Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

سیدہ عائشہ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہا کے درمیان باہمی تکریم و تعظیم کا رشتہ

  علی محمد الصلابی

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ میں سیدہ عائشہ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہما کے درمیان احترام و تکریم کے مثالی تعلقات تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد واقعہ جمل پیش آیا جس میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا دونوں نے اپنا اپنا اجتہاد کیا اور جو کچھ ہوا سو ہوا، لیکن اس واقعہ اور منافقوں کی سازشوں کے باوجود دونوں کے درمیان عداوت اور بغض و عناد کبھی بھی پیدا نہ ہوا۔

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا جب مرض الموت میں مبتلا تھیں تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ ان کی عیادت کے لیے تشریف لائے اور کہا: اے امی جان! آپ کیسی ہیں؟ سیدنا عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: میں خیریت کے ساتھ ہوں۔ تب سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے انھیں یوں دعا دی: اللہ تعالیٰ آپ کی مغفرت فرمائے! 

(تاریخ طبری: جلد 3 صفحہ 55۔ البدایۃ و النہایۃ لابن کثیر: جلد 10 صفحہ 468)

ابن جریر رحمہ اللہ واقعہ جمل کے ضمن میں لکھتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے اونٹ کی طرف اشارہ کر کے کہا: اگر تم اس اونٹ کی کونچیں کاٹ دو تو وہ سب بکھر جائیں گے۔

(تاریخ طبری: جلد 3 صفحہ 47)

بعض مورخین اور سیرت نگاروں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی اس تجویز کی تشریح کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا تیر اندازوں کے نشانے سے محفوظ ہو گئیں۔

(حوالہ سابقہ: جلد 4 صفحہ 519۔ البدایۃ و النہایۃ لابن کثیر: جلد 10 صفحہ 467)

جب سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے اونٹ کی کونچیں کاٹ دی گئیں تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے مجاہدین کی ایک جماعت کو حکم دیا کہ میدان قتال سے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی پالکی کو اٹھا لاؤ اور انھوں نے محمد بن ابی بکر اور سیدنا عمار رضی اللہ عنہما کو حکم دیا کہ وہ ان کے لیے خیمہ لگا دیں اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے سگے بھائی سیدنا محمد بن ابی بکر رضی اللہ عنہما کو کہا: آگے جا کر دیکھو انھیں کوئی زخم تو نہیں آیا تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہہ دیا کہ میں ٹھیک ہوں۔

(تاریخ طبری: جلد 3 صفحہ 47۔ البدایۃ و النہایۃ: جلد 10 صفحہ 468)

اس سے بھی بڑھ کر ذرا درج ذیل الفاظ پر غور کریں کہ جب جنگ جمل کی آگ بجھ گئی اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بصرہ سے واپسی کا ارادہ کیا تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان کی تمام ضروریات و لوازمات پورے ادب و احترام سے ان کو پیش کر دئیے۔ مثلاً سواری، زادِ راہ اور دوران سفر کی ضروریات وغیرہ بلکہ ان کے لشکر میں سے بچ جانے والوں کو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے پیش کش کی کہ اگر وہ بصرہ میں نہ ٹھہرنا چاہیں اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ واپس جانا چاہیں تو انھیں اس کی اجازت ہے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے بصرہ کی چالیس عالمات و فاضلات خواتین کو ان کے ساتھ بھیجا۔ نیز سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے بھائی محمد بن ابی بکر رضی اللہ عنہما کو آپ رضی اللہ عنہا کے ساتھ بھیجا۔ جب سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے قافلے کی روانگی کا دن آیا تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ ان کے دروازے پر آئے، دیگر لوگ بھی وہاں موجود تھے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پالکی میں گھر سے نکلنے لگیں تو سب لوگوں کو الوداع کیا اور ان کے لیے دعا کی، پھر کہا: اے میرے بیٹے! ہمیں ایک دوسرے کو ملامت کرنے کی ضرورت نہیں۔ اللہ کی قسم! میرے اور علی رضی اللہ عنہ کے درمیان آگے بڑھنے کا کوئی مقابلہ نہیں تھا، ہمارے درمیان کشیدگی صرف اتنی ہی تھی جتنی کسی خاتون اور اس کے سسرالیوں کے درمیان ہوتی ہے اور بلاشبہ علی رضی اللہ عنہ نے خیر خواہی کی نیت سے مجھے ملامت کی۔ چنانچہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! انھوں نے سچ کہا: میرے اور ان کے درمیان وہی کچھ تھا جو انھوں نے کہہ دیا اور بے شک یہ تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دنیا اور آخرت میں بیوی ہیں۔ پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کافی دور تک ان کے ساتھ چلتے رہے اور ان کو الوداع کیا۔

(یہ تفصیلات سیف بن عمر نے اپنی کتاب الفتنۃ و وقعۃ الجمل: صفحہ 183 پر تحریر کیں۔ تاریخ طبری: جلد 4 صفحہ 544۔ المنتظم فی تاریخ الملوک و الامم لابن الجوزی: جلد 5 صفحہ 94۔ الکامل لابن الاثیر: جلد 2 صفحہ 614 اور البدایۃ و النہایۃ لابن کثیر: جلد 10 صفحہ 472۔ نہایۃ الارب للنویری: جلد 20 صفحہ 50)

درج بالا مکالمے سے سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے درمیان باہمی احترام و تکریم کے روابط و تعلقات کی وضاحت بخوبی ہوتی ہے، اگر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے دل میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے خلاف کچھ ہوتا تو جو کچھ انھوں نے کہا وہ نہ کہتیں اور اگر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے دل میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے خلاف کچھ ہوتا تو وہ ان کے شنیدہ بیان کی کبھی تصدیق نہ کرتے اور ان دونوں کے باہمی احترام کی یہ اتنی عمدہ مثال ہے جو سنہری حروف میں لکھی جانے کے قابل ہے۔

کتنے تعجب کی بات ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ اگر کسی کو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی شان میں کوئی ناروا بات کہتے ہوئے سنتے یا دیکھتے تو اسے کوڑوں سے مارتے تھے۔

چنانچہ ابن الاثیر الجزری (یہ علی بن محمد بن محمد ابو الحسین جزری 555 ہجری میں پیدا ہوئے۔ اپنے وقت کے مشہور محدث، ادیب، علامہ اور ماہر انساب تھے۔ اسلامی فضائل و بلند اخلاق و تواضع سے مرصع تھے۔ ان کی مشہور تصنیفات ’’الکامل‘‘ اور ’’اسد الغابۃ‘‘ ہیں۔ 630 ہجری میں وفات پائی۔ (سیر اعلام النبلاء للذہبی: جلد 22 صفحہ 353۔) رحمہ اللہ لکھتے ہیں: 

’’بصرہ کی جس حویلی میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا قیام تھا۔ دو آدمی اس حویلی کے دروازے پر کھڑے ہو کر باتیں کرنے لگے کہ ہماری نافرمانیوں کی ہماری ماں کو کیا خوب جزا ملی ہے؟ اور دوسرے نے کہا: اے اماں جان آپ اپنی غلطیوں سے توبہ کر لیں۔

یہ باتیں سیدنا علی رضی اللہ عنہ تک پہنچیں تو انھوں نے قعقاع بن عمرو کو حویلی کے دروازے کی طرف بھیج کر عینی شاہدین کے ذریعے ایسی گفتگو کرنے والوں کا پتہ معلوم کرانے کے لیے بھیجا، چنانچہ لوگوں نے بتایا کہ وہ عبداللہ کے دونوں بیٹے عجلان اور سعد تھے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان دونوں کو سو سو کوڑے لگانے کا حکم دیا اور ان دونوں کے کپڑے اتروا کر انھیں گھمانے کا حکم دیا۔‘‘

(الکامل فی التاریخ لابن الاثیر: جلد 2 صفحہ 614۔ نہایۃ الارب للنویری: جلد 20 صفحہ 50)

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد لوگوں سے کہتیں کہ وہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی بیعت کر لیں اور یہ اس بات کی دلیل ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے درمیان باہمی احترام و تکریم کے مثالی روابط تھے۔

(فتح الباری لابن حجر: جلد 13 صفحہ 29، 48)

اس حقیقت کا اعتراف شیعہ مصنفین نے بھی کیا ہے۔

(کتاب الجمل للمفید: صفحہ 73۔ الصاعقۃ فی نسف اباطیل و افتراء ات الشیعۃ لعبد القادر محمد عطا صوفی: صفحہ 236، 240)

ابن ابی شیبہ نے اپنی سند کے ساتھ روایت کی کہ ’’جنگ جمل کے دن عبداللہ بن بدیل سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے کجاوے کی طرف گیا اور کہا: اے ام المؤمنین میں آپ کو اللہ کا واسطہ دے کر کہتا ہوں کہ کیا آپ جانتی ہیں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کے دن میں آپ کے پاس آیا اور آپ سے کہا کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ شہید ہو چکے ہیں اب آپ مجھے کیا حکم دیتی ہیں تو آپؓ نے مجھے حکم دیا کہ میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی بیعت کر لوں، چنانچہ اللہ کی قسم نہ وہ بدلے اور نہ انھوں نے کچھ تبدیل کیا۔(اسے ابن ابی شیبہ نے روایت کیا، جلد 15 صفحہ 283) حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے فتح الباری: جلد 13 صفحہ 57 میں اس کی سند کو جید کہا۔نیز مصنف ابن ابی شیبہ کی ایک اور روایت میں ہے کہ احنف نے کہا ہم حج پر جاتے ہوئے مدینہ سے گزرے تو میں طلحہ اور زبیر رضی اللہ عنہما کے پاس گیا اور کہا: میرے خیال کے مطابق سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ شہید ہو جائیں گے تو ان کے بعد آپ دونوں مجھے کیا حکم دیتے ہیں؟ دونوں نے کہا، ہم تجھے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ ملنے کا حکم دیتے ہیں۔ میں نے کہا: جب تم دونوں مجھے یہ حکم دے رہے ہو تو کیا تم دونوں کو میرا یہ فعل پسند ہے؟ دونوں نے کہا ہاں۔ پھر میں حج کے لیے مکہ پہنچ گیا۔ ہم مکہ میں ہی تھے کہ ہمیں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کی اطلاع مل گئی اور ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بھی وہیں تھیں۔ میں ان سے ملا اور پوچھا، آپؓ مجھے کس کی بیعت کا حکم دیتی ہیں؟ آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: علی رضی اللہ عنہ کی بیعت کر لو۔ میں نے کہا: کیا آپ مجھے یہ حکم بخوشی دے رہی ہیں؟ انھوں نے فرمایا: ہاں۔

چنانچہ میں واپسی پر مدینہ آیا اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی بیعت کر لی۔

(اسے ابن ابی شیبہ نے روایت کیا۔ جلد 1 صفحہ 118۔ تاریخ طبری: جلد 3 صفحہ 34 اور حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے فتح الباری: جلد 13 صفحہ 38 پر اس کی سند کو صحیح کہا ہے۔ 

عمر بن شبہ رحمہ اللہ (عمر بن شبہ بن عبیدہ، ابو زید نمیری بصری نحوی عالم ہے۔ حافظ اور حجت ہے ادیب، شاعر اور مورخ و قاری ہے۔ اس کی مشہور تصنیفات ’’تاریخ البصرۃ‘‘ اور ’’اخبار المدینۃ‘‘ ہیں ۔ 173 ہجری میں پیدا ہوا اور 262 ہجری میں وفات پائی۔ (سیر اعلام النبلاء للذہبی: جلد 12 صفحہ 369۔ تہذیب التہذیب لابن حجر: جلد 4 صفحہ 289۔)  لکھتے ہیں: ’’کسی مورخ یا سیرت نگار نے یہ نہیں لکھا کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور ان کے ساتھ جو لوگ تھے ان کو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی خلافت کا انکار تھا اور نہ ہی ان میں سے کسی نے خلیفہ ہونے کا دعویٰ کیا بلکہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور ان کے ساتھیوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے صرف اس فعل کا انکار کیا کہ وہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے قاتلوں سے قصاص نہیں لیتے تھے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے قاتلوں کا کبھی انکار نہ کیا۔

(تاریخ المدینۃ لابن شبۃ: جلد 4 صفحہ 1233۔ فتح الباری لابن حجر: جلد 13 صفحہ 56)

بلکہ انھوں نے اس معاملے کو حالات پرسکون ہونے تک مؤخر ضرور کیا، تاکہ صورت حال واضح ہو جائے اور دیگر امور مملکت ایک صحیح راہ پر گامزن ہو جائیں۔

مزید برآں جو بات سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے باہمی عمدہ تعلقات کی دلیل بن سکتی ہے وہ یہ ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا عموماً مسئلہ پوچھنے والے کو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی طرف بھیج دیتی تھیں تاکہ وہ ان سے جواب طلب کریں۔ چنانچہ شریح بن ہانی سے روایت ہے کہ میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے موزوں پر مسح کرنے کے متعلق مسئلہ پوچھا تو انھوں نے فرمایا: تم سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس جاؤ کیونکہ وہ اس کے متعلق مجھ سے زیادہ جانتے ہیں۔

ایک روایت میں ہے تم ابن ابی طالب کے پاس جاؤ اور ان سے پوچھو کیونکہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اکثر سفر کیا کرتے تھے۔

(اس روایت کی تخریج گزر چکی ہے۔)

یہ اس بات کی واضح دلیل ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے علم، دین اور ان کی امانت پر پورا اعتماد تھا اور یہ کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سفری احوال کو سب سے زیادہ جانتے تھے۔ کسی اور نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مسئلہ پوچھا کہ وہ عورت کتنے کپڑوں میں نماز پڑھے تو انھوں نے کہا، تم سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے یہ مسئلہ پوچھو، پھر مجھے آ کر بتانا کہ انھوں نے تجھے کیا بتایا ہے۔ بقول راوی وہ علی رضی اللہ عنہ کے پاس گیا اور مسئلہ پوچھا تو آپ رضی اللہ عنہ نے بتایا۔ عورت اوڑھنی اور طویل جبے میں نماز پڑھے گی۔ سائل سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس لوٹ کر آیا اور پوری بات بتائی آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: انھوں نے سچ کہا ہے۔

(اسے ابن ابی شیبہ نے برقم 6169 روایت کیا اور عبدالرزاق نے جلد 3 صفحہ 128 میں روایت کیا اور علامہ البانی رحمہ اللہ نے تمام المنۃ: صفحہ 161 پر اسے صحیح کہا ہے ۔

جب سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو پتا چلا کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے خوارج کا قلع قمع کر دیا تو آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: علی بن ابی طالب نے پہاڑی غاروں کے شیطان کو قتل کر دیا ہے۔

(الردہۃ: پہاڑی کھوہ، جہاں سے پانی حاصل کیا جاتا ہے اور ایک قول کے مطابق چشموں سے جس مشکیزے میں پانی لایا جاتا ہے اسے کہتے ہیں۔ (النہایۃ فی غریب الحدیث لابن الاثیر: جلد 2 صفحہ 216۔)

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی مراد خوارج کا ایک مشہور کمانڈر المخدج (ٹنڈا) تھا۔

(المخدج: جس میں پیدائشی طور پر کوئی جسمانی عیب ہو اس معنیٰ میں نہروان میں قتل ہونے والے خارجی کے متعلق کہا گیا: وہ ٹنڈا تھا۔ (غریب الحدیث لابن سلام: جلد 1 صفحہ 291۔ التاریخ الکبیر لابن خیثمۃ برقم: 892۔ البدایۃ و النہایۃ لابن کثیر: جلد 10 صفحہ 629۔) 

مسروق نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خوارج کا تذکرہ کیا تو فرمایا: ’’میری امت کے بدترین افراد کو میری امت کا بہترین شخص قتل کرے گا۔‘‘

(مجمع الزوائد للہیثمی: جلد 6 صفحہ 242۔ نیز اسے بزار نے بھی روایت کیا۔ المعجم الاوسط للطبرانی: مجمع الزوائد للذہبی: جلد 6 صفحہ 242۔ فتح الباری: جلد 12 صفحہ 298۔ میں حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے اس کی سند کو حسن کہا ہے۔)

سیدنا علی رضی اللہ عنہ ہمیشہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی دانش مندی اور صائب رائے کی تعریف کرتے تھے اور کہتے تھے اگر کوئی عورت خلیفہ بنتی تو وہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ہی ہوتیں۔

(اس روایت کی تخریج گزر چکی ہے۔)