دوسری فصل سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور دیگر سیدات خانہ نبوی…

دوسری فصل سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور دیگر سیدات خانہ نبوی کے درمیان تفاضل و مفاضلہ

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 2

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے:

’’نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کو یاد کرتے تو ان کی بہت ہی تعریف کرتے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں ایک دن مجھے بہت غیرت آئی تو میں نے کہہ دیا: آپﷺ اتنی کثرت سے اس عورت کو جس کے (دانت گر کر ) صرف سرخ سرخ مسوڑھے رہ گئے تھے، کیوں یاد کرتے ہیں؟ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کا نعم البدل دے دیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

مَا اَبْدَلَنِیَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ خَیْرًا مِنْہَا، قَدْ آمَنَتْ بِیْ اِذْ کَفَرَ بِیَ النَّاسُ، وَ صَدَّقَتْنِیْ اِذْ کَذَّبَنِیَ النَّاسُ، وَ وَاسَتْنِیْ بِمَالِہْا اِذْ حَرَّمَنِیَ النَّاسُ وَ رَزَقَنِیَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ وَلَدَہَا اِذْ حَرَّمَنِیْ اَوْلَادَ النِّسَاء

(مسند احمد: جلد 6 صفحہ 117، حدیث: 24908۔ المعجم للطبرانی: جلد 23 صفحہ 13، حدیث: 18977۔ ابن کثیر رحمہ اللہ نے (البدایۃ و النہایۃ: جلد 3 صفحہ 126) میں کہا کہ اس کی سند قابل قبول ہے اور شوکانی نے (در السحابۃ: صفحہ 249) پر اس کی سند کو حسن کہا جبکہ اس کی تمام تفصیلات کو علامہ البانی رحمہ اللہ نے (سلسلۃ الاحادیث الضعیفۃ: 6224) میں ضعیف کہا ہے۔

’’اللہ تعالیٰ نے مجھے اس کا نعم البدل نہیں دیا۔ جب لوگوں نے میرے ساتھ کفر کیا تو وہ مجھ پر ایمان لائی جب لوگوں نے میری تکذیب کی تو اس نے میری تصدیق کی جب لوگوں نے مجھے (اپنے اموال سے) محروم کیا تو اس نے اپنے اموال کے ذریعے میرے ساتھ ہمدردی کی اور اللہ عزوجل نے مجھے اس سے اولاد عطا کی جب اس نے مجھے دیگر عورتوں کی اولاد سے محروم کر دیا۔‘‘

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اپنے علم کے لحاظ سے افضل ہیں اور اس لحاظ سے امت نے بے حد نفع حاصل کیا اور شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے دونوں سیدات کے درمیان تفاضل قائم کرنے کے دوران مذکورہ بالا حدیث کا مفہوم سامنے رکھا۔ چنانچہ وہ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں لکھتے ہیں:

’’کیونکہ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے ابتدائے اسلام میں جو نفع پہنچایا کسی دوسرے کا نفع اس کے قائم مقام نہیں ہو سکتا، چنانچہ اس موقع پر یہ نفع آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے بہت بڑا تھا۔ چونکہ اس نفع کے آپﷺ اس وقت ضرورت مند تھے۔ گویا سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کا دیا ہوا نفع نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات تک محدود تھا۔ اس سے امت نے کوئی نفع حاصل نہ کیا اور نہ ہی سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے اس کی تبلیغ کی، جس طرح سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ذریعے امت نے عظیم نفع حاصل کیا اور نہ ہی دین ان کی تعلیمات کے بغیر مکمل ہوتا تو ان کے ذریعے جس نے بھی علم دین حاصل کیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق کی تو ان سے نفع حاصل کرنے والوں کے واسطہ سے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو بھی کمال ایمان حاصل ہو گیا۔ چنانچہ خدیجہ رضی اللہ عنہا اس پہلو سے افضل ہیں۔‘‘

شیخ الاسلام نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں فرمایا:

’’لیکن سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبوت کے آخری زمانے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت اختیار کی۔ جبکہ دین تکمیل کے مراحل میں تھا تو انھیں علم و ایمان میں سے اتنا وافر حصہ ملا جتنا حصہ صرف انھیں ہی ملا جو ابتدائے زمانہ نبوت ہی میں حلقہ بگوش اسلام ہو گئے۔ تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اس پہلو سے افضل ہیں۔ کیونکہ امت کو جتنا فائدہ ان کے ذریعے سے ہوا اتنا فائدہ اور کسی کے ذریعہ سے نہیں ہوا اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے جتنی علم و سنت کی تبلیغ کی اتنی اور کسی نے نہیں کی۔‘‘

 (منہاج السنیۃ النبویۃ لابن تیمیۃ: جلد 4 صفحہ 301، 302۔ اور ایسی ہی تحریر مجموع الفتاوی لابن تیمیۃ: جلد 4 صفحہ 393 پر ہے۔)

حافظ ابن قیم رحمہ اللہ نے یہی توجیہ نقل کی۔

(جلاء الافہام لابن القیم: صفحہ 234، 235)

اسی طرح حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ نے بھی علماء کے دونوں فریقوں کے اقوال کی ایسی ہی توجیہ بیان کی ہے۔

(البدایۃ و النہایۃ لابن کثیر: جلد 4 صفحہ 321 )

شیخ ابن سعدی کی رائے میں اس مسئلے کی یہی تحقیق راجح ہے۔

  (التنبیہات اللطیفہ فیما احتوت علیہ العقیدۃ الواسطیۃ من المباحث المنیفہ لابن سعدی: صفحہ 119)


صفحہ 2 از 2