دوسرا نکتہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی شان میں علماء کے…

دوسرا نکتہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی شان میں علماء کے اقوال

  علی محمد الصلابی

صفحہ 4 از 7

(حوالہ سابقہ: جلد 2 صفحہ 143)

نیز آپ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

’’نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے علاوہ کسی کنواری سے شادی نہیں کی اور نہ آپﷺ نے ان جیسی کسی کے ساتھ محبت کی اور ہم گواہی دیتے ہیں کہ دنیا و آخرت میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ہمارے پیارے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی ہیں اور کوئی بتائے کیا فخر کی اس سے بڑی کوئی اور دلیل ہو سکتی ہے؟‘‘

(حوالہ سابقہ: جلد 2 صفحہ 140)

24۔ ابن القیم الجوزیۃ رحمہ اللہ (ت: 751 ہجری)

آپ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

’’سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی یہ خصوصیت کہ بہتان تراشوں نے ان پر جو بہتان لگایا اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے اس سے ان کی برأت ساتویں آسمان سے وحی کی صورت میں نازل فرمائی جو قیامت تک مسلمانوں کی محرابوں اور نمازوں میں پڑھی جاتی رہے گی اور اللہ تعالیٰ نے خود گواہی دی کہ وہ پاک دامن ہیں اور ان کے ساتھ مغفرت اور عزت والے رزق کا وعدہ کیا۔‘‘

(جلاء الافہام لابن القیم رحمہ اللہ: صفحہ 238)

25۔ السبکی (علی بن عبدالکافی بن علی ابو الحسن سبکی شافعی۔ 683 ہجری میں پیدا ہوئے۔ اپنے وقت کے بڑے محقق، مدقق، حافظ، علامہ، فقیہ، محدث اور اصولی تھے۔ شام کے قاضی تھے۔ اشرفیہ وغیرہ میں دار الحدیث کے نگران رہے۔ ان کی مشہور تصنیف ’’الدر النظیم‘‘ ہے۔ 756 ہجری میں وفات پائی۔ (ذیل تذکرۃ الحفاظ لابی المحاسن: صفحہ 25۔ شذرات الذہب لابن العماد: جلد 6 صفحہ 179۔) رحمہ اللہ (ت: 756 ہجری)

آپ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

’’ان پر یہ اعتراض نہیں کیا جائے گا کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو عطیات میں افضل قرار دیتے تھے۔ کیونکہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ وہی کرتے تھے جو ان پر واجب تھا، یعنی جس کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم محبت کرتے تھے اس کی تعظیم کرنا ہر مسلمان پر واجب ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بھی وہی کرتی تھیں جو ان کی ذات کے لائق تھا اور وہ کوئی چیز ذخیرہ نہیں کرتی تھیں۔ اللہ ان پر اور ان کے باپ پر راضی ہو جائے۔‘‘

(فتاوی سبکی: جلد 2 صفحہ 276)

26۔ الیافعی ( عبداللہ بن اسعد بن علی ابو محمد یافعی شافعی صوفی اشعری۔ 698 ہجری میں پیدا ہوا۔ متعصب اشعری فقیہ تھا۔ شیخ حجاز کہلواتا تھا۔ اس کی مشہور تصنیفات ’’روض الریاحین‘‘ اور ’’مرأۃ الجنان‘‘ ہیں۔ 768 ہجری میں فوت ہوا۔ (طبقات الشافعیۃ لابن قاضی شہبۃ: جلد 4 صفحہ 72۔ شذرات الذہب لابن العماد: جلد 6 صفحہ 210۔) رحمہ اللہ (ت: 768 ہجری)

آپ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ام المؤمنین صدیقہ بنت صدیق، فقیہہ، محدثہ، فصیحہ، محققہ رضی اللہ عنہا کے مناقب بہت زیادہ ہی:

1۔ قرآن کریم ان کی برأت کے لیے نازل ہوا۔

2۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے لحاف میں ہوتے تو جبریل علیہ السلام وحی لے کر آ جاتے۔

3۔ سب لوگوں سے زیادہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو انھی کے ساتھ محبت تھی جیسا کہ صحیح حدیث میں آ چکا ہے۔

4۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے علاوہ کسی کنواری سے شادی نہیں کی۔

5۔ ان کی شان میں قیامت تک پڑھی جانے والی واضح و محکم آیات نازل ہوئیں۔ عائشہ بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما۔

(مرأۃ الجنان و عبرۃ الیقظان للیافعی رحمہ اللہ: جلد 1 صفحہ 5، 104)

27۔ ابن کثیر رحمہ اللہ (ت: 744 ہجری)

آپ فرماتے ہیں:

’’سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی محبوب ترین بیوی تھیں۔ آپ نے ان کے علاوہ کسی کنواری کے ساتھ شادی نہیں کی اور صرف اس امت کی عورتوں سے ہی نہیں بلکہ تمام امتوں کی عورتوں سے وہ بڑھ کر عالمہ و فقیہہ تھیں۔ جب اہل بہتان نے ان کے متعلق باتیں کیں اور جو ان کے منہ میں آیا وہ کہتے رہے تو اللہ تعالیٰ کو غیرت آ گئی اور ان کی برأت کے لیے ساتوں آسمانوں سے اوپر سے وحی نازل ہوئی اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد تقریباً پچاس سال تک زندہ رہیں۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنے ہوئے قرآن و حدیث کو لوگوں تک پوری امانت سے پہنچاتی رہیں اور تاحیات مسلمانوں کو فتویٰ دیتی رہیں اور باہمی اختلاف رکھنے والوں کے درمیان صلح کراتی رہیں۔ وہ تمام امہات المؤمنینؓ سے زیادہ معزز ہیں۔ یہاں تک کہ خدیجہ بنت خویلد رضی اللہ عنہا سے بھی جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بیٹوں اور بیٹیوں کی ماں ہیں۔ یہ قول علماء متقدمین و متاخرین کا ہے اور اس مسئلہ میں احسن توقف ہے۔‘‘

(البدایۃ و النہایۃ لابن کثیر: جلد 2 صفحہ 431)

28۔ ابو حفص سراج الدین نعمانی(عمر بن علی بن عادل ابو حفص نعمانی دمشقی حنبلی: مفسر قرآن تھے۔ ان کی مشہور کتاب ’’داللباب فی علوم الکتاب‘‘ ہے۔ 880 ہجری کے بعد وفات پائی۔ (الأعلام للزرکلی: جلد 5 صفحہ 58۔معجم المؤلفین للرضا الکحالۃ: جلد 7 صفحہ 300) رحمہ اللہ:

فرماتے ہیں:

’’آپ کے لیے غور کا مقام ہے کہ جب یہودیوں نے مریم رحمہ اللہ پر بہتان لگایا تو اللہ تعالیٰ نے اسے بہتان عظیم کہا اور جب منافقوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر بہتان لگایا تو اللہ تعالیٰ نے اسے بھی بہتان عظیم کہا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

سُبۡحٰنَكَ هٰذَا بُهۡتَانٌ عَظِيۡمٌ ۞(سورۃ النور آیت 16)

ترجمہ: یا اللہ! آپ کی ذات ہر عیب سے پاک ہے، یہ تو بڑا زبردست بہتان ہے۔

یہ اس بات کی دلیل ہے کہ روافض جو کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر بہتان لگاتے ہیں وہ ان یہودیوں جیسے ہیں جنھوں نے مریم رحمہ اللہ پر بہتان لگایا تھا۔‘‘

(اللباب فی علوم الکتاب لابی حفص نعمانی: جلد 7 صفحہ 111)

29۔ العراقی (عبدالرحیم بن حسین بن عبدالرحمٰن ابو الفضل مصری: شافعی۔ 765 ہجری میں پیدا ہوئے۔ محنت و کوشش اور اللہ کی توفیق سے اپنے وقت کے حافظ حدیث، حجت تھے۔ مدرسہ کاملیہ فاضلیہ میں پڑھاتے رہے۔ ان کی مشہور تصنیف ’’المغنی عن حمل الاسفار‘‘ ہے۔ 806 ہجری میں وفات پائی۔ (انباء الغمر لابن حجر: جلد 2 صفحہ 275۔ ذیل تذکرۃ الحفاظ لابی المحاسن: صفحہ 5) رحمہ اللہ (ت: 806 ہجری)

فرماتے ہیں:

’’سیدہ عائشہ بنت ابی بکر صدیق ام المؤمنین صدیقہ بنت صدیق رضی اللہ عنہما ہر عیب سے پاک، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبوبہ، فقیہہ اور ربانیہ جن کی کنیت ام عبداللہ رضی اللہ عنہا ہے۔‘‘

صفحہ 4 از 7