سیدہ عائشہ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہا کے درمیان باہمی…

سیدہ عائشہ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہا کے درمیان باہمی تکریم و تعظیم کا رشتہ

  علی محمد الصلابی

صفحہ 3 از 3

جب سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو پتا چلا کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے خوارج کا قلع قمع کر دیا تو آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: علی بن ابی طالب نے پہاڑی غاروں کے شیطان کو قتل کر دیا ہے۔

(الردہۃ: پہاڑی کھوہ، جہاں سے پانی حاصل کیا جاتا ہے اور ایک قول کے مطابق چشموں سے جس مشکیزے میں پانی لایا جاتا ہے اسے کہتے ہیں۔ (النہایۃ فی غریب الحدیث لابن الاثیر: جلد 2 صفحہ 216۔)

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی مراد خوارج کا ایک مشہور کمانڈر المخدج (ٹنڈا) تھا۔

(المخدج: جس میں پیدائشی طور پر کوئی جسمانی عیب ہو اس معنیٰ میں نہروان میں قتل ہونے والے خارجی کے متعلق کہا گیا: وہ ٹنڈا تھا۔ (غریب الحدیث لابن سلام: جلد 1 صفحہ 291۔ التاریخ الکبیر لابن خیثمۃ برقم: 892۔ البدایۃ و النہایۃ لابن کثیر: جلد 10 صفحہ 629۔) 

مسروق نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خوارج کا تذکرہ کیا تو فرمایا: ’’میری امت کے بدترین افراد کو میری امت کا بہترین شخص قتل کرے گا۔‘‘

(مجمع الزوائد للہیثمی: جلد 6 صفحہ 242۔ نیز اسے بزار نے بھی روایت کیا۔ المعجم الاوسط للطبرانی: مجمع الزوائد للذہبی: جلد 6 صفحہ 242۔ فتح الباری: جلد 12 صفحہ 298۔ میں حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے اس کی سند کو حسن کہا ہے۔)

سیدنا علی رضی اللہ عنہ ہمیشہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی دانش مندی اور صائب رائے کی تعریف کرتے تھے اور کہتے تھے اگر کوئی عورت خلیفہ بنتی تو وہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ہی ہوتیں۔

(اس روایت کی تخریج گزر چکی ہے۔)



صفحہ 3 از 3