دوسرا نکتہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی شان میں علماء کے…

دوسرا نکتہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی شان میں علماء کے اقوال

  علی محمد الصلابی

صفحہ 3 از 7

15۔ ابن عساکر (عبدالرحمٰن بن محمد بن حسن، ابو منصور دمشقی۔ 550 ہجری میں پیدا ہوئے۔ اپنے وقت کے بڑے امام، شیخ مذہب شافعی، عابد اور صاحب ورع تھے۔ جاروخیہ اور صلاحیہ نامی شہروں میں درس حدیث دیتے رہے اور عذراویہ میں سب سے پہلے انھوں نے تدریس کی۔ ان کی مشہور کتاب ’’الاربعین‘‘ ہے۔ 620 ہجری میں وفات پائی۔ (سیر اعلام النبلاء للذہبی: جلد 22 صفحہ 187۔ طبقات الشافعیۃ الکبرٰی للسبکی: جلد 8 صفحہ 175) رحمہ اللہ ( 620 ہجری)

آپ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

’’تنگ دستی کے باوجود ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن کا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو منتخب کرنا ان کی بہت بڑی فضیلت اور سعادت مندی کی دلیل ہے اور ان سب پر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو مقدم کرنے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان کے ساتھ دیگر سب کی بجائے شدید والہانہ محبت کی دلیل ہے۔‘‘

(الاربعین فی مناقب امہات المومنین رضی اللہ عنہن لابن عساکر: صفحہ 90)

16۔ ابن الاثیر رحمہ اللہ (ت: 630)

آپ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

’’اگر سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے لیے واقعہ افک کے علاوہ کوئی اور فضیلت نہ ہوتی تو ان کے لیے اتنا فضل بزرگی اور علو مرتبت کافی تھا۔ کیونکہ اس واقعہ میں ان کی شان میں قیامت تک پڑھا جانے والا قرآن نازل ہوا۔‘‘

(اسد الغابۃ لابن الاثی: جلد 7 صفحہ 186)

17۔ الآمدی (علی بن محمد بن سالم الآمدی الشافعی۔ اصولی، متکلم 551 ہجری میں پیدا ہوئے۔ علوم معقولات و کلام میں مہارت حاصل کی۔ چنانچہ اپنے زمانے کے متکلمین کے وہ شیخ مشہور تھے۔ ملک معظم بن عادل نے انھیں جامع عزیزیہ کا مدرس مقرر کیا۔ ان کی مشہور تصنیف ’’الاحکام فی اصول الاحکام‘‘ ہے۔ 631 ہجری میں وفات پائی۔ (طبقات الشافعیۃ للسبکی: جلد 8 صفحہ 306۔ سیر اعلام النبلاء للذہبی: جلد 22 صفحہ 364) رحمہ اللہ (ت: 631 ہجری)

آپ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

’’اہل سنت اور اہل الحدیث کا اتفاق ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا تمام جہانوں کی عورتوں سے افضل ہیں۔‘‘

(ابکار الافکار فی اصول الدین للآمدی: جلد 5 صفحہ 291)

18۔ القرطبی رحمہ اللہ (ت: 671ہجری)

آپ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

’’کسی محقق نے کہا: جب یوسف علیہ السلام پر زنا کی تہمت لگائی تو اللہ تعالیٰ نے گود میں پلنے والے ایک بچے کے ذریعہ ان کی برأت کا اعلان کروایا اور جب مریم رحمہ اللہ پر بہتان لگایا گیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کی برأت کا اعلان ان کے نومولود بیٹے عیسیٰ علیہ السلام کے ذریعے کروایا اور عائشہ رضی اللہ عنہا پر بہتان تراشا گیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کی برأت نہ کسی نومولود کے ذریعے کی اور نہ کسی نبی کے ذریعے اعلان کروایا۔ بلکہ اللہ تعالیٰ نے ان کی برأت کا اعلان خود قرآن کے ذریعے کیا اور انھیں تہمت اور بہتان سے پاک دامن قرار دیا۔‘‘

(تفسیر احکام القرآن للقرطبی: جلد 12 صفحہ 212)

20۔ النووی رحمہ اللہ (ت: 766 ہجری)

آپ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

’’اس حدیث میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی فضیلت ان ازواج رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر بیان ہوئی ہے جو اس وقت موجود تھیں اور وہ نو(9) تھیں۔ جن میں سے ایک سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا تھیں۔ علماء کے درمیان اس میں قطعاً کوئی اختلاف نہیں۔ علماء میں اختلاف سیدہ خدیجہ اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہما کی افضلیت کے بارے میں ہے۔‘‘

(شرح مسلم للنووی: جلد 4 صفحہ 139)

نووی رحمہ اللہ نے مزید فرمایا:

’’سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے بکثرت صحابہؓ و تابعینؒ نے احادیث حاصل کیں اور ان کے فضائل و مناقب مشہور و معروف ہیں۔‘‘

(تہذیب الاسماء و اللغات للنووی: جلد 1 صفحہ 943۔)

نیز علامہ نووی رحمہ اللہ نے اس حدیث رسول اللہ کہ ’’مجھے سب لوگوں سے زیادہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے محبت ہے الحدیث‘‘ پر تعلیق میں فرمایا ہے:

’’اس حدیث میں ابوبکر، عمر اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہم کے عظیم فضائل کی تصریح ہے۔‘‘

(شرح مسلم للنووی: جلد 15 صفحہ 153)

21۔ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ (ت: 728 ہجری)

آپ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

’’اہل السنہ کے نزدیک سب اہل بدر اور اسی طرح سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سمیت تمام امہات المؤمنینؓ جنتی ہیں۔‘‘

(منہاج السنۃ النبویۃ لابن تیمۃ: جلد 4 صفحہ 10۔ 309)

21۔ ابن سید الناس (محمد بن محمد بن محمد ابو الفتح مصری شافعی۔ 671 ہجری میں پیدا ہوئے۔ علوم مختلفہ مثلاً حدیث، فقہ، سیر میں مہارت تامہ حاصل کی۔ اپنے وقت کے امام، علامہ، حافظ اور ادیب تھے، سلفی العقیدۃ تھے۔ جامع صالح میں دار الحدیث کے مہتمم بنے۔ ان کی مشہور تصنیف ’’عیون الاثر‘‘ ہے۔ 734 ہجری میں وفات پائی۔ (ذیل تذکرۃ الحفاظ لابی المحاسن: صفحہ 9۔ شذرات الذہب لابن العماد: جلد 6 صفحہ 108۔)  رحمہ اللہ (ت: 734ہجری)

آپ رحمہ اللہ فرماتے ہی :

’’سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے فضائل بے کنار ہیں اور ان کے مناقب بے شمار ہیں۔

(عیون الاثر لابن سید الناس: جلد 2 صفحہ 368)

22۔ ابن جزی رحمہ اللہ (ت: 741 ہجری)

آپ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

’’سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی شان میں قرآن نازل کر کے اللہ تعالیٰ نے واقعہ افک سے ان کی برأت کا اعلان کیا۔ ان آیات میں حد درجہ ان کے ساتھ قدرت کی عنایات اور اہتمام کا تذکرہ ہے۔ ان آیات میں آپ رضی اللہ عنہا کی تکریم کی علامات بھی ہیں اور جنھوں نے آپ رضی اللہ عنہا پر بہتان لگایا، ان کی شدید مذمت بھی ہے۔‘‘

(التسہیل لعلوم التنزیل لابن جزی: جلد 2 صفحہ 62)

23۔ الذہبی رحمہ اللہ (ت: 748 ہجری)

آپ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

’’آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے علاوہ کسی کنواری لڑکی سے شادی نہیں کی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ساتھ شدید محبت کرتے تھے، جس کا اظہار بھی ہوتا رہتا تھا اور آپ علیہ السلام صرف پاکیزہ چیزوں سے ہی محبت کرتے تھے اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ آپﷺ کی محبت معروف و مشہور تھی۔‘‘

(سیر اعلام النبلاء للذہبی: جلد 2 صفحہ 142)

نیز آپ رحمہ اللہ مزید فرماتے ہیں:

’’آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ جواب دلالت کرتا ہے کہ آپ سب امہات المؤمنینؓ سے جو محبت سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کرتے تھے وہ حکم الہٰی سے کرتے تھے اور شاید یہی حکم ان کے ساتھ زیادہ محبت کا سبب تھا۔‘‘

صفحہ 3 از 7