دوسری فصل سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور دیگر سیدات خانہ نبوی کے درمیان تفاضل و مفاضلہ
علی محمد الصلابیپہلا مبحث: سیدہ عائشہ اور سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہما کے درمیان مفاضلہ
اس فصل کے عناوین پر بحث کافی طویل ہے لیکن یہاں صرف اشارہ کیا جاتا ہے کہ درج ذیل نکات کی روشنی میں مذکورہ بحث کو مکمل کیا جائے گا۔
1۔ اس امت کی افضل عورتیں: سیدہ خدیجہ، سیدہ عائشہ اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہن ہیں۔
(مجموع الفتاویٰ لابن تیمیۃ: جلد 4 صفحہ 394)
2۔ تفصیل کے بغیر تفضیل ممکن نہیں۔
(بدائع الفوائد لابن القیم: جلد 3 صفحہ 161)
3۔ کسی کو اس کے مقابل سے افضل کہنا بہت مشکل موضوع ہے۔
(طبقات الشافعیۃ الکبرٰی للسبکی: جلد 10 صفحہ 223)
سیدہ خدیجہ اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہما کے درمیان مفاضلہ کے مؤقف میں علماء کا اختلاف مشہور ہے۔ کچھ علماء نے سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے افضل کہا ہے۔ وہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی حدیث صحیح سے استدلال کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’خواتین اہل جنت سے افضل سیدہ خدیجہ بنت خویلد اور فاطمہ بنت محمد، آسیہ بنت مزاحم زوجہ فرعون اور مریم بنت عمران رضی اللہ عنہن ہیں۔‘‘
(مسند احمد: جلد 1 صفحہ 316، حدیث: 2903۔ والسنن الکبری للنسائی: جلد 5 صفحہ 94، حدیث: 8364۔ مسند ابی یعلیٰ: جلد 5 صفحہ 110، حدیث: 2722۔ معجم للطبرانی: جلد 11 صفحہ 336، حدیث: 11928۔ صحیح ابن حبان: جلد 15 صفحہ 470، حدیث: 7010۔ مستدرک حاکم: جلد 2 صفحہ 539۔ امام حاکم فرماتے ہیں کہ اس کی سند صحیح ہے اور علامہ نووی رحمہ اللہ نے (تہذیب الاسماء و اللغات: جلد 2 صفحہ 341) میں اس کی سند کو حسن کہا اور ہیثمی رحمہ اللہ نے (مجمع الزوائد: جلد 9 صفحہ 226) میں کہا اس حدیث کے راوی صحیح کے راوی ہیں اور اس کی سند کو ابن حجر نے (فتح الباری: جلد 6 صفحہ 543) میں اور احمد شاکر نے ’’المسند‘‘ کی تحقیق کرتے ہوئے (جلد 4 صفحہ 232) میں اور علامہ البانی رحمہ اللہ نے (صحیح الجامع: حدیث: 1135) میں صحیح کہا اور وادعی رحمہ اللہ نے (الصحیح المسند: حدیث: 590) میں صحیح کہا ہے۔
اسی رائے کو فقہ شافعی کے متبعین سے قاضی اور متولی (عبدالرحمٰن بن مامون بن علی ابو سعد متولی۔ علامہ، شیخ الشافعیہ، فقہ اور اصول فقہ اور مقارنہ بین المسالک میں مہارت حاصل کی عالم باعمل، حسن السیرۃ اور محقق مناظر کے طور پر مشہور ہوئے۔ مدرسہ نظامیہ میں درس و تدریس میں مصروف رہے۔ ان کی مشہور تصانیف ’’التتمہ‘‘ اور ’’مختصر فی الفرائض‘‘ ہیں۔ 478 ہجری میں وفات پائی۔ (سیر اعلام النبلاء للذہبی: جلد 18 صفحہ 585۔ شذرات الذہب لابن العماد: جلد 3 صفحہ 357) کا اختیار ہے۔ (غایۃ السول فی خصائص الرسول لابن الملقن: 230۔) اور حافظ ذہبی نے بھی ایک جگہ اسے تسلیم کیا ہے۔ (سیر اعلام النبلاء للذہبی: جلد 2 صفحہ 140 اور حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے بھی (فتح الباری لابن حجر: جلد 7 صفحہ 139 اور علامہ عینی نے (عمدۃ القاری للعینی: جلد 15 صفحہ 309۔ بلکہ ابن عربی (محمد بن عبداللہ بن محمد ابوبکر اشبیلی مالکی 468 ہجری میں پیدا ہوئے۔ اہل اندلس کے بہت بڑے عالم، امام، حافظ اور قاضی تھے۔ نہایت ذہین و فطین تھے۔ اشبیلیۃ کے قاضی بنے تو ان کی عادلانہ کارکردگی کی وجہ سے لوگوں نے ان کے کردار کی تعریف کی۔ اپنے فرائض نہایت عمدگی سے ادا کیے۔ ان کی مشہور تصانیف ’’احکام القرآن‘‘ اور ’’عارضۃ الاحوذی‘‘ ہیں۔ 543 ہجری میں وفات پائی۔ (سیر اعلام النبلاء للذہبی: جلد 20 صفحہ 197۔ شذرات الذہب لابن العماد: جلد 4 صفحہ 140) نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ اس میں کوئی اختلاف ہی نہیں ۔
(فتح الباری لابن حجر: جلد 7 صفحہ 139)
لیکن یہ قول غیر صحیح ہے اور اختلاف موجود ہے اور کچھ علماء نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا پر فضیلت دی ہے۔
آمدی نے ’’ابکار الافکار‘‘ میں لکھا ہے کہ یہ اہل سنت کا مذہب ہے۔
(الاجابۃ لا یراد ما استدرکتہ عائشۃ علی الصحابۃ للزرکشی: صفحہ 63)
اور شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے کہا کہ یہ رائے اکثر اہل سنت کی ہے۔
(منہاج السنۃ النبویۃ لابن تیمیۃ: جلد 4 صفحہ 302)
اس رائے کے لیے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی اس حدیث سے استدلال کیا جاتا ہے:
’’سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا تمام عورتوں سے اس طرح افضل ہے جس طرح تمام کھانوں سے ثرید افضل ہے۔‘‘
(اس کی تخریج گزر چکی ہے۔)
اور اس طرح کی متعدد احادیث سے بھی استدلال کیا جاتا ہے اور کچھ علماء کی رائے میں اس مسئلہ میں توقف بہتر ہے۔ اس رائے کی طرف الکیاطبری (الکیاطبری: علی بن محمد بن علی ابو الحسن طبری الہراسی: شیخ الشافعیۃ: علامہ، مفسر اور ذکی و فصیح تھے، ان کی مشہور تصنیف ’’احکام القرآن‘‘ہے۔ 504 ہجری میں وفات پائی۔ (سیر اعلام النبلاء للذہبی: جلد 19 صفحہ 350۔ طبقات الشافعیۃ لابن قاضی شہبہ: جلد 1 صفحہ 288۔) کا میلان ہے۔
(الاجابۃ لا یراد: للزرکشی: صفحہ 63)
امام ذہبی رحمہ اللہ کا بھی یہی قول ہے۔
(سیر اعلام النبلاء للذہبی: جلد 2 صفحہ 140)
اور حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ نے بھی یہی رائے پسند کی۔
(البدایۃ والنہایۃ لابن کثیر: جلد 4 صفحہ 322۔ )
جو حقیقت بظاہر معلوم ہوتی ہے ۔واللہ اعلم۔ وہ یہ ہے کہ ان مصادر و مآخذ پر غور کرنا چاہیے جن سے علمائے امت سیدہ عائشہ اور سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہما کے درمیان مفاضلہ قائم کرتے ہیں۔
1۔ یہ کہا جاتا ہے کہ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نصرت و حمایت، آپﷺ کی اولین تصدیق، آپﷺ کی ہمدردی اور آپﷺ کی سب اولاد ان کے بطن سے ہونے کے لحاظ سے افضل ہیں اور جو حدیث مسند احمد (احمد بن محمد بن حنبل ابو عبداللہ شیبانی سچے امام ہیں اور حقیقی شیخ الاسلام ہیں۔ اس امت کے حبر ہیں۔ ’’قرآن مخلوق نہیں ہے۔‘‘ کے مسئلہ میں بہت بڑی آزمائش سے دوچار ہوئے۔ 164 ہجری میں پیدا ہوئے۔ وہ چار مشہور ائمہ مذاہب میں سے ایک ہیں۔ وہ سنت، ورع اور زہد میں بھی امام ہیں۔ ان کی مشہور تصانیف ’’المسند‘‘ اور ’’الزہد‘‘ ہیں۔ 241 ہجری میں وفات پائی۔ (مناقب الامام احمد لابن الجوزی: سیر اعلام النبلاء للذہبی: جلد 11 صفحہ 177) میں موجود ہے اس حدیث سے یہی مفہوم نکلتا ہے۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے:
’’نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کو یاد کرتے تو ان کی بہت ہی تعریف کرتے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں ایک دن مجھے بہت غیرت آئی تو میں نے کہہ دیا: آپﷺ اتنی کثرت سے اس عورت کو جس کے (دانت گر کر ) صرف سرخ سرخ مسوڑھے رہ گئے تھے، کیوں یاد کرتے ہیں؟ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کا نعم البدل دے دیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
مَا اَبْدَلَنِیَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ خَیْرًا مِنْہَا، قَدْ آمَنَتْ بِیْ اِذْ کَفَرَ بِیَ النَّاسُ، وَ صَدَّقَتْنِیْ اِذْ کَذَّبَنِیَ النَّاسُ، وَ وَاسَتْنِیْ بِمَالِہْا اِذْ حَرَّمَنِیَ النَّاسُ وَ رَزَقَنِیَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ وَلَدَہَا اِذْ حَرَّمَنِیْ اَوْلَادَ النِّسَاء
(مسند احمد: جلد 6 صفحہ 117، حدیث: 24908۔ المعجم للطبرانی: جلد 23 صفحہ 13، حدیث: 18977۔ ابن کثیر رحمہ اللہ نے (البدایۃ و النہایۃ: جلد 3 صفحہ 126) میں کہا کہ اس کی سند قابل قبول ہے اور شوکانی نے (در السحابۃ: صفحہ 249) پر اس کی سند کو حسن کہا جبکہ اس کی تمام تفصیلات کو علامہ البانی رحمہ اللہ نے (سلسلۃ الاحادیث الضعیفۃ: 6224) میں ضعیف کہا ہے۔
’’اللہ تعالیٰ نے مجھے اس کا نعم البدل نہیں دیا۔ جب لوگوں نے میرے ساتھ کفر کیا تو وہ مجھ پر ایمان لائی جب لوگوں نے میری تکذیب کی تو اس نے میری تصدیق کی جب لوگوں نے مجھے (اپنے اموال سے) محروم کیا تو اس نے اپنے اموال کے ذریعے میرے ساتھ ہمدردی کی اور اللہ عزوجل نے مجھے اس سے اولاد عطا کی جب اس نے مجھے دیگر عورتوں کی اولاد سے محروم کر دیا۔‘‘
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اپنے علم کے لحاظ سے افضل ہیں اور اس لحاظ سے امت نے بے حد نفع حاصل کیا اور شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے دونوں سیدات کے درمیان تفاضل قائم کرنے کے دوران مذکورہ بالا حدیث کا مفہوم سامنے رکھا۔ چنانچہ وہ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں لکھتے ہیں:
’’کیونکہ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے ابتدائے اسلام میں جو نفع پہنچایا کسی دوسرے کا نفع اس کے قائم مقام نہیں ہو سکتا، چنانچہ اس موقع پر یہ نفع آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے بہت بڑا تھا۔ چونکہ اس نفع کے آپﷺ اس وقت ضرورت مند تھے۔ گویا سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کا دیا ہوا نفع نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات تک محدود تھا۔ اس سے امت نے کوئی نفع حاصل نہ کیا اور نہ ہی سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے اس کی تبلیغ کی، جس طرح سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ذریعے امت نے عظیم نفع حاصل کیا اور نہ ہی دین ان کی تعلیمات کے بغیر مکمل ہوتا تو ان کے ذریعے جس نے بھی علم دین حاصل کیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق کی تو ان سے نفع حاصل کرنے والوں کے واسطہ سے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو بھی کمال ایمان حاصل ہو گیا۔ چنانچہ خدیجہ رضی اللہ عنہا اس پہلو سے افضل ہیں۔‘‘
شیخ الاسلام نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں فرمایا:
’’لیکن سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبوت کے آخری زمانے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت اختیار کی۔ جبکہ دین تکمیل کے مراحل میں تھا تو انھیں علم و ایمان میں سے اتنا وافر حصہ ملا جتنا حصہ صرف انھیں ہی ملا جو ابتدائے زمانہ نبوت ہی میں حلقہ بگوش اسلام ہو گئے۔ تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اس پہلو سے افضل ہیں۔ کیونکہ امت کو جتنا فائدہ ان کے ذریعے سے ہوا اتنا فائدہ اور کسی کے ذریعہ سے نہیں ہوا اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے جتنی علم و سنت کی تبلیغ کی اتنی اور کسی نے نہیں کی۔‘‘
(منہاج السنیۃ النبویۃ لابن تیمیۃ: جلد 4 صفحہ 301، 302۔ اور ایسی ہی تحریر مجموع الفتاوی لابن تیمیۃ: جلد 4 صفحہ 393 پر ہے۔)
حافظ ابن قیم رحمہ اللہ نے یہی توجیہ نقل کی۔
(جلاء الافہام لابن القیم: صفحہ 234، 235)
اسی طرح حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ نے بھی علماء کے دونوں فریقوں کے اقوال کی ایسی ہی توجیہ بیان کی ہے۔
(البدایۃ و النہایۃ لابن کثیر: جلد 4 صفحہ 321 )
شیخ ابن سعدی کی رائے میں اس مسئلے کی یہی تحقیق راجح ہے۔
(التنبیہات اللطیفہ فیما احتوت علیہ العقیدۃ الواسطیۃ من المباحث المنیفہ لابن سعدی: صفحہ 119)