دوسرا نکتہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی شان میں علماء کے…

دوسرا نکتہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی شان میں علماء کے اقوال

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 7

’’تو یہ صحیح ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان کہ سب لوگوں سے زیادہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو محبوب سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور مردوں میں سے ان کا باپ ہے۔‘‘ وحی تھا جو اللہ تعالیٰ نے آپ پر کی تھی۔ تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایسے ہو جائیں تو آپ نے وحی کے ذریعے یہ بتایا اپنی خواہش سے نہیں اور جو یہ گمان کرے (کہ ایسا نہیں ) تو بے شک اس نے اللہ تعالیٰ کو جھوٹا کہا ہے۔ لیکن سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا دین میں اس فضیلت کی مستحق قرار پائیں اور اس فضیلت میں سب لوگوں سے آگے بڑھ گئیں یہ اس بات کا سبب ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سب لوگوں سے زیادہ ان سے محبت کریں اور بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو ان کے باپ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور عمر و علی اور فاطمہ رضی اللہ عنہم پر اعلانیہ فضیلت دی ہے۔ اس میں کوئی شک و شبہ نہیں۔‘‘

(الفصل فی الملل و الاہواء و النحل لابن حزم: جلد 4 صفحہ 95 اور عنقریب اس روایت کی مزید تفصیل سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی فضیلت کے ضمن میں بیان کی جائے گی۔ ان شاء اللہ۔

10۔ البیہقی رحمہ اللہ (ت: 458)

آپ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

’’سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بنت صدیق کی برأت میں اللہ تعالیٰ نے سولہ یا سترہ مسلسل آیات اتاریں:

اِنَّ الَّذِيۡنَ جَآءُوۡ بِالۡاِفۡكِ عُصۡبَةٌ مِّنۡكُمۡ‌  لَا تَحۡسَبُوۡهُ شَرًّا لَّـكُمۡ‌ بَلۡ هُوَ خَيۡرٌ لَّـكُمۡ‌  لِكُلِّ امۡرِىٴٍ مِّنۡهُمۡ مَّا اكۡتَسَبَ مِنَ الۡاِثۡمِ‌ وَالَّذِىۡ تَوَلّٰى كِبۡرَهٗ مِنۡهُمۡ لَهٗ عَذَابٌ عَظِيۡمٌ ۞ (سورۃ النور آیت 11 )

ترجمہ: یقین جانو کہ جو لوگ یہ جھوٹی تہمت گھڑ کر لائے ہیں وہ تمہارے اندر ہی کا ایک ٹولہ ہے تم اس بات کو اپنے لیے برا نہ سمجھو، بلکہ یہ تمہارے لیے بہتر ہی بہتر ہے۔ ان لوگوں میں سے ہر ایک کے حصے میں اپنے کیے کا گناہ آیا ہے۔ اور ان میں سے جس شخص نے اس (بہتان) کا بڑا حصہ اپنے سر لیا ہے اس کے لیے تو زبردست عذاب ہے۔

جب ان پر بہتان تراشا گیا تو یہ آیات قیامت تک مسلمانوں کی مساجد، ان کی نمازوں، ان کے محرابوں میں پڑھی جاتی رہیں گی۔ جن میں اس مظلومہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی عفت و پاک دامنی، طہارت اور محافظت کا اعلان کیا گیا اور جن ظالموں نے یہ بہتان تراشا تھا ان کے گناہ، عذاب عظیم اور متواتر لعنت کا اظہار کیا گیا۔ اس میں وہ جتنا بھی فخر کریں کم ہے اور ان پر الزام لگانے والوں کے لیے تیار کیے گئے عذاب دنیوی و اخروی کا تذکرہ ہے جو بے حد و حساب و بے کنار ہے۔

11۔ ابو القاسم اسماعیل اصبہانی (اسماعیل بن محمد بن فضل ابو القاسم اصبہانی رحمہ اللہ۔ حافظ کبیر اور شیخ الاسلام مشہور ہوئے۔ 457 ہجری میں پیدا ہوئے۔ اپنے وقت کے ائمہ کے امام ان کا لقب ’’قوام السنہ‘‘ تھا لوگوں کو حدیث کا درس دیتے جرح و تعدیل کے بہت بڑے عالم تھے۔ ان کی مشہور تصنیف ’’الترغیب و الترہیب‘‘ ہے۔ 535 ہجری میں وفات پائی۔ (سیر اعلام النبلاء للذہبی: جلد 20 صفحہ 80۔ شذرات الذہب لابن العماد: جلد 4 صفحہ 104۔) رحمہ اللہ (ت: 535 ہجری)

آپ فرماتے ہیں:

’’سیدہ عائشہ صدیقہ بنت صدیق رضی اللہ عنہما اللہ کے محبوب کی محبوبہ، ہر عیب سے پاک ہر شک و شبہ سے بالاتر ہیں۔ اللہ ان سے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام ازواج سے راضی ہو جائے۔‘‘

(الحجۃ فی بیان المحجۃ لقوام السنۃ: جلد 1 صفحہ 248)

12۔ الزمخشری رحمہ اللہ (ت: 538 ہجری)

آپ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

’’اگر آپ قرآن کی تلاوت کریں اور اس میں اللہ تعالیٰ نے نافرمانوں کو جتنی وعیدیں دلائی ہیں سب کو جمع کریں تو آپ کو بخوبی علم ہو گا کہ اللہ تعالیٰ نے جتنا غیظ و غضب اور غصہ اور شدت وعید ان لوگوں کو دی ہے جنھوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر بہتان لگایا اس قدر کسی اور نافرمان کو اللہ تعالیٰ نے سخت وعید نہیں دی۔

(الاجابۃ لا یراد ما استدرکتہ عائشۃ علی الصحابۃ للزرکشی: صفحہ 59، 60)

13۔ الرازی رحمہ اللہ (ت: 606 ہجری)

آپ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

’’اس حقیقت حال سے واقف ہو جانا چاہیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام ازواج مطہراتؓ آپﷺ کے ساتھ جنت میں ہوں گی۔ اس ضمن میں متعدد صحیح احادیث موجود ہیں اور یہ احتمال ہے کہ ان احادیث سے مراد یہ ہے کہ اگر وہ کبائر سے اجتناب کریں اور توبہ کریں تاہم پہلی بات زیادہ بہتر ہے۔ کیونکہ جب آیت کو ظاہری معنیٰ پر محمول نہ کیا جائے تو اس کی شرط موجود ہونی چاہیے لیکن جب آیت کا ظاہری معنیٰ کیا جا سکے تو پھر شرط لگانے کی کوئی ضرورت نہیں اور اس میں یہ دلیل بھی ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا لامحالہ جنت میں جائیں گی۔‘‘

(مفاتیح الغیب للرازی: جلد 23 صفحہ 355)

14۔ ابن قدامہ (عبداللہ بن احمد بن قدامہ ابو محمد المقدسی۔ 541 ہجری میں پیدا ہوئے اپنے وقت کے شیخ الاسلام، فقیہ، زاہد، جامع مسجد دمشق کے امام، ثقہ، حجۃ، طریقۂ اسلاف کے پیروکار، صاحب ورع و عابد تھے۔ ان کی مشہور تصنیفات ’’المغنی‘‘ اور ’’الکافی‘‘ ہیں۔ 620 ہجری میں وفات پائی۔ (ذیل طبقات الحنابلۃ لابن رجب: جلد 3 صفحہ 281۔ سیر اعلام النبلاء للذہبی: جلد 22 صفحہ 166) رحمہ اللہ (ت 670 ہجری)

آپ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج سے راضی رہنا سنت ہے۔ جو امہات المؤمنینؓ ہیں اور ہر عیب سے بری ہیں ان سب میں سے افضل سیدہ خدیجہ بنت خویلد رضی اللہ عنہا اور سیدہ عائشہ بنت صدیق رضی اللہ عنہا ہیں  جن کی برأت اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں نازل فرمائی اور وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دنیوی و اخروی بیوی ہیں، تو جس بہتان سے اللہ تعالیٰ نے ان کو بری کر دیا، اس پر جو شخص وہی بہتان لگاتا ہے وہ عظمت والے اللہ سے کفر کرتا ہے۔‘‘

(لمعۃ الاعتقاد لابن قدامہ المقدسی: صفحہ 40)

صفحہ 2 از 7