سیدہ عائشہ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہا کے درمیان باہمی…

سیدہ عائشہ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہا کے درمیان باہمی تکریم و تعظیم کا رشتہ

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 3

یہ باتیں سیدنا علی رضی اللہ عنہ تک پہنچیں تو انھوں نے قعقاع بن عمرو کو حویلی کے دروازے کی طرف بھیج کر عینی شاہدین کے ذریعے ایسی گفتگو کرنے والوں کا پتہ معلوم کرانے کے لیے بھیجا، چنانچہ لوگوں نے بتایا کہ وہ عبداللہ کے دونوں بیٹے عجلان اور سعد تھے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان دونوں کو سو سو کوڑے لگانے کا حکم دیا اور ان دونوں کے کپڑے اتروا کر انھیں گھمانے کا حکم دیا۔‘‘

(الکامل فی التاریخ لابن الاثیر: جلد 2 صفحہ 614۔ نہایۃ الارب للنویری: جلد 20 صفحہ 50)

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد لوگوں سے کہتیں کہ وہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی بیعت کر لیں اور یہ اس بات کی دلیل ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے درمیان باہمی احترام و تکریم کے مثالی روابط تھے۔

(فتح الباری لابن حجر: جلد 13 صفحہ 29، 48)

اس حقیقت کا اعتراف شیعہ مصنفین نے بھی کیا ہے۔

(کتاب الجمل للمفید: صفحہ 73۔ الصاعقۃ فی نسف اباطیل و افتراء ات الشیعۃ لعبد القادر محمد عطا صوفی: صفحہ 236، 240)

ابن ابی شیبہ نے اپنی سند کے ساتھ روایت کی کہ ’’جنگ جمل کے دن عبداللہ بن بدیل سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے کجاوے کی طرف گیا اور کہا: اے ام المؤمنین میں آپ کو اللہ کا واسطہ دے کر کہتا ہوں کہ کیا آپ جانتی ہیں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کے دن میں آپ کے پاس آیا اور آپ سے کہا کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ شہید ہو چکے ہیں اب آپ مجھے کیا حکم دیتی ہیں تو آپؓ نے مجھے حکم دیا کہ میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی بیعت کر لوں، چنانچہ اللہ کی قسم نہ وہ بدلے اور نہ انھوں نے کچھ تبدیل کیا۔(اسے ابن ابی شیبہ نے روایت کیا، جلد 15 صفحہ 283) حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے فتح الباری: جلد 13 صفحہ 57 میں اس کی سند کو جید کہا۔نیز مصنف ابن ابی شیبہ کی ایک اور روایت میں ہے کہ احنف نے کہا ہم حج پر جاتے ہوئے مدینہ سے گزرے تو میں طلحہ اور زبیر رضی اللہ عنہما کے پاس گیا اور کہا: میرے خیال کے مطابق سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ شہید ہو جائیں گے تو ان کے بعد آپ دونوں مجھے کیا حکم دیتے ہیں؟ دونوں نے کہا، ہم تجھے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ ملنے کا حکم دیتے ہیں۔ میں نے کہا: جب تم دونوں مجھے یہ حکم دے رہے ہو تو کیا تم دونوں کو میرا یہ فعل پسند ہے؟ دونوں نے کہا ہاں۔ پھر میں حج کے لیے مکہ پہنچ گیا۔ ہم مکہ میں ہی تھے کہ ہمیں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کی اطلاع مل گئی اور ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بھی وہیں تھیں۔ میں ان سے ملا اور پوچھا، آپؓ مجھے کس کی بیعت کا حکم دیتی ہیں؟ آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: علی رضی اللہ عنہ کی بیعت کر لو۔ میں نے کہا: کیا آپ مجھے یہ حکم بخوشی دے رہی ہیں؟ انھوں نے فرمایا: ہاں۔

چنانچہ میں واپسی پر مدینہ آیا اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی بیعت کر لی۔

(اسے ابن ابی شیبہ نے روایت کیا۔ جلد 1 صفحہ 118۔ تاریخ طبری: جلد 3 صفحہ 34 اور حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے فتح الباری: جلد 13 صفحہ 38 پر اس کی سند کو صحیح کہا ہے۔ 

عمر بن شبہ رحمہ اللہ (عمر بن شبہ بن عبیدہ، ابو زید نمیری بصری نحوی عالم ہے۔ حافظ اور حجت ہے ادیب، شاعر اور مورخ و قاری ہے۔ اس کی مشہور تصنیفات ’’تاریخ البصرۃ‘‘ اور ’’اخبار المدینۃ‘‘ ہیں ۔ 173 ہجری میں پیدا ہوا اور 262 ہجری میں وفات پائی۔ (سیر اعلام النبلاء للذہبی: جلد 12 صفحہ 369۔ تہذیب التہذیب لابن حجر: جلد 4 صفحہ 289۔)  لکھتے ہیں: ’’کسی مورخ یا سیرت نگار نے یہ نہیں لکھا کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور ان کے ساتھ جو لوگ تھے ان کو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی خلافت کا انکار تھا اور نہ ہی ان میں سے کسی نے خلیفہ ہونے کا دعویٰ کیا بلکہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور ان کے ساتھیوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے صرف اس فعل کا انکار کیا کہ وہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے قاتلوں سے قصاص نہیں لیتے تھے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے قاتلوں کا کبھی انکار نہ کیا۔

(تاریخ المدینۃ لابن شبۃ: جلد 4 صفحہ 1233۔ فتح الباری لابن حجر: جلد 13 صفحہ 56)

بلکہ انھوں نے اس معاملے کو حالات پرسکون ہونے تک مؤخر ضرور کیا، تاکہ صورت حال واضح ہو جائے اور دیگر امور مملکت ایک صحیح راہ پر گامزن ہو جائیں۔

مزید برآں جو بات سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے باہمی عمدہ تعلقات کی دلیل بن سکتی ہے وہ یہ ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا عموماً مسئلہ پوچھنے والے کو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی طرف بھیج دیتی تھیں تاکہ وہ ان سے جواب طلب کریں۔ چنانچہ شریح بن ہانی سے روایت ہے کہ میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے موزوں پر مسح کرنے کے متعلق مسئلہ پوچھا تو انھوں نے فرمایا: تم سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس جاؤ کیونکہ وہ اس کے متعلق مجھ سے زیادہ جانتے ہیں۔

ایک روایت میں ہے تم ابن ابی طالب کے پاس جاؤ اور ان سے پوچھو کیونکہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اکثر سفر کیا کرتے تھے۔

(اس روایت کی تخریج گزر چکی ہے۔)

یہ اس بات کی واضح دلیل ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے علم، دین اور ان کی امانت پر پورا اعتماد تھا اور یہ کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سفری احوال کو سب سے زیادہ جانتے تھے۔ کسی اور نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مسئلہ پوچھا کہ وہ عورت کتنے کپڑوں میں نماز پڑھے تو انھوں نے کہا، تم سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے یہ مسئلہ پوچھو، پھر مجھے آ کر بتانا کہ انھوں نے تجھے کیا بتایا ہے۔ بقول راوی وہ علی رضی اللہ عنہ کے پاس گیا اور مسئلہ پوچھا تو آپ رضی اللہ عنہ نے بتایا۔ عورت اوڑھنی اور طویل جبے میں نماز پڑھے گی۔ سائل سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس لوٹ کر آیا اور پوری بات بتائی آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: انھوں نے سچ کہا ہے۔

(اسے ابن ابی شیبہ نے برقم 6169 روایت کیا اور عبدالرزاق نے جلد 3 صفحہ 128 میں روایت کیا اور علامہ البانی رحمہ اللہ نے تمام المنۃ: صفحہ 161 پر اسے صحیح کہا ہے ۔

صفحہ 2 از 3