دوسرا نکتہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی شان میں علماء کے…

دوسرا نکتہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی شان میں علماء کے اقوال

  علی محمد الصلابی

صفحہ 6 از 7

’’بے شک اللہ تعالیٰ اپنے خاص بندوں کے لیے وہی آزمائش بھیجتا ہے جو لطف حقیقی کا سبب ہو۔ اگرچہ وہ بظاہر قہر و جبر کی صورت میں ہو، ان کا اصل مقصد اہل ایمان کی تادیب، تہذیب، ان کے درجات کو بلند کرنا اور ان کی قربت الہٰی میں اضافہ ہوتا ہے۔ اس لحاظ سے واقعہ افک اگرچہ وہ مصیبت کی صورت میں تھا۔ لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور ان کے ماں باپ اور سب اہل ایمان کے لیے مفید اور سبق آموز ثابت ہوا۔ ابتدا میں تمام صحابہ کے لیے خصوصی آزمائش اور امتحان کی صورت میں ظاہر ہوا۔ لیکن اپنے انجام کے اعتبار سے تربیت اور تہذیب نفوس کے لیے عبرت انگیز اور بے مثال تھا۔ کیونکہ آزمائش انبیاء اور اولیاء پر ہی آتی ہے۔ جیسے سونے کے لیے جلتا ہوا انگارہ ہوتا ہے کہ اس کی میل کچیل نکال کر اسے صاف شفاف بنا دیتا ہے۔ جس طرح کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

اِنَّ اَشَدَّ النَّاسِ بَلَائً اَ لْاَنْبِیَائُ ثُمَّ الْاَوْلِیَائُ، ثُمَّ الْاَمْثَلُ فَالْاَمْثَلُ

ترجمہ: ’’سب سے سخت آزمائش انبیاء پر آتی ہے، پھر اولیاء الرحمٰن پر، پھر جس قدر کوئی دین پر کاربند ہو اسی قدر اس پر سخت آزمائش آتی ہے۔‘‘

اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

یُبْتَلَی الرَّجُلُ عَلٰی قَدْرِ دِیْنِہٖ

(روح البیان لاسماعیل حقی: جلد 6 صفحہ 129۔)

ترجمہ: ’’ہر آدمی اپنے دین کے مطابق آزمایا جاتا ہے۔‘‘ کیونکہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ اپنے خاص محبوب بندوں کے معاملے میں بہت ہی غیور ہے۔‘‘

37۔ ابو الحسن السندی ( محمد بن عبدالہادی ابو الحسن السندی حنفی، حافظ، مفسر، فقیہ، علوم نحو، معانی، اصول کا ماہر تھا۔ اس کی تصنیفات میں سے مشہور صحاح ستہ پر حاشیہ جات ہیں۔ 1137 ہجری کے قریب وفات پائی۔ (الاعلام للزرکلی: جلد 6 صفحہ 253۔ معجم المؤلفین لرضا کحالۃ: جلد 10 صفحہ 262۔) رحمہ اللہ (ت: 1137 ہجری):

آپ اس حدیث جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اللہ کی قسم! مجھ پر وحی نازل نہیں ہوتی جب میں اپنی کسی بیوی کے لحاف میں ہوتا ہوں سوائے عائشہ کے۔ الحدیث‘‘ کی شرح میں لکھتے ہیں:

’’ان کے فخر و شرف کے لیے یہی کافی ہے اور حدیث میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان کے ساتھ محبت، اللہ تعالیٰ کے ہاں ان کی عظمت و تکریم کے تابع ہے۔‘‘

(حاشیۃ السندہ علی النسائی: جلد 7 صفحہ 68 )

نیز وہ اس حدیث کہ ’’جس طرح کھانوں سے ثرید افضل ہے الحدیث۔‘‘ کی تشریح کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

’’سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی فضیلت ان کے حسن خلق، فصاحت لسان، رائے کی پختگی کی وجہ سے ہے، اسی لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے فضل کے بیان کے لیے مستقل کلام کیا ہے اور انھیں ان سے پہلے مذکورہ دو عورتوں (شاید خدیجہ اور فاطمہ، مریم اور خدیجہ یا آسیہ علیہ السلام ) پر معطوف نہیں کیا۔‘‘

(حاشیۃ السندی علی سنن ابن ماجۃ: جلد 2 صفحہ 306)

38۔ ثناء اللہ المظہری صوفی (قاضی ثناء اللہ ہندی، فانی، نقشبندی، حنفی، عثمانی المظہری، عالم، محدث تھے۔ دہلی گئے اور شاہ ولی اللہ دہلوی سے علم حدیث حاصل کیا۔ ان کی تصنیفات میں سے ’’تفسیر المظہری‘‘ اور ’’مالا بد منہ‘‘ ہیں جو فقہ حنفی کی مشہور کتاب ہے۔ 1225 ہجری میں وفات پائی۔ (الاعلام بمن فی تاریخ الہند من الاعلام لعبد الحی الحسنی: جلد 7 صفحہ 942۔) رحمہ اللہ (ت: 1225 ہجری)

فرماتے ہیں:

’’بے شک سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ثناء اور دعا کی مستحق ہیں اس لیے کہ پاک دامن، عفت مآب ہیں اور اس لیے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبوب بیوی ہے تمام اہل ایمان کی ماں ہیں۔ ان کا اکرام و احترام سب امت پر واجب ہے۔ جو ان کے متعلق بدگوئی کرے گا، گویا اس نے حقیقت کو بالکل ہی الٹ دیا۔‘‘

(تفسیر المظہری لثناء اللہ المظہری: جلد 6 صفحہ 473)

39۔ محمد صدیق خان القنوجی (محمد صدیق خان بن حسین بن علی ابو طیب بخاری ہندی ریاست بھوپال میں بہت بڑے محدث تھے۔ 1248 ہجری میں پیدا ہوئے۔ اپنے زمانے کے مجدد تھے۔ ریاست بھوپال ان کا وطن تھا۔ وہاں کی ملکہ سے شادی کی۔ ان کی مشہور تصنیف ’’ابجد العلوم‘‘ ہے۔ 1307 ہجری میں وفات پائی۔ (الاعلام للزرکلی: جلد 6 صفحہ 167۔ ہدیۃ العارفین لاسماعیل پاشا: جلد 6 صفحہ 388۔) رحمہ اللہ (ت: 1307 ہجری)

فرماتے ہیں:

’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم طیب تھے تو وہ اس بات کے زیادہ حق دار تھے کہ وہ طیبہ عورت سے شادی کریں اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا طیبہ تھیں وہ اس بات کی حق دار تھیں کہ ان سے کوئی طیب مرد شادی کرے۔‘‘

(فتح البیان فی مقاصد القرآن للقنوجی: جلد 9 صفحہ 195)

40۔ عبدالرحمٰن سعدی رحمہ اللہ (ت: 1372 ہجری):

آپ نے اپنی تفسیر میں فرمایا:

’’تو اس قصہ بہتان کی بنیاد پر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر بہتان لگانا دراصل نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر بہتان لگانا ہے اور اس بہتان کے ذریعے منافقوں کا مقصد بھی یہی تھا۔ ان کا صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی ہونا ہی اس بات کی دلیل ہے کہ وہ طیبہ و طاہرہ ہیں اور جو بہتان ان پر لگایا گیا ہے اس سے وہ مبرأ ہیں۔ جب وہ ان اوصاف کا مجموعہ ہے کہ سب عورتوں سے سچی، سب سے افضل، سب سے بڑی عالمہ، سب سے بڑی طیبہ اور رب العالمین کے رسول کی محبوبہ بھی ہیں، تو پھر یہ قبیح عیب ان پر کیوں لگایا جاتا ہے؟؟‘‘

(تیسیر الکریم الرحمٰن فی تفسیر الکلام المنان للسعدی: صفحہ 352)

41۔ سید قطب شہید (سید قطب بن ابراہیم مصر کے بہت بڑے اسلامی مفکر تھے۔ 1324 ہجری میں پیدا ہوئے۔ اپنے وقت کے بہت بڑے ادیب، دانشوری اور مفسر تھے۔ مصری حکمران جمال عبدالناصر نے ایک عرصہ تک انھیں جیل میں رکھا اور جیل میں ہی ظلماً شہید کر دئیے گئے۔ ان کی مشہور تصنیف ’’تفسیر فی ظلال القرآن‘‘ اور ’’معالم فی الطریق‘‘ ہیں۔ 1387 ہجری میں شہید ہوئے۔ (عملاق الفکر الاسلامی لعبداللہ عزام: الاعلام للزرکلی: جلد 3 صفحہ 148۔)  رحمہ اللہ (ت: 1385 ہجری)

فرماتے ہیں:

صفحہ 6 از 7