دوسرا نکتہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی شان میں علماء کے…

دوسرا نکتہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی شان میں علماء کے اقوال

  علی محمد الصلابی

صفحہ 5 از 7

(طرح التثریب فی شرح التقریب للعراقی: جلد 1 صفحہ 147)

30۔ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ (ت: 852 ہجری)

فرماتے ہیں:

’’وہ عائشہ بنت ابی بکر صدیق، ام المؤمنین (الحمیراء) رضی اللہ عنہا مطلق طور پر تمام عورتوں سے زیادہ فہم و فراست سے متصف تھیں، سوائے خدیجہ رضی اللہ عنہا کے تمام ازواج نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے افضل تھیں چنانچہ ان دونوں کی افضلیت میں اختلاف مشہور ہے۔‘‘

(تقریب التہذیب لابن حجر: صفحہ 750 )

’ان کے مناقب و فضائل بے شمار ہیں۔‘‘

(حوالہ سابقہ: صفحہ 750 )

31۔ بدر الدین العینی رحمہ اللہ (ت: 855 ہجری) نے حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شرح کرتے ہوئے فرمایا:

’’سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی باری کے دن لوگ اپنے تحائف پیش کرنے کے لیے انتظار کرتے۔‘‘

وہ فرماتے ہیں:

’’اس میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی فضیلت و منقبت کی دلیل ہے۔‘‘

(عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری للعینی: جلد 13 صفحہ 133)

32۔ ابو الحسن البقاعی(ابراہیم بن عمر بن حسن ابو الحسن البقاعی الشافعی۔ 809 ہجری میں پیدا ہوئے۔ نہایت لگن سے علوم حاصل کیے اور اتنی مہارت حاصل کی کہ اپنے شیوخ سے ہی مناظرے کرنے لگے۔ محدث، امام، علامہ، مفسر تھے۔ ان کی مشہور تصنیفات ’’المناسبات القرآنیۃ‘‘ اور ’’عنوان الزمان‘‘ ہیں۔ 885 ہجری میں وفات پائی۔ (شذرات الذہب لابن العماد: جلد 7 صفحہ 338۔ البدر الطالع للشوکانی: جلد 1 صفحہ 210۔) رحمہ اللہ (ت: 885 ہجری)

فرماتے ہیں:

’’سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی برأت نازل ہونے سے جن اہل ایمان کو اللہ تعالیٰ نے ہدایت دے دی انھوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی برأت کا اعلان کیا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے انھیں اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے منتخب کر لیا تھا اور اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کے لیے صرف طیبہ و طاہرہ ہی منتخب کی۔‘‘

(نظم الدرر فی تناسب الآیات و السور للبقاعی: جلد 13 صفحہ 276)

33۔ السیوطی رحمہ اللہ (ت: 911 ہجری) 

آپ نے اس حدیث کہ ’’بے شک عائشہ سب عورتوں سے اس طرح افضل ہے جس طرح سب کھانوں سے ’’ثرید‘‘ افضل ہے۔ الحدیث‘‘ کی شرح کرتے ہوئے فرمایا:

’’ہمارا یہ اعتقاد ہے کہ تمام عورتوں سے افضل سیدہ مریم رحمہ اللہ اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا ہیں اور تمام امہات المؤمنین سے افضل سیدہ خدیجہ اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہما تھیں۔‘‘

(مرقاۃ المفاتیح شرح مشکاۃ المصابیح للملا علی القاری: جلد 9 صفحہ 3994۔ )

34۔ صفی الدین خزرجی (احمد بن عبداللہ بن ابی الخیر صفی الدین خزرجی۔ 900 ہجری میں پیدا ہوئے ان کی مشہور تصنیف ’’خلاصۃ تذہیب الکمال فی اسماء الرجال‘‘ ہے۔ 963 ہجری کے بعد وفات پائی۔ (الاعلام للزرکلی: جلد 1 صفحہ 160۔) رحمہ اللہ:

فرماتے ہیں :

’’عائشہ بنت ابی بکر الصدیق رضی اللہ عنہما التیمیہام عبداللہ فقیہہ، ام المومنین، الربانیہ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبوبہ ہیں۔‘‘

(خلاصۃ تذہیب: تہذیب الکمال لصفی الدین الخزرجی: صفحہ 493)

35۔ ملا علی القاری (یہ علی بن سلطان بن محمد نور الدین الہروی القاری الحنفی ہیں۔ اپنے زمانے کے فقیہ اور علامہ ذخار تھے۔ تحقیق و تنقیح ان کا امتیاز ہے۔ ان کی تصنیفات میں سے مشہور ’’الاسرار المرفوعۃ فی الاخبار الموضوعۃ‘‘ اور ’’المرقاۃ المفاتیح شرح مشکاۃ المصابیح‘‘ ہیں۔ 1014 ہجری میں وفات پائی۔ (الاعلام للزرکلی: جلد 5 صفحہ 12 ۔ معجم المؤلفین للرضا لکحالۃ: جلد 7 صفحہ 100۔) رحمہ اللہ (ت: 1014 ہجری)

آپ نے اس حدیث کہ ’’عائشہ عورتوں سے اس طرح افضل ہے جس طرح کھانوں سے ثرید افضل ہے۔ الحدیث‘‘ کی شرح میں لکھا ہے:

’’حدیث کے الفاظ سے ظاہری معنی یہی نکلتا ہے کہ وہ تمام عورتوں سے افضل ہیں۔ کیونکہ آپ رضی اللہ عنہا میں کمالات علمیہ و عملیہ کی جامعیت ہے اور انھیں ثرید سے تشبیہ دینے کی وجہ یہ ہے کہ عربوں کے ہاں ثرید سب کھانوں سے افضل ہے۔ وہ گوشت، روٹی اور شوربے کو ملا کر بنایا جاتا ہے اور کوئی غذا اس کی ہم پلہ نہیں اور اس میں غذائیت، لذت، قوت، کھانے کی سہولت، چبانے میں زیادہ سہل ہے اور گلے سے جلدی نیچے اترتا ہے اور معدے میں جلدی ہضم ہوتا ہے۔ اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی مثال ثرید سے بیان کی تاکہ معلوم ہو جائے کہ انھیں حسن خلقت کے ساتھ حسن اخلاق، حسن حدیث، شیریں زبان، فصاحت و بلاغت، عمدہ فطرت، رائے کی پختگی، عقل مفکر، خاوند کو محبوب اور خاوند کی خدمت گزاری، ہم کلامی اور خاوند کی ان کے ساتھ انسیت اور اس کی بات کی طرف دھیان دینا اور ان جیسے دیگر معانی اس میں اکٹھے ہو گئے ہیں اور قارئین کے لیے یہی معنیٰ ہی کافی ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے وہ کچھ سمجھ لیا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ کی دوسری بیویوں نے نہیں سمجھا اور آپﷺ سے ایسی روایات کیں کہ جو دوسری عورتوں نے تو کیا مردوں نے بھی وہ احادیث روایت نہ کیں۔‘‘

(مرقاۃ المفاتیح شرح مشکاۃ المصابیح لملا علی القاری: جلد 9 صفحہ 3993)

36۔ اسماعیل حقی الصوفی ( اسماعیل حقی بن مصطفی ابو الفداء استنبولی: حنفی صوفی: الخلوتی۔ 1063 ہجری میں پیدا ہوئے۔ مفسر اور علامہ تھے۔ ان کی مشہور تصنیفات ’’روح البیان فی تفسیر القرآن‘‘ اور ’’الرسالۃ الخلیلیۃ‘‘ ہیں۔ 1127 ہجری میں وفات پائی۔ (الاعلام للزرکلی: جلد 1 صفحہ 313۔ معجم المؤلفین للرضا کحالۃ: جلد 2 صفحہ 266۔)رحمہ اللہ (ت: 1127 ہجری)

فرماتے ہیں:

صفحہ 5 از 7