وہ ممالک جہاں شیعہ موجود ہیں - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

وہ ممالک جہاں شیعہ موجود ہیں

  الشیخ ممدوح الحربی

صفحہ 1 از 4

وہ ممالک جہاں شیعہ موجود ہیں

سعودی عرب جو کہ حرمین شریفین کا ملک ہے۔ یہ مہبط وحی ہے اور دعوتِ توحید کا مرکز ہے اور مجدد اعظم محمد بن عبدالوہابؒ کی دعوت کا چشمہ یہیں سے پھوٹا۔ اللہ اس کی حفاظت و حمایت فرمائے۔ یہاں کے عوام، امراء اور علماء کو اللہ تعالیٰ ہر برائی سے محفوظ رکھے۔ ہمارے خیال کے مطابق ایران کے شیعہ نہ تو ناامید تھے نہ ہی اس ملک میں اپنے منصوبوں کی تعمیل سے غافل تھے کہ اس میں انقلاب برپا کریں جو کہ ان کا منصوبہ ہے، قطیف، احساء اور مدینہ منورہ میں ان کے ہمنوا رافضی شیعہ موجود ہیں جو اپنی مذہبی شکل و صورت برقرار رکھنے کے لیے تابوت بھی نکالتے ہیں تاکہ یہ ایران کے سیاسی اور سینی افکار کے منصوبہ جات پورے کریں اور ایران سے اعتماد سکون اور تائید حاصل کریں۔ یہ بات ہمارے حافظہ پر ظاہر ہے کہ سعودی حکومت کے بارے میں جو مؤقف عراق اور ایران جنگ کے درمیان سعودی شیعوں نے اپنایا ہے انہوں نے ایران کو باقاعدہ مادی سہارا دیا تھا اور چندہ جمع کر کے ایران بھیجا۔ سعودی شیعہ نسل میں اضافہ کے لیے مثالی جدوجہد کر رہے ہیں، یہ جلدی شادی کرتے ہیں اور زیادہ بیویاں کرتے ہیں۔ جب کوئی قطیف شہر میں داخل ہو گا اور اس میں چکر لگائے گا تو وہ یہ بینر لگے دیکھے گا، شادی کی مبارک باد دیں اور تہنیتی پیغام ان پر لکھے ہوئے ہیں۔ ایک ایک رات میں قطیف شہر میں ان کی اجتماعی شادیوں کا عید کی مانند اجتماع ہوتا ہے اور اجتماعی شادیاں کر رہے ہیں، ان کے مہرجان میلے پر ایک رات میں (26) شادیاں اور رخصتی ہوئیں۔ سیہات میں (21) نوجوان جوڑے رشتہ ازدواج میں منسلک ہوئے اور دوسرے مہرجان میں (27) جوڑے تھے، تیسرے میں (44) نوجوان شادی کے بندھن میں آئے چوتھے مہرجان میں تقریباً سو دلہنوں اور دلہوں کی شادی ہوئی۔ ان تمام شادیوں کا اعلان اخبارات کرتے ہیں اور بڑے ہی تزک و احتشام کے ساتھ ان کا ذکر کرتے ہیں اور ان کی تعریف کرتے ہیں، یہ انتہا درجہ کی غفلت اور تباہ کن سادگی ہے۔ جامعہ ملک فیصل میں بھی، دمام اور احساء میں بھی شیعہ موجود ہیں اور یہ مضبوط علمی خصوصیات اور ڈگریاں حاصل کرنے کی فکر میں ہیں، یہ لغت عربی کے شعبہ میں پڑھتے ہیں اور جامعہ کے برآمدہ میں یہ اپنے اجتماعات کرتے ہیں اور جامعہ کے ہاسٹلز میں بھی ان کے اجتماع ہوتے ہیں اور جامعہ کی محدود جگہوں پر یہ نماز پڑھتے ہیں اور بعض لیکچراروں پر اعتراضات بھی کرتے ہیں اور بعض شیعہ طلباء پمفلٹ بھی تقسیم کرتے ہیں جو کہ ان کے عقائد کے ترجمان ہوتے ہیں اور ان کے حسینی مرکز میں شادیوں کے اعلان بھی ہوتے ہیں اور یہ باہر سے آنے والے طلباء کو اپنے مذہب کی دعوت دیتے ہیں، انہیں جب سعودیہ میں موقع ملے اپنے باطل مذہب کی دعوت دیتے ہیں۔ سعودی شیعوں نے بہت سارے شعبوں میں دخل اندازی کر رکھی ہے۔ وزارت میں، حکومتی اداروں میں اور نجی اداروں میں انہوں نے دخل اندازی کر رکھی ہے۔ بعض اداروں میں ان کی اکثریت ہے، وزارتِ صحت میں، وزارتِ زراعت میں، وزارتِ بجلی و ڈاک اور ٹیلی فون میں اور وزارتِ اطلاعات وغیرہ میں ان کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے۔ آرامکو کمپنی میں یہ کافی تعداد میں موجود ہیں۔  

فوجی شعبہ، ٹریفک پولیس اور شہری دفاع میں بھی شیعوں کی تعداد موجود ہے، بحری فوج میں بھی موجود ہیں اور بڑے بڑے اہم عہدے ان کے پاس ہیں۔ اور شعبہ تعلیم میں بھی یہ کم نہیں، تدریس، عدالت، وکالت اور طلباء کی رہنمائی کے شعبوں میں بھی یہ کام کر رہے ہیں۔ علاوہ ازیں سعودی شیعوں کی علانیہ تجارتی سرگرمیاں ہیں، یہ صرف قطیف شہر کی سطح تک ہی نہیں، دمام، حبیل وغیرہ شہروں تک پھیلی ہوئی ہیں۔ ہم دعا گو ہیں اللہ سعودیہ کو اور شرف سے نوازے اور اس کی حفاظت فرمائے۔ سعودی شیعوں میں دولت مند تاجر بھی ہیں۔ ان کی صنعتیں اور کمپنیاں میدانِ تجارت میں چمک دمک دکھا رہی ہیں۔ ایک وطنی روٹی کی کمپنی ہے۔ یہ روٹی تیار کر کے البان مضافات میں بھیجتی ہے اس کا مالک شیعہ ہے۔ اس کا نام عبداللہ مطرود ہے۔ ایک جواد کمپنی ہے یہ بھی شیعہ کی ملکیت میں ہے جو کہ احساء میں رہتا ہے اس کی تیار کردہ کھانے پینے والی اشیاء پورے سعودی عرب میں پھیلی ہوئی ہیں۔ سیہات کے نام سے ان کی کمپنی ہے یہ حکومتی سطح پر مشہور کمپنی ہے۔ ایک ابو خمیسن کمپنی ہے یہ بھی کئی قسم کی تجارتیں کر رہی ہے۔ شیعوں کے صاحب ثروت لوگ تجارتیں کر رہے ہیں اور لمبے چوڑے مال سمیٹ رہے ہیں اور مشرقی علاقہ میں سونے کی تجارت بھی یہ کر رہے ہیں۔ سبزی منڈیاں مشرقی علاقہ میں زیادہ تر شیعوں کے تصرف میں ہیں اور ان کے ہاتھوں گروی ہیں۔ اس لیے یہ حیرانگی کی بات نہیں، تعزیہ کے دنوں میں پھلوں اور سبزیوں کے بھاؤ چڑھ جاتے ہیں۔ خصوصاً (10) محرم کو وجہ یہ ہے کہ ان میں بڑی تعداد میں شیعہ ہوتے ہیں یہ اس دن خرید و فروخت سے چھٹی کرتے ہیں یہی صورتِ حال کھجوروں کی تجارت میں ہے۔ مدینہ منورہ میں احساء کے علاقہ کی زیادہ تر کھجوریں شیعوں کے ہاتھ میں ہیں۔ کیونکہ ان کی وہاں آبادی زیادہ ہے اور عجوہ کھجور جو کہ مدینہ ہی میں پیدا ہوتی ہے یہ بھی ان کے ہاتھ میں ہے۔ احساء اور قطیف زیادہ زرخیز ہیں اور عجوہ اگرچہ مدینہ میں ہی پیدا ہوتی ہے مگر جہاں یہ پیدا ہوتی ہے مدینہ کے اس علاقہ میں زیادہ تر شیعہ ہی رہتے ہیں۔ 

صفحہ 1 از 4