دوسرا نکتہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی شان میں علماء کے…

دوسرا نکتہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی شان میں علماء کے اقوال

  علی محمد الصلابی

صفحہ 7 از 7

’’سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا طیبہ، طاہرہ ہیں۔ یہی وہ ہستی ہیں جن کے دل کے روشن ہونے، ہر عیب سے پاک ہونے اور ان کے تصورات کے نظیف ہونے کی گواہی قرآن نے دی۔ یہی ہیں وہ جن پر اس چیز کا بہتان لگایا جاتا ہے جو انسان کاسب سے بڑا عزت و فخر والا مقام ہے۔ ان کے حسب نسب پر بہتان لگایا جاتا ہے، حالانکہ وہ صدیق کی بیٹی ہیں۔ معزز و پاک گھرانے میں پلی بڑھی ہیں۔ ان کی امانت پر بہتان لگایا جاتا ہے۔ حالانکہ وہ محمد بن عبداللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی ہیں جو بنو ہاشم میں چوٹی کا خاندان ہے۔ ان کی وفا پر بہتان لگایا جاتا ہے، حالانکہ وہ خاتم الانبیاء و سید المرسلین کی محبوب ترین بیوی ہے۔ پھر ان کے ایمان پر بہتان لگایا جاتا ہے۔ حالانکہ وہ اپنی زندگی کے پہلے دن سے جس دن سے انھوں نے اپنی آنکھیں کھولیں اسلام اور اہل اسلام کی گود میں پرورش پائی، نیز وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی ہیں۔‘‘

(تفسیر فی ظلال القرآن سیّد قطب: جلد 4 صفحہ 2498)

42۔ محمد طاہر بن عاشور (محمد بن محمد بن عاشور ابو عبداللہ تیونسی۔ 1296 ہجری میں پیدا ہوئے۔ تیونس میں مالکی فقہ کے فقیہوں کے رئیس (سربراہ) تھے اور جامع مسجد زیتونہ کے امام و خطیب تھے اور دمشق و قاہرہ میں لجنۃ (کمیٹی) علمائے عرب کے خاص رکن تھے۔ ان کی مشہور تصنیف تفسیر ’’التحریر و التنویر‘‘ ہے۔ (الاعلام للزرکلی: جلد 6 صفحہ 174۔ ہدیۃ العارفین لاسماعیل پاشا: جلد 6 صفحہ 378۔) 1393 ہجری میں وفات پائی۔ رحمہ اللہ (ت: 1339 ہجری)

فرماتے ہیں:

’’اللہ تعالیٰ نے ایسی منصوص آیات کے ذریعے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی بہتان سے برأت کا بندوبست کیا ہے کہ یہ آیات جو عائشہ رضی اللہ عنہا کی شان میں نازل ہوئیں متواتر پڑھی جاتی رہیں گی۔‘‘

  (التحریر و التنویر لابن عاشور: جلد 18 صفحہ 183)

43۔ ابن عثیمین (محمد بن صالح بن عثیمین ابو عبداللہ تمیمی حنبلی، عالم، فقیہ، اصولی، شیخ التفسیر و العقیدۃ اور تمام علوم شرعیہ میں کافی رسوخ رکھتے تھے۔ 1347 ہجری میں پیدا ہوئے۔ زاہد، منکسر المزاج اور صاحب ورع و تقویٰ تھے۔ سعودی عرب میں کبار علماء و مشائخ میں شامل تھے۔ ان کی تصنیفات ’’ایسر التفاسیر لکلام الرحمٰن‘، ’’الشرح الممتع‘‘ اور ’’القول المفید علی کتاب التوحید‘‘ ہیں۔ 1421 ہجری میں وفات پائی۔ (اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ)) (الدر الثمین فی ترجمۃ ابن عثیمین لعصام المری۔)رحمہ اللہ (ت: 1421 ہجری)

فرماتے ہیں:

’’سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی اَن گنت خصوصیات کی مالک تھیں۔ انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آخری لمحات میں حسن معاشرت کی مثال قائم کی اور یہ کہ اللہ تعالیٰ نے انھیں منافقوں کے لگائے گئے بہتان سے بری قرار دیا اور قیامت تک پڑھی جانے والی آیات ان کی شان میں نازل کیں اور یہ کہ انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدی و سنن میں بہت کچھ یاد کیا اور اسے سب امت تک من و عن پہنچایا، جو کسی اور عورت کے نصیب میں نہیں۔ نیز نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے سوا کسی کنواری سے شادی نہیں کی گویا سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خانگی تربیت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھوں انجام پائی۔‘‘

(مجموع الفتاوٰی و رسائل عثیمین: جلد 4 صفحہ 308)

نیز انھوں نے حدیث ’’عائشہ عورتوں سے اس طرح افضل ہیں جس طرح کھانوں میں ثرید افضل ہے الحدیث‘‘ کی شرح میں لکھا:

’’یہ اس کی دلیل ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا مطلق طور پر تمام عورتوں سے افضل ہیں۔‘‘

(حوالہ سابقہ: جلد 8 صفحہ 614)

انھوں نے یہ بھی فرمایا:

’’صدیقہ کہلانے کے اس لیے حق دار ہیں کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق میں کمال حاصل کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے معاملات میں کمال صدق دکھایا اور واقعہ افک میں آنے والی مصیبت کے سامنے کمال صبر کا مظاہرہ کیا۔ جو تمام اہل اسلام کے لیے ان کے صدق کی دلیل ہے اور ان کے اللہ تعالیٰ پر سچے ایمان کا ثبوت ہے۔ چنانچہ جب ان کی برأت پر مشتمل وحی نازل ہوئی تو انھوں نے فرمایا: ’’میں اللہ کے سوا کسی کی تعریف نہیں کروں گی۔‘‘ ان کا یہ قول ان کے کمال ایمان و صدق کی دلیل ہے۔‘‘

(مجموع فتاوٰی و رسائل العثیمین: جلد 8 صفحہ 613 )



صفحہ 7 از 7