سیدہ عائشہ اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہما کے درمیان محبت…

سیدہ عائشہ اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہما کے درمیان محبت بھرے روابط

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 3

اس حدیث میں یہ وضاحت ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چال ڈھال میں مشابہ بتلایا ہے اور یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ فاطمہ کے ساتھ ایسے خصوصی انداز میں سرگوشیاں کیں کہ اس انداز میں آپﷺ نے اپنی کسی بیوی کے ساتھ کبھی نہ کیں۔ نیز یہ کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بتلایا کہ سیدہ فاطمہؓ تمام جہانوں کی عورتوں کی سردار ہیں اور اگر روافض کے کہنے کے مطابق سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اہل بیت النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بغض رکھتیں تو سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی اتنی خصوصیات کیوں بیان کرتیں لیکن وہ صدیقہ بنت صدیق رضی اللہ عنہما ہیں۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے بیان کردہ سیدہ فاطمہؓ کے لیے یہ تمام او صاف اس حقیقت کی کھلی دلیل ہیں کہ وہ اہل بیت النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ محبت کرتی تھیں اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے کہا: کیا میں تجھے خوشخبری نہ دوں؟ وہ کہنے لگیں: کیوں نہیں!! تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:

سَیِّدَاتُ نِسَائِ اَہْلِ الْجَنَّۃِ اَرْبَعٌ: مَرْیَمُ بِنْتُ عِمْرَانَ، وَ فَاطِمَۃُ بِنْتُ رَسُوْلِ اللّٰہِ، وَ خَدِیْجَۃُ بِنْتُ خُوَیْلَدَ، وَ اٰسِیَۃُ اِمْرَاَۃُ فِرْعَوْنَ۔

(اسے امام احمد رحمہ اللہ نے فضائل الصحابۃ: جلد 2 صفحہ 760، برقم: 1336 میں روایت کیا اور امام حاکم رحمہ اللہ نے مستدرک علی الصحیحین: جلد 3 صفحہ 205 میں روایت کیا اور کہا اس کی سند شیخین کی شرط پر صحیح ہے۔ البانی رحمہ اللہ نے اسے صحیح الجامع: حدیث: 3678 میں صحیح کہا ہے۔

’’اہل جنت کی عورتوں کی چار عورتیں سردار ہیں: مریم بنت عمران، فاطمہ بنت رسول اللہ( صلی اللہ علیہ وسلم ) خدیجہ بنت خویلد اور فرعون کی بیوی آسیہ رضی اللہ۔‘‘

اگر ان دونوں مقدس و مطہر خواتین میں معمولی سا اختلاف بھی ہوتا تو سیدہ عائشہ، سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہما کو اتنی بڑی بشارت دے کر شاد کیوں کرتیں؟

دونوں خواتین کے درمیان یہ پرخلوص محبت انہی نبوی بنیادوں پر پروان چڑھتی رہی جو ان کے اقوال و افعال سے بخوبی واضح ہوتی ہے۔ جس دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی پیاری بیٹی فاطمہ رضی اللہ عنہا سے سرگوشی کی اور جو بھی سرگوشی کی اس کی محرم راز بننے کی امیدوار صرف اور صرف سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا ہی تھیں۔ جیسا کہ مذکورہ حدیث میں وضاحت ہے اور محرم راز صرف وہی ذات ہو سکتی ہے جو دل کے بالکل قریب ہو، جو کسی انسان کی محبوب ترین ہستی ہو اور یہی مقدس کیفیات اور مطہر جذبات سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا اور ہماری ماں سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہما کے درمیان موجزن رہے۔ یہ بات بھی قابل غور ہے کہ سرگوشی والا واقعہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ کے آخری لمحات میں پیش آیا اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے اس راز کے بارے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد دریافت کیا یعنی ان لمحات میں جن کے متعلق یہ راندۂ خلائق گروہ صحابہ کرامؓ اور اہل بیتؓ کے درمیان عداوت و بغض کی آگ کا الاؤ بھڑکانے کی کوشش کرتا ہے اور امت میں تفرقہ بازی اور گروہ سازی کا تانا بانا بنتا ہے۔

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ حدیث بھی روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

وَ اَیْمُ اللّٰہِ، لَوْ فَاطِمَۃُ اِبْنَۃُ مُحَمَّدٍ سَرَقَتْ لَقَطَعْتُ یَدَہَا

(صحیح بخاری: حدیث نمبر: 3475۔ صحیح مسلم: حدیث نمبر: 1688۔)

’’اللہ کی قسم! اگر محمد( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی بیٹی فاطمہ( رضی اللہ عنہا ) بھی چوری کرتی تو ضرور میں اس کا بھی ہاتھ کاٹ دیتا۔‘‘

اس فرمان ذی شان میں سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی رفعت شان اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں ان کی قربت اور عظمت کی دلیل ہے، نیز یہ حدیث بھی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے ہی مروی ہے۔ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے لکھا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس موقع پر اپنی بیٹی فاطمہ رضی اللہ عنہا کا خصوصی تذکرہ کیا، کیونکہ وہی آپﷺ کے اہل خانہ میں سے سب سے زیادہ آپ کو عزیز تھی۔ نیز اس وقت اس بیٹی کے علاوہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی اور بیٹی زندہ موجود نہ تھی۔

(فتح الباری لابن حجر: جلد 12 صفحہ 95)

جب کسی کام کے لیے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتیں اور آپﷺ گھر پر نہ ہوتے تو وہ اپنا کام سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ہی کو بتاتیں۔ چنانچہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب فاطمہ رضی اللہ عنہا کو پتا چلا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ غلام آئے ہیں۔ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اپنی پر مشقت گزران کی شکایت لے کر گئیں، لیکن فاطمہ رضی اللہ عنہا نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو گھر پر نہ پایا، چنانچہ انھوں نے اپنے آنے کی وجہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو بتا دی، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھر تشریف لائے تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے آپﷺ کو فاطمہ رضی اللہ عنہا کے آنے کی اطلاع دی اور ان کی شکایت کے متعلق آپﷺ کو بتایا۔

(صحیح بخاری: حدیث نمبر 5361 ۔ صحیح مسلم: حدیث نمبر: 2727)

درج بالا حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ سیدہ فاطمہ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہما پر بھرپور اعتماد کرتی تھیں اور یہ اس بات کی بھی دلیل ہے کہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے جو بات یا کام سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے سپرد کیا کہ وہ اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچا دیں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے پوری امانت کے ساتھ من و عن وہ بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچا دی۔

صفحہ 2 از 3