سیدہ عائشہ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہا کے درمیان باہمی…

سیدہ عائشہ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہا کے درمیان باہمی تکریم و تعظیم کا رشتہ

  علی محمد الصلابی

صفحہ 1 از 3

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ میں سیدہ عائشہ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہما کے درمیان احترام و تکریم کے مثالی تعلقات تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد واقعہ جمل پیش آیا جس میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا دونوں نے اپنا اپنا اجتہاد کیا اور جو کچھ ہوا سو ہوا، لیکن اس واقعہ اور منافقوں کی سازشوں کے باوجود دونوں کے درمیان عداوت اور بغض و عناد کبھی بھی پیدا نہ ہوا۔

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا جب مرض الموت میں مبتلا تھیں تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ ان کی عیادت کے لیے تشریف لائے اور کہا: اے امی جان! آپ کیسی ہیں؟ سیدنا عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: میں خیریت کے ساتھ ہوں۔ تب سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے انھیں یوں دعا دی: اللہ تعالیٰ آپ کی مغفرت فرمائے! 

(تاریخ طبری: جلد 3 صفحہ 55۔ البدایۃ و النہایۃ لابن کثیر: جلد 10 صفحہ 468)

ابن جریر رحمہ اللہ واقعہ جمل کے ضمن میں لکھتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے اونٹ کی طرف اشارہ کر کے کہا: اگر تم اس اونٹ کی کونچیں کاٹ دو تو وہ سب بکھر جائیں گے۔

(تاریخ طبری: جلد 3 صفحہ 47)

بعض مورخین اور سیرت نگاروں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی اس تجویز کی تشریح کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا تیر اندازوں کے نشانے سے محفوظ ہو گئیں۔

(حوالہ سابقہ: جلد 4 صفحہ 519۔ البدایۃ و النہایۃ لابن کثیر: جلد 10 صفحہ 467)

جب سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے اونٹ کی کونچیں کاٹ دی گئیں تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے مجاہدین کی ایک جماعت کو حکم دیا کہ میدان قتال سے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی پالکی کو اٹھا لاؤ اور انھوں نے محمد بن ابی بکر اور سیدنا عمار رضی اللہ عنہما کو حکم دیا کہ وہ ان کے لیے خیمہ لگا دیں اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے سگے بھائی سیدنا محمد بن ابی بکر رضی اللہ عنہما کو کہا: آگے جا کر دیکھو انھیں کوئی زخم تو نہیں آیا تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہہ دیا کہ میں ٹھیک ہوں۔

(تاریخ طبری: جلد 3 صفحہ 47۔ البدایۃ و النہایۃ: جلد 10 صفحہ 468)

اس سے بھی بڑھ کر ذرا درج ذیل الفاظ پر غور کریں کہ جب جنگ جمل کی آگ بجھ گئی اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بصرہ سے واپسی کا ارادہ کیا تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان کی تمام ضروریات و لوازمات پورے ادب و احترام سے ان کو پیش کر دئیے۔ مثلاً سواری، زادِ راہ اور دوران سفر کی ضروریات وغیرہ بلکہ ان کے لشکر میں سے بچ جانے والوں کو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے پیش کش کی کہ اگر وہ بصرہ میں نہ ٹھہرنا چاہیں اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ واپس جانا چاہیں تو انھیں اس کی اجازت ہے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے بصرہ کی چالیس عالمات و فاضلات خواتین کو ان کے ساتھ بھیجا۔ نیز سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے بھائی محمد بن ابی بکر رضی اللہ عنہما کو آپ رضی اللہ عنہا کے ساتھ بھیجا۔ جب سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے قافلے کی روانگی کا دن آیا تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ ان کے دروازے پر آئے، دیگر لوگ بھی وہاں موجود تھے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پالکی میں گھر سے نکلنے لگیں تو سب لوگوں کو الوداع کیا اور ان کے لیے دعا کی، پھر کہا: اے میرے بیٹے! ہمیں ایک دوسرے کو ملامت کرنے کی ضرورت نہیں۔ اللہ کی قسم! میرے اور علی رضی اللہ عنہ کے درمیان آگے بڑھنے کا کوئی مقابلہ نہیں تھا، ہمارے درمیان کشیدگی صرف اتنی ہی تھی جتنی کسی خاتون اور اس کے سسرالیوں کے درمیان ہوتی ہے اور بلاشبہ علی رضی اللہ عنہ نے خیر خواہی کی نیت سے مجھے ملامت کی۔ چنانچہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! انھوں نے سچ کہا: میرے اور ان کے درمیان وہی کچھ تھا جو انھوں نے کہہ دیا اور بے شک یہ تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دنیا اور آخرت میں بیوی ہیں۔ پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کافی دور تک ان کے ساتھ چلتے رہے اور ان کو الوداع کیا۔

(یہ تفصیلات سیف بن عمر نے اپنی کتاب الفتنۃ و وقعۃ الجمل: صفحہ 183 پر تحریر کیں۔ تاریخ طبری: جلد 4 صفحہ 544۔ المنتظم فی تاریخ الملوک و الامم لابن الجوزی: جلد 5 صفحہ 94۔ الکامل لابن الاثیر: جلد 2 صفحہ 614 اور البدایۃ و النہایۃ لابن کثیر: جلد 10 صفحہ 472۔ نہایۃ الارب للنویری: جلد 20 صفحہ 50)

درج بالا مکالمے سے سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے درمیان باہمی احترام و تکریم کے روابط و تعلقات کی وضاحت بخوبی ہوتی ہے، اگر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے دل میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے خلاف کچھ ہوتا تو جو کچھ انھوں نے کہا وہ نہ کہتیں اور اگر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے دل میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے خلاف کچھ ہوتا تو وہ ان کے شنیدہ بیان کی کبھی تصدیق نہ کرتے اور ان دونوں کے باہمی احترام کی یہ اتنی عمدہ مثال ہے جو سنہری حروف میں لکھی جانے کے قابل ہے۔

کتنے تعجب کی بات ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ اگر کسی کو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی شان میں کوئی ناروا بات کہتے ہوئے سنتے یا دیکھتے تو اسے کوڑوں سے مارتے تھے۔

چنانچہ ابن الاثیر الجزری (یہ علی بن محمد بن محمد ابو الحسین جزری 555 ہجری میں پیدا ہوئے۔ اپنے وقت کے مشہور محدث، ادیب، علامہ اور ماہر انساب تھے۔ اسلامی فضائل و بلند اخلاق و تواضع سے مرصع تھے۔ ان کی مشہور تصنیفات ’’الکامل‘‘ اور ’’اسد الغابۃ‘‘ ہیں۔ 630 ہجری میں وفات پائی۔ (سیر اعلام النبلاء للذہبی: جلد 22 صفحہ 353۔) رحمہ اللہ لکھتے ہیں: 

’’بصرہ کی جس حویلی میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا قیام تھا۔ دو آدمی اس حویلی کے دروازے پر کھڑے ہو کر باتیں کرنے لگے کہ ہماری نافرمانیوں کی ہماری ماں کو کیا خوب جزا ملی ہے؟ اور دوسرے نے کہا: اے اماں جان آپ اپنی غلطیوں سے توبہ کر لیں۔

صفحہ 1 از 3