دوسرا نکتہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی شان میں علماء کے…

دوسرا نکتہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی شان میں علماء کے اقوال

  علی محمد الصلابی

صفحہ 1 از 7

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے مناقب اور ان کے فضائل کے اعتراف میں اہل سنت کا قطعاً کوئی اختلاف نہیں۔ لیکن ہم چاہتے ہیں ان کے مختلف مذاہب فقہیہ، مختلف مناہج کے اعتبار سے، متقدمین و متاخرین اور معاصرین، متکلمین، اہل تصوف وغیرہم کے اقوال و آراء کو جمع کر دیں۔ تاکہ جو لوگ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے فضائل کے انکاری ہیں ان کی حیثیت واضح ہو جائے۔

1۔ عبید بن عمیر (ت: 68 ہجری)

ایک سائل آیا اور اس نے عبید بن عمیر سے پوچھا: لوگ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟ تو انھوں نے جواب دیا:’’لوگ جو کچھ کہتے ہیں سو کہتے ہیں البتہ ان کے خلاف کوئی بات سن کر دکھ اسی کو ہوتا ہے جس کی وہ ماں ہے۔‘‘

(الطبقات الکبرٰی لابن سعد: جلد 8 صفحہ 78)

2۔ عیسیٰ بن طلحہ (ت 100 ہجری)

(عیسیٰ بن طلحہ بن عبیداللہ، ابو محمد مدنی یہ ثقہ عالم اور حلیم الطبع معزز تھے۔ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس نمائندہ بن کر آئے۔ (سیر اعلام النبلاء للذہبی: جلد 4 صفحہ 367۔ شذرات الذہب لابن العماد: جلد 1 صفحہ 113)

عیسیٰ بن طلحہ کہتے ہیں: ’’نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا جنتی ہیں۔‘‘

(الطبقات الکبری لابن سعد: جلد 8 صفحہ 79)

3۔ الشعبی رحمہ اللہ (ت: 103 ہجری)

کسی نے شعبی رحمہ اللہ سے کہا کہ عائشہ کے علاوہ تمام امہات المومنین سے میں محبت کرتا ہوں، تو شعبی رحمہ اللہ نے اس سے کہا: ’’تو اپنے اس قول میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مخالف ہے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان سب سے زیادہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے محبت کرتے تھے۔‘‘

(المعجم الکبیر للطبرانی: جلد 23 صفحہ 182)

4۔ ابو بکر خلال( احمد بن محمد بن ہارون ابوبکر خلال حنبلی۔ شیخ الحنابلہ، اپنے وقت کے امام، حافظ، فقیہ اور بہت بڑے عالم تھے ان کی مشہور تصنیفات ’’العلل‘‘ اور ’’الجامع لعلوم الامام احمد‘‘ ہیں۔ (طبقات الحنابلہ لابن ابی یعلیٰ: جلد 2 صفحہ 11۔ سیر اعلام النبلاء للذہبی: جلد 14 صفحہ 297) ( رحمہ اللہ (ت: 311 ہجری) وہ فرماتے ہیں:

’’ام المؤمنین رضی اللہ عنہا نے سچ کہا، وہ اللہ عزوجل کے نزدیک پاک دامن ہیں۔‘‘

5۔ الآجری رحمہ اللہ (ت: 360 ہجری)

فرماتے ہیں:

’’اللہ تعالیٰ ہمارے اور تمہارے اوپر رحم کرے، تم جان لو کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سمیت تمام امہات المؤمنینؓ کو اللہ عزوجل نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے فضیلت عطا کی۔ ان میں سے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا شرف عظیم ہے اور وصف کریم ہے۔ وہ دنیا و آخرت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی ہیں۔‘‘

(الشریعۃ للآجری: جلد 5 صفحہ 2394)

نیز وہ فرماتے ہیں:

’’وہ شخص برباد و ہلاک اور خسارے میں ہو گیا جس کے دل میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے خلاف ذرہ بھر بغض ہے، یا کسی صحابی رسول یا اہل بیت رسول کے کسی بھی فرد کے خلاف وہ کینہ رکھتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان سب سے راضی ہو جائے اور ان کی محبت کے واسطے ہمیں نفع دے۔‘‘

(حوالہ سابقہ: جلد 5 صفحہ 2428)

6۔ ابن شاہین (ت: 385 ہجری)

فرماتے ہیں:

’’سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ایسے بے شمار فضائل ہیں جو اور کسی میں نہیں، مثلاً:

1۔ قرآن کریم میں تقریباً مسلسل سولہ آیات ان کی برأت میں نازل ہوئیں۔

2۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اکثر مواقع پر ان کے ساتھ مزاح فرماتے تھے۔

3۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھل کر بے تکلفانہ گفتگو کرتی تھیں جن کی کسی دوسرے میں جرأت نہ تھی۔

4۔ اکثر اصحاب رسولﷺ کا اس حقیقت پر اجماع ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک محبوب ترین شخصیت تھیں۔ جیسا کہ ام سلمہ، عمار رضی اللہ عنہما اور دوسروں نے روایت کیا ہے۔

5۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان کہ ’’تمام عورتوں سے عائشہ اس طرح افضل ہیں جس طرح تمام کھانوں سے ثرید افضل کھانا ہے۔‘‘

6۔ نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ رضی اللہ عنہا کے ساتھ دو بار دوڑنے کا مقابلہ کیا۔

7۔ ایک دن سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ’’وَاعَرُوْسَاہ‘‘ ہائے میری دلہن! جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو گھر میں نہ پایا۔ تب اللہ عزوجل ان کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے آیا۔

(شرح مذاہب اہل السنۃ لابن شاہین: صفحہ 303)

7۔ ابو نعیم (احمد بن عبداللہ بن احمد ابو نعیم الاصبہانی۔ حافظ، محدث العصر۔ 336 ہجری میں پیدا ہوئے۔ پختہ حافظ تھے، علویت کی طرف مائل تھے۔ ان سے علم حاصل کرنے کے لیے حفاظ حدیث بکثرت آیا کرتے تھے۔ ان کی تصنیفات میں سے ’’حلیۃ الاولیاء‘‘ اور ’’معرفۃ الصحابۃ‘‘ مشہور ہیں۔ 430 ہجری میں وفات پائی۔ (سیر اعلام النبلاء للذہبی: جلد 17 صفحہ 453۔ وفیات الاعیان لابن خلکان: جلد 7 صفحہ 373۔ رحمہ اللہ (ت: 430 ہجری)

ابو نعیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

’’انھیں دنیا کی رغبت نہیں تھی اور دنیاوی مسرتوں سے بے پروا تھیں اور دنیا داروں کی موت پر افسوس کرتی تھیں۔‘‘

(حلیۃ الاولیاء و طبقات الاصفیاء لابی نعیم الاصبہانی: جلد 2 صفحہ 44)

مزید فرماتے ہیں: ’’جو گزشتہ صفحات میں ابن شاہین سے منسوب کیا گیا ہے وہی ان سے منسوب و مکرر ہے۔‘‘ (ظفر)

8۔ ابن بطال رحمہ اللہ (ت: 449 ہجری)

ابن بطال رحمہ اللہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کہ ’’بے شک وہ آخر ابوبکر کی بیٹی ہے۔‘‘ کی تشریح میں لکھتے ہیں :’’اس جملے میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی فہم و فراست کے ساتھ فضیلت کی طرف بھی اشارہ ہے۔‘‘

(شرح صحیح البخاری لابن بطال: جلد 7 صفحہ 94)

9۔ ابن حزم رحمہ اللہ (ت: 456 ہجری)

آپ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

صفحہ 1 از 7