سیدہ عائشہ اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہما کے درمیان محبت…

سیدہ عائشہ اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہما کے درمیان محبت بھرے روابط

  علی محمد الصلابی

صفحہ 3 از 3

اسی طرح جب دیگر امہات المؤمنین رضی اللہ عنہن نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس یہ پیغام پہنچانے کے لیے بھیجا کہ آپﷺ کی بیویاں آپ کو اللہ کا واسطہ دے کر کہتی ہیں کہ آپﷺ ان کے ساتھ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بیٹی کے معاملہ میں انصاف کیا کریں تو سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ پیغام پہنچا دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے میری لاڈلی بیٹی! کیا تم اس کے ساتھ محبت نہیں کرتی جس کے ساتھ میں محبت کرتا ہوں؟ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: کیوں نہیں۔ چنانچہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا امہات المؤمنینؓ کے پاس واپس گئیں اور انھیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جواب سے آگاہ کیا۔ انھوں نے اس پر اصرار کیا کہ وہ دوبارہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جائیں لیکن انھوں نے دوبارہ آپﷺ کے پاس جانے سے انکار کر دیا۔

(صحیح بخاری: حدیث نمبر: 2581۔ صحیح مسلم:  حدیث نمبر: 2441)

اس حدیث میں اس بات کی صراحت ہے کہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا بھی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے انتہائی محبت و عقیدت رکھتی تھیں۔صحیح مسلم کی روایت کے درج ذیل الفاظ ہیں:

’’چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا: ’’اے میری بیٹی! کیا تو وہ نہیں پسند کرتی جو میں پسند کرتا ہوں؟ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: کیوں نہیں۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’تم ان (عائشہ رضی اللہ عنہا ) سے محبت کرو۔‘‘

(اس حدیث کی تخریج گزر چکی ہے۔)

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو یہ حکم دیا اور وہ کیسے آپ کے حکم کی نافرمانی کر سکتی تھیں۔ رضی اللّٰہ عنہا و ارضاہا۔


صفحہ 3 از 3