اللہ عنہا پر بہتان تراشا گیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کی برأت نہ کسی نومولود کے ذریعے کی اور نہ کسی نبی کے ذریعے اعلان کروایا۔ بلکہ اللہ تعالیٰ نے ان کی برأت کا اعلان خود قرآن کے ذریعے کیا اور انھیں تہمت اور بہتان سے پاک دامن قرار دیا۔‘‘

(تفسیر احکام القرآن للقرطبی: جلد 12 صفحہ 212)

20۔ النووی رحمہ اللہ (ت: 766 ہجری)

آپ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

’’اس حدیث میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی فضیلت ان ازواج رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر بیان ہوئی ہے جو اس وقت موجود تھیں اور وہ نو(9) تھیں۔ جن میں سے ایک سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا تھیں۔ علماء کے درمیان اس میں قطعاً کوئی اختلاف نہیں۔ علماء میں اختلاف سیدہ خدیجہ اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہما کی افضلیت کے بارے میں ہے۔‘‘

(شرح مسلم للنووی: جلد 4 صفحہ 139)

نووی رحمہ اللہ نے مزید فرمایا:

’’سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے بکثرت صحابہؓ و تابعینؒ نے احادیث حاصل کیں اور ان کے فضائل و مناقب مشہور و معروف ہیں۔‘‘

(تہذیب الاسماء و اللغات للنووی: جلد 1 صفحہ 943۔)

نیز علامہ نووی رحمہ اللہ نے اس حدیث رسول اللہ کہ ’’مجھے سب لوگوں سے زیادہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے محبت ہے الحدیث‘‘ پر تعلیق میں فرمایا ہے:

’’اس حدیث میں ابوبکر، عمر اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہم کے عظیم فضائل کی تصریح ہے۔‘‘

(شرح مسلم للنووی: جلد 15 صفحہ 153)

21۔ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ (ت: 728 ہجری)

آپ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

’’اہل السنہ کے نزدیک سب اہل بدر اور اسی طرح سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سمیت تمام امہات المؤمنینؓ جنتی ہیں۔‘‘

(منہاج السنۃ النبویۃ لابن تیمۃ: جلد 4 صفحہ 10۔ 309)

21۔ ابن سید الناس (محمد بن محمد بن محمد ابو الفتح مصری شافعی۔ 671 ہجری میں پیدا ہوئے۔ علوم مختلفہ مثلاً حدیث، فقہ، سیر میں مہارت تامہ حاصل کی۔ اپنے وقت کے امام، علامہ، حافظ اور ادیب تھے، سلفی العقیدۃ تھے۔ جامع صالح میں دار الحدیث کے مہتمم بنے۔ ان کی مشہور تصنیف ’’عیون الاثر‘‘ ہے۔ 734 ہجری میں وفات پائی۔ (ذیل تذکرۃ الحفاظ لابی المحاسن: صفحہ 9۔ شذرات الذہب لابن العماد: جلد 6 صفحہ 108۔)  رحمہ اللہ (ت: 734ہجری)

آپ رحمہ اللہ فرماتے ہی :

’’سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے فضائل بے کنار ہیں اور ان کے مناقب بے شمار ہیں۔

(عیون الاثر لابن سید الناس: جلد 2 صفحہ 368)

22۔ ابن جزی رحمہ اللہ (ت: 741 ہجری)

آپ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

’’سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی شان میں قرآن نازل کر کے اللہ تعالیٰ نے واقعہ افک سے ان کی برأت کا اعلان کیا۔ ان آیات میں حد درجہ ان کے ساتھ قدرت کی عنایات اور اہتمام کا تذکرہ ہے۔ ان آیات میں آپ رضی اللہ عنہا کی تکریم کی علامات بھی ہیں اور جنھوں نے آپ رضی اللہ عنہا پر بہتان لگایا، ان کی شدید مذمت بھی ہے۔‘‘

(التسہیل لعلوم التنزیل لابن جزی: جلد 2 صفحہ 62)

23۔ الذہبی رحمہ اللہ (ت: 748 ہجری)

آپ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

’’آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے علاوہ کسی کنواری لڑکی سے شادی نہیں کی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ساتھ شدید محبت کرتے تھے، جس کا اظہار بھی ہوتا رہتا تھا اور آپ علیہ السلام صرف پاکیزہ چیزوں سے ہی محبت کرتے تھے اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ آپﷺ کی محبت معروف و مشہور تھی۔‘‘

(سیر اعلام النبلاء للذہبی: جلد 2 صفحہ 142)

نیز آپ رحمہ اللہ مزید فرماتے ہیں:

’’آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ جواب دلالت کرتا ہے کہ آپ سب امہات المؤمنینؓ سے جو محبت سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کرتے تھے وہ حکم الہٰی سے کرتے تھے اور شاید یہی حکم ان کے ساتھ زیادہ محبت کا سبب تھا۔‘‘

(حوالہ سابقہ: جلد 2 صفحہ 143)

نیز آپ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

’’نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے علاوہ کسی کنواری سے شادی نہیں کی اور نہ آپﷺ نے ان جیسی کسی کے ساتھ محبت کی اور ہم گواہی دیتے ہیں کہ دنیا و آخرت میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ہمارے پیارے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی ہیں اور کوئی بتائے کیا فخر کی اس سے بڑی کوئی اور دلیل ہو سکتی ہے؟‘‘

(حوالہ سابقہ: جلد 2 صفحہ 140)

24۔ ابن القیم الجوزیۃ رحمہ اللہ (ت: 751 ہجری)

آپ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

’’سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی یہ خصوصیت کہ بہتان تراشوں نے ان پر جو بہتان لگایا اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے اس سے ان کی برأت ساتویں آسمان سے وحی کی صورت میں نازل فرمائی جو قیامت تک مسلمانوں کی محرابوں اور نمازوں میں پڑھی جاتی رہے گی اور اللہ تعالیٰ نے خود گواہی دی کہ وہ پاک دامن ہیں اور ان کے ساتھ مغفرت اور عزت والے رزق کا وعدہ کیا۔‘‘

(جلاء الافہام لابن القیم رحمہ اللہ: صفحہ 238)

25۔ السبکی (علی بن عبدالکافی بن علی ابو الحسن سبکی شافعی۔ 683 ہجری میں پیدا ہوئے۔ اپنے وقت کے بڑے محقق، مدقق، حافظ، علامہ، فقیہ، محدث اور اصولی تھے۔ شام کے قاضی تھے۔ اشرفیہ وغیرہ میں دار الحدیث کے نگران رہے۔ ان کی مشہور تصنیف ’’الدر النظیم‘‘ ہے۔ 756 ہجری میں وفات پائی۔ (ذیل تذکرۃ الحفاظ لابی المحاسن: صفحہ 25۔ شذرات الذہب لابن العماد: جلد 6 صفحہ 179۔) رحمہ اللہ (ت: 756 ہجری)

آپ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

’’ان پر یہ اعتراض نہیں کیا جائے گا کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو عطیات میں افضل قرار دیتے تھے۔ کیونکہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ وہی کرتے تھے جو ان پر واجب تھا، یعنی جس کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم محبت کرتے تھے اس کی تعظیم کرنا ہر مسلمان پر واجب ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بھی وہی کرتی تھیں جو ان کی ذات کے لائق تھا اور وہ کوئی چیز ذخیرہ نہیں کرتی تھیں۔ اللہ ان پر اور ان کے باپ پر راضی ہو جائے۔‘‘

(فتاوی سبکی: جلد 2 صفحہ 276)

26۔ الیافعی ( عبداللہ بن اسعد بن علی ابو محمد یافعی شافعی صوفی اشعری۔ 698 ہجری میں پیدا ہوا۔ متعصب اشعری فقیہ تھا۔ شیخ حجاز کہلواتا تھا۔ اس کی مشہور تصنیفات ’’روض الریاحین‘‘ اور ’’مرأۃ الجنان‘‘ ہیں۔ 768 ہجری میں فوت ہوا۔ (طبقات الشافعیۃ لابن قاضی شہبۃ: جلد 4 صفحہ 72۔ شذرات الذہب لابن العماد: جلد 6 صفحہ 210۔) رحمہ اللہ (ت: 768 ہجری)

آپ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ام المؤمنین صدیقہ بنت صدیق، فقیہہ، محدثہ، فصیحہ، محققہ رضی اللہ عنہا کے مناقب بہت زیادہ ہی:

1۔ قرآن کریم ان کی برأت کے لیے نازل ہوا۔

2۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے لحاف میں ہوتے تو جبریل علیہ السلام وحی لے کر آ جاتے۔

3۔ سب لوگوں سے زیادہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو انھی کے ساتھ محبت تھی جیسا کہ صحیح حدیث میں آ چکا ہے۔

4۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے علاوہ کسی کنواری سے شادی نہیں کی۔

5۔ ان کی شان میں قیامت تک پڑھی جانے والی واضح و محکم آیات نازل ہوئیں۔ عائشہ بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما۔

(مرأۃ الجنان و عبرۃ الیقظان للیافعی رحمہ اللہ: جلد 1 صفحہ 5، 104)

27۔ ابن کثیر رحمہ اللہ (ت: 744 ہجری)

آپ فرماتے ہیں:

’’سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی محبوب ترین بیوی تھیں۔ آپ نے ان کے علاوہ کسی کنواری کے ساتھ شادی نہیں کی اور صرف اس امت کی عورتوں سے ہی نہیں بلکہ تمام امتوں کی عورتوں سے وہ بڑھ کر عالمہ و فقیہہ تھیں۔ جب اہل بہتان نے ان کے متعلق باتیں کیں اور جو ان کے منہ میں آیا وہ کہتے رہے تو اللہ تعالیٰ کو غیرت آ گئی اور ان کی برأت کے لیے ساتوں آسمانوں سے اوپر سے وحی نازل ہوئی اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد تقریباً پچاس سال تک زندہ رہیں۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنے ہوئے قرآن و حدیث کو لوگوں تک پوری امانت سے پہنچاتی رہیں اور تاحیات مسلمانوں کو فتویٰ دیتی رہیں اور باہمی اختلاف رکھنے والوں کے درمیان صلح کراتی رہیں۔ وہ تمام امہات المؤمنینؓ سے زیادہ معزز ہیں۔ یہاں تک کہ خدیجہ بنت خویلد رضی اللہ عنہا سے بھی جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بیٹوں اور بیٹیوں کی ماں ہیں۔ یہ قول علماء متقدمین و متاخرین کا ہے اور اس مسئلہ میں احسن توقف ہے۔‘‘

(البدایۃ و النہایۃ لابن کثیر: جلد 2 صفحہ 431)

28۔ ابو حفص سراج الدین نعمانی(عمر بن علی بن عادل ابو حفص نعمانی دمشقی حنبلی: مفسر قرآن تھے۔ ان کی مشہور کتاب ’’داللباب فی علوم الکتاب‘‘ ہے۔ 880 ہجری کے بعد وفات پائی۔ (الأعلام للزرکلی: جلد 5 صفحہ 58۔معجم المؤلفین للرضا الکحالۃ: جلد 7 صفحہ 300) رحمہ اللہ:

فرماتے ہیں:

’’آپ کے لیے غور کا مقام ہے کہ جب یہودیوں نے مریم رحمہ اللہ پر بہتان لگایا تو اللہ تعالیٰ نے اسے بہتان عظیم کہا اور جب منافقوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر بہتان لگایا تو اللہ تعالیٰ نے اسے بھی بہتان عظیم کہا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

سُبۡحٰنَكَ هٰذَا بُهۡتَانٌ عَظِيۡمٌ ۞(سورۃ النور آیت 16)

ترجمہ: یا اللہ! آپ کی ذات ہر عیب سے پاک ہے، یہ تو بڑا زبردست بہتان ہے۔

یہ اس بات کی دلیل ہے کہ روافض جو کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر بہتان لگاتے ہیں وہ ان یہودیوں جیسے ہیں جنھوں نے مریم رحمہ اللہ پر بہتان لگایا تھا۔‘‘

(اللباب فی علوم الکتاب لابی حفص نعمانی: جلد 7 صفحہ 111)

29۔ العراقی (عبدالرحیم بن حسین بن عبدالرحمٰن ابو الفضل مصری: شافعی۔ 765 ہجری میں پیدا ہوئے۔ محنت و کوشش اور اللہ کی توفیق سے اپنے وقت کے حافظ حدیث، حجت تھے۔ مدرسہ کاملیہ فاضلیہ میں پڑھاتے رہے۔ ان کی مشہور تصنیف ’’المغنی عن حمل الاسفار‘‘ ہے۔ 806 ہجری میں وفات پائی۔ (انباء الغمر لابن حجر: جلد 2 صفحہ 275۔ ذیل تذکرۃ الحفاظ لابی المحاسن: صفحہ 5) رحمہ اللہ (ت: 806 ہجری)

فرماتے ہیں:

’’سیدہ عائشہ بنت ابی بکر صدیق ام المؤمنین صدیقہ بنت صدیق رضی اللہ عنہما ہر عیب سے پاک، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبوبہ، فقیہہ اور ربانیہ جن کی کنیت ام عبداللہ رضی اللہ عنہا ہے۔‘‘

(طرح التثریب فی شرح التقریب للعراقی: جلد 1 صفحہ 147)

30۔ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ (ت: 852 ہجری)

فرماتے ہیں:

’’وہ عائشہ بنت ابی بکر صدیق، ام المؤمنین (الحمیراء) رضی اللہ عنہا مطلق طور پر تمام عورتوں سے زیادہ فہم و فراست سے متصف تھیں، سوائے خدیجہ رضی اللہ عنہا کے تمام ازواج نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے افضل تھیں چنانچہ ان دونوں کی افضلیت میں اختلاف مشہور ہے۔‘‘

(تقریب التہذیب لابن حجر: صفحہ 750 )

’ان کے مناقب و فضائل بے شمار ہیں۔‘‘

(حوالہ سابقہ: صفحہ 750 )

31۔ بدر الدین العینی رحمہ اللہ (ت: 855 ہجری) نے حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شرح کرتے ہوئے فرمایا:

’’سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی باری کے دن لوگ اپنے تحائف پیش کرنے کے لیے انتظار کرتے۔‘‘

وہ فرماتے ہیں:

’’اس میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی فضیلت و منقبت کی دلیل ہے۔‘‘

(عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری للعینی: جلد 13 صفحہ 133)

32۔ ابو الحسن البقاعی(ابراہیم بن عمر بن حسن ابو الحسن البقاعی الشافعی۔ 809 ہجری میں پیدا ہوئے۔ نہایت لگن سے علوم حاصل کیے اور اتنی مہارت حاصل کی کہ اپنے شیوخ سے ہی مناظرے کرنے لگے۔ محدث، امام، علامہ، مفسر تھے۔ ان کی مشہور تصنیفات ’’المناسبات القرآنیۃ‘‘ اور ’’عنوان الزمان‘‘ ہیں۔ 885 ہجری میں وفات پائی۔ (شذرات الذہب لابن العماد: جلد 7 صفحہ 338۔ البدر الطالع للشوکانی: جلد 1 صفحہ 210۔) رحمہ اللہ (ت: 885 ہجری)

فرماتے ہیں:

’’سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی برأت نازل ہونے سے جن اہل ایمان کو اللہ تعالیٰ نے ہدایت دے دی انھوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی برأت کا اعلان کیا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے انھیں اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے منتخب کر لیا تھا اور اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کے لیے صرف طیبہ و طاہرہ ہی منتخب کی۔‘‘

(نظم الدرر فی تناسب الآیات و السور للبقاعی: جلد 13 صفحہ 276)

33۔ السیوطی رحمہ اللہ (ت: 911 ہجری) 

آپ نے اس حدیث کہ ’’بے شک عائشہ سب عورتوں سے اس طرح افضل ہے جس طرح سب کھانوں سے ’’ثرید‘‘ افضل ہے۔ الحدیث‘‘ کی شرح کرتے ہوئے فرمایا:

’’ہمارا یہ اعتقاد ہے کہ تمام عورتوں سے افضل سیدہ مریم رحمہ اللہ اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا ہیں اور تمام امہات المؤمنین سے افضل سیدہ خدیجہ اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہما تھیں۔‘‘

(مرقاۃ المفاتیح شرح مشکاۃ المصابیح للملا علی القاری: جلد 9 صفحہ 3994۔ )

34۔ صفی الدین خزرجی (احمد بن عبداللہ بن ابی الخیر صفی الدین خزرجی۔ 900 ہجری میں پیدا ہوئے ان کی مشہور تصنیف ’’خلاصۃ تذہیب الکمال فی اسماء الرجال‘‘ ہے۔ 963 ہجری کے بعد وفات پائی۔ (الاعلام للزرکلی: جلد 1 صفحہ 160۔) رحمہ اللہ:

فرماتے ہیں :

’’عائشہ بنت ابی بکر الصدیق رضی اللہ عنہما التیمیہام عبداللہ فقیہہ، ام المومنین، الربانیہ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبوبہ ہیں۔‘‘

(خلاصۃ تذہیب: تہذیب الکمال لصفی الدین الخزرجی: صفحہ 493)

35۔ ملا علی القاری (یہ علی بن سلطان بن محمد نور الدین الہروی القاری الحنفی ہیں۔ اپنے زمانے کے فقیہ اور علامہ ذخار تھے۔ تحقیق و تنقیح ان کا امتیاز ہے۔ ان کی تصنیفات میں سے مشہور ’’الاسرار المرفوعۃ فی الاخبار الموضوعۃ‘‘ اور ’’المرقاۃ المفاتیح شرح مشکاۃ المصابیح‘‘ ہیں۔ 1014 ہجری میں وفات پائی۔ (الاعلام للزرکلی: جلد 5 صفحہ 12 ۔ معجم المؤلفین للرضا لکحالۃ: جلد 7 صفحہ 100۔) رحمہ اللہ (ت: 1014 ہجری)

آپ نے اس حدیث کہ ’’عائشہ عورتوں سے اس طرح افضل ہے جس طرح کھانوں سے ثرید افضل ہے۔ الحدیث‘‘ کی شرح میں لکھا ہے:

’’حدیث کے الفاظ سے ظاہری معنی یہی نکلتا ہے کہ وہ تمام عورتوں سے افضل ہیں۔ کیونکہ آپ رضی اللہ عنہا میں کمالات علمیہ و عملیہ کی جامعیت ہے اور انھیں ثرید سے تشبیہ دینے کی وجہ یہ ہے کہ عربوں کے ہاں ثرید سب کھانوں سے افضل ہے۔ وہ گوشت، روٹی اور شوربے کو ملا کر بنایا جاتا ہے اور کوئی غذا اس کی ہم پلہ نہیں اور اس میں غذائیت، لذت، قوت، کھانے کی سہولت، چبانے میں زیادہ سہل ہے اور گلے سے جلدی نیچے اترتا ہے اور معدے میں جلدی ہضم ہوتا ہے۔ اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی مثال ثرید سے بیان کی تاکہ معلوم ہو جائے کہ انھیں حسن خلقت کے ساتھ حسن اخلاق، حسن حدیث، شیریں زبان، فصاحت و بلاغت، عمدہ فطرت، رائے کی پختگی، عقل مفکر، خاوند کو محبوب اور خاوند کی خدمت گزاری، ہم کلامی اور خاوند کی ان کے ساتھ انسیت اور اس کی بات کی طرف دھیان دینا اور ان جیسے دیگر معانی اس میں اکٹھے ہو گئے ہیں اور قارئین کے لیے یہی معنیٰ ہی کافی ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے وہ کچھ سمجھ لیا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ کی دوسری بیویوں نے نہیں سمجھا اور آپﷺ سے ایسی روایات کیں کہ جو دوسری عورتوں نے تو کیا مردوں نے بھی وہ احادیث روایت نہ کیں۔‘‘

(مرقاۃ المفاتیح شرح مشکاۃ المصابیح لملا علی القاری: جلد 9 صفحہ 3993)

36۔ اسماعیل حقی الصوفی ( اسماعیل حقی بن مصطفی ابو الفداء استنبولی: حنفی صوفی: الخلوتی۔ 1063 ہجری میں پیدا ہوئے۔ مفسر اور علامہ تھے۔ ان کی مشہور تصنیفات ’’روح البیان فی تفسیر القرآن‘‘ اور ’’الرسالۃ الخلیلیۃ‘‘ ہیں۔ 1127 ہجری میں وفات پائی۔ (الاعلام للزرکلی: جلد 1 صفحہ 313۔ معجم المؤلفین للرضا کحالۃ: جلد 2 صفحہ 266۔)رحمہ اللہ (ت: 1127 ہجری)

فرماتے ہیں:

’’بے شک اللہ تعالیٰ اپنے خاص بندوں کے لیے وہی آزمائش بھیجتا ہے جو لطف حقیقی کا سبب ہو۔ اگرچہ وہ بظاہر قہر و جبر کی صورت میں ہو، ان کا اصل مقصد اہل ایمان کی تادیب، تہذیب، ان کے درجات کو بلند کرنا اور ان کی قربت الہٰی میں اضافہ ہوتا ہے۔ اس لحاظ سے واقعہ افک اگرچہ وہ مصیبت کی صورت میں تھا۔ لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور ان کے ماں باپ اور سب اہل ایمان کے لیے مفید اور سبق آموز ثابت ہوا۔ ابتدا میں تمام صحابہ کے لیے خصوصی آزمائش اور امتحان کی صورت میں ظاہر ہوا۔ لیکن اپنے انجام کے اعتبار سے تربیت اور تہذیب نفوس کے لیے عبرت انگیز اور بے مثال تھا۔ کیونکہ آزمائش انبیاء اور اولیاء پر ہی آتی ہے۔ جیسے سونے کے لیے جلتا ہوا انگارہ ہوتا ہے کہ اس کی میل کچیل نکال کر اسے صاف شفاف بنا دیتا ہے۔ جس طرح کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

اِنَّ اَشَدَّ النَّاسِ بَلَائً اَ لْاَنْبِیَائُ ثُمَّ الْاَوْلِیَائُ، ثُمَّ الْاَمْثَلُ فَالْاَمْثَلُ

ترجمہ: ’’سب سے سخت آزمائش انبیاء پر آتی ہے، پھر اولیاء الرحمٰن پر، پھر جس قدر کوئی دین پر کاربند ہو اسی قدر اس پر سخت آزمائش آتی ہے۔‘‘

اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

یُبْتَلَی الرَّجُلُ عَلٰی قَدْرِ دِیْنِہٖ

(روح البیان لاسماعیل حقی: جلد 6 صفحہ 129۔)

ترجمہ: ’’ہر آدمی اپنے دین کے مطابق آزمایا جاتا ہے۔‘‘ کیونکہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ اپنے خاص محبوب بندوں کے معاملے میں بہت ہی غیور ہے۔‘‘

37۔ ابو الحسن السندی ( محمد بن عبدالہادی ابو الحسن السندی حنفی، حافظ، مفسر، فقیہ، علوم نحو، معانی، اصول کا ماہر تھا۔ اس کی تصنیفات میں سے مشہور صحاح ستہ پر حاشیہ جات ہیں۔ 1137 ہجری کے قریب وفات پائی۔ (الاعلام للزرکلی: جلد 6 صفحہ 253۔ معجم المؤلفین لرضا کحالۃ: جلد 10 صفحہ 262۔) رحمہ اللہ (ت: 1137 ہجری):

آپ اس حدیث جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اللہ کی قسم! مجھ پر وحی نازل نہیں ہوتی جب میں اپنی کسی بیوی کے لحاف میں ہوتا ہوں سوائے عائشہ کے۔ الحدیث‘‘ کی شرح میں لکھتے ہیں:

’’ان کے فخر و شرف کے لیے یہی کافی ہے اور حدیث میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان کے ساتھ محبت، اللہ تعالیٰ کے ہاں ان کی عظمت و تکریم کے تابع ہے۔‘‘

(حاشیۃ السندہ علی النسائی: جلد 7 صفحہ 68 )

نیز وہ اس حدیث کہ ’’جس طرح کھانوں سے ثرید افضل ہے الحدیث۔‘‘ کی تشریح کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

’’سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی فضیلت ان کے حسن خلق، فصاحت لسان، رائے کی پختگی کی وجہ سے ہے، اسی لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے فضل کے بیان کے لیے مستقل کلام کیا ہے اور انھیں ان سے پہلے مذکورہ دو عورتوں (شاید خدیجہ اور فاطمہ، مریم اور خدیجہ یا آسیہ علیہ السلام ) پر معطوف نہیں کیا۔‘‘

(حاشیۃ السندی علی سنن ابن ماجۃ: جلد 2 صفحہ 306)

38۔ ثناء اللہ المظہری صوفی (قاضی ثناء اللہ ہندی، فانی، نقشبندی، حنفی، عثمانی المظہری، عالم، محدث تھے۔ دہلی گئے اور شاہ ولی اللہ دہلوی سے علم حدیث حاصل کیا۔ ان کی تصنیفات میں سے ’’تفسیر المظہری‘‘ اور ’’مالا بد منہ‘‘ ہیں جو فقہ حنفی کی مشہور کتاب ہے۔ 1225 ہجری میں وفات پائی۔ (الاعلام بمن فی تاریخ الہند من الاعلام لعبد الحی الحسنی: جلد 7 صفحہ 942۔) رحمہ اللہ (ت: 1225 ہجری)

فرماتے ہیں:

’’بے شک سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ثناء اور دعا کی مستحق ہیں اس لیے کہ پاک دامن، عفت مآب ہیں اور اس لیے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبوب بیوی ہے تمام اہل ایمان کی ماں ہیں۔ ان کا اکرام و احترام سب امت پر واجب ہے۔ جو ان کے متعلق بدگوئی کرے گا، گویا اس نے حقیقت کو بالکل ہی الٹ دیا۔‘‘

(تفسیر المظہری لثناء اللہ المظہری: جلد 6 صفحہ 473)

39۔ محمد صدیق خان القنوجی (محمد صدیق خان بن حسین بن علی ابو طیب بخاری ہندی ریاست بھوپال میں بہت بڑے محدث تھے۔ 1248 ہجری میں پیدا ہوئے۔ اپنے زمانے کے مجدد تھے۔ ریاست بھوپال ان کا وطن تھا۔ وہاں کی ملکہ سے شادی کی۔ ان کی مشہور تصنیف ’’ابجد العلوم‘‘ ہے۔ 1307 ہجری میں وفات پائی۔ (الاعلام للزرکلی: جلد 6 صفحہ 167۔ ہدیۃ العارفین لاسماعیل پاشا: جلد 6 صفحہ 388۔) رحمہ اللہ (ت: 1307 ہجری)

فرماتے ہیں:

’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم طیب تھے تو وہ اس بات کے زیادہ حق دار تھے کہ وہ طیبہ عورت سے شادی کریں اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا طیبہ تھیں وہ اس بات کی حق دار تھیں کہ ان سے کوئی طیب مرد شادی کرے۔‘‘

(فتح البیان فی مقاصد القرآن للقنوجی: جلد 9 صفحہ 195)

40۔ عبدالرحمٰن سعدی رحمہ اللہ (ت: 1372 ہجری):

آپ نے اپنی تفسیر میں فرمایا:

’’تو اس قصہ بہتان کی بنیاد پر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر بہتان لگانا دراصل نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر بہتان لگانا ہے اور اس بہتان کے ذریعے منافقوں کا مقصد بھی یہی تھا۔ ان کا صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی ہونا ہی اس بات کی دلیل ہے کہ وہ طیبہ و طاہرہ ہیں اور جو بہتان ان پر لگایا گیا ہے اس سے وہ مبرأ ہیں۔ جب وہ ان اوصاف کا مجموعہ ہے کہ سب عورتوں سے سچی، سب سے افضل، سب سے بڑی عالمہ، سب سے بڑی طیبہ اور رب العالمین کے رسول کی محبوبہ بھی ہیں، تو پھر یہ قبیح عیب ان پر کیوں لگایا جاتا ہے؟؟‘‘

(تیسیر الکریم الرحمٰن فی تفسیر الکلام المنان للسعدی: صفحہ 352)

41۔ سید قطب شہید (سید قطب بن ابراہیم مصر کے بہت بڑے اسلامی مفکر تھے۔ 1324 ہجری میں پیدا ہوئے۔ اپنے وقت کے بہت بڑے ادیب، دانشوری اور مفسر تھے۔ مصری حکمران جمال عبدالناصر نے ایک عرصہ تک انھیں جیل میں رکھا اور جیل میں ہی ظلماً شہید کر دئیے گئے۔ ان کی مشہور تصنیف ’’تفسیر فی ظلال القرآن‘‘ اور ’’معالم فی الطریق‘‘ ہیں۔ 1387 ہجری میں شہید ہوئے۔ (عملاق الفکر الاسلامی لعبداللہ عزام: الاعلام للزرکلی: جلد 3 صفحہ 148۔)  رحمہ اللہ (ت: 1385 ہجری)

فرماتے ہیں:

’’سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا طیبہ، طاہرہ ہیں۔ یہی وہ ہستی ہیں جن کے دل کے روشن ہونے، ہر عیب سے پاک ہونے اور ان کے تصورات کے نظیف ہونے کی گواہی قرآن نے دی۔ یہی ہیں وہ جن پر اس چیز کا بہتان لگایا جاتا ہے جو انسان کاسب سے بڑا عزت و فخر والا مقام ہے۔ ان کے حسب نسب پر بہتان لگایا جاتا ہے، حالانکہ وہ صدیق کی بیٹی ہیں۔ معزز و پاک گھرانے میں پلی بڑھی ہیں۔ ان کی امانت پر بہتان لگایا جاتا ہے۔ حالانکہ وہ محمد بن عبداللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی ہیں جو بنو ہاشم میں چوٹی کا خاندان ہے۔ ان کی وفا پر بہتان لگایا جاتا ہے، حالانکہ وہ خاتم الانبیاء و سید المرسلین کی محبوب ترین بیوی ہے۔ پھر ان کے ایمان پر بہتان لگایا جاتا ہے۔ حالانکہ وہ اپنی زندگی کے پہلے دن سے جس دن سے انھوں نے اپنی آنکھیں کھولیں اسلام اور اہل اسلام کی گود میں پرورش پائی، نیز وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی ہیں۔‘‘

(تفسیر فی ظلال القرآن سیّد قطب: جلد 4 صفحہ 2498)

42۔ محمد طاہر بن عاشور (محمد بن محمد بن عاشور ابو عبداللہ تیونسی۔ 1296 ہجری میں پیدا ہوئے۔ تیونس میں مالکی فقہ کے فقیہوں کے رئیس (سربراہ) تھے اور جامع مسجد زیتونہ کے امام و خطیب تھے اور دمشق و قاہرہ میں لجنۃ (کمیٹی) علمائے عرب کے خاص رکن تھے۔ ان کی مشہور تصنیف تفسیر ’’التحریر و التنویر‘‘ ہے۔ (الاعلام للزرکلی: جلد 6 صفحہ 174۔ ہدیۃ العارفین لاسماعیل پاشا: جلد 6 صفحہ 378۔) 1393 ہجری میں وفات پائی۔ رحمہ اللہ (ت: 1339 ہجری)

فرماتے ہیں:

’’اللہ تعالیٰ نے ایسی منصوص آیات کے ذریعے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی بہتان سے برأت کا بندوبست کیا ہے کہ یہ آیات جو عائشہ رضی اللہ عنہا کی شان میں نازل ہوئیں متواتر پڑھی جاتی رہیں گی۔‘‘

  (التحریر و التنویر لابن عاشور: جلد 18 صفحہ 183)

43۔ ابن عثیمین (محمد بن صالح بن عثیمین ابو عبداللہ تمیمی حنبلی، عالم، فقیہ، اصولی، شیخ التفسیر و العقیدۃ اور تمام علوم شرعیہ میں کافی رسوخ رکھتے تھے۔ 1347 ہجری میں پیدا ہوئے۔ زاہد، منکسر المزاج اور صاحب ورع و تقویٰ تھے۔ سعودی عرب میں کبار علماء و مشائخ میں شامل تھے۔ ان کی تصنیفات ’’ایسر التفاسیر لکلام الرحمٰن‘، ’’الشرح الممتع‘‘ اور ’’القول المفید علی کتاب التوحید‘‘ ہیں۔ 1421 ہجری میں وفات پائی۔ (اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ)) (الدر الثمین فی ترجمۃ ابن عثیمین لعصام المری۔)رحمہ اللہ (ت: 1421 ہجری)

فرماتے ہیں:

’’سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی اَن گنت خصوصیات کی مالک تھیں۔ انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آخری لمحات میں حسن معاشرت کی مثال قائم کی اور یہ کہ اللہ تعالیٰ نے انھیں منافقوں کے لگائے گئے بہتان سے بری قرار دیا اور قیامت تک پڑھی جانے والی آیات ان کی شان میں نازل کیں اور یہ کہ انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدی و سنن میں بہت کچھ یاد کیا اور اسے سب امت تک من و عن پہنچایا، جو کسی اور عورت کے نصیب میں نہیں۔ نیز نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے سوا کسی کنواری سے شادی نہیں کی گویا سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خانگی تربیت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھوں انجام پائی۔‘‘

(مجموع الفتاوٰی و رسائل عثیمین: جلد 4 صفحہ 308)

نیز انھوں نے حدیث ’’عائشہ عورتوں سے اس طرح افضل ہیں جس طرح کھانوں میں ثرید افضل ہے الحدیث‘‘ کی شرح میں لکھا:

’’یہ اس کی دلیل ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا مطلق طور پر تمام عورتوں سے افضل ہیں۔‘‘

(حوالہ سابقہ: جلد 8 صفحہ 614)

انھوں نے یہ بھی فرمایا:

’’صدیقہ کہلانے کے اس لیے حق دار ہیں کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق میں کمال حاصل کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے معاملات میں کمال صدق دکھایا اور واقعہ افک میں آنے والی مصیبت کے سامنے کمال صبر کا مظاہرہ کیا۔ جو تمام اہل اسلام کے لیے ان کے صدق کی دلیل ہے اور ان کے اللہ تعالیٰ پر سچے ایمان کا ثبوت ہے۔ چنانچہ جب ان کی برأت پر مشتمل وحی نازل ہوئی تو انھوں نے فرمایا: ’’میں اللہ کے سوا کسی کی تعریف نہیں کروں گی۔‘‘ ان کا یہ قول ان کے کمال ایمان و صدق کی دلیل ہے۔‘‘

(مجموع فتاوٰی و رسائل العثیمین: جلد 8 صفحہ 613 )