Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

سیدہ عائشہ آل علی اور دیگر اہل بیت رضی اللہ عنہم کے درمیان خوشگوار تعلقات و روابط

  علی محمد الصلابی

سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے آل علی رضی اللہ عنہ اور اہل بیت النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بہت ہی محبت و عقیدت بھرے تعلقات تھے۔ جن میں باہمی احسان و اکرام نمایاں تھا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ایسی احادیث روایت کیں جن سے اہل بیتؓ کے فضائل و مناقب مترشح ہوتے ہیں جیسے حدیث الکساء (کملی والی حدیث) ہے۔ وہ کہتی ہیں:

خَرَجَ النَّبِیُّ صلي اللّٰه عليه وسلم غَدَاۃً وَعَلَیْہِ مِرْطٌ مُرَحَّلٌ مِّنْ شَعْرٍ اَسْوَدَ فَجَآئَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِیٍّ فَاَدْخَلَہٗ ثُمَّ جَآئَ الْحُسَیْنُ فَدَخَلَ مَعَہٗ ثُمَّ جَآئَ تْ فَاطِمَۃُ فَاَدْخَلَہَا ثُمَّ جَآئَ عَلِیٌّ فَاَدْخَلَہٗ۔

ترجمہ: ’’ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھر سے نکلے تو آپ پر ایک منقش چادر تھی۔ جو کالے بالوں سے بنی ہوئی تھی۔ اسی وقت حسن بن علی رضی اللہ عنہما آ گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں چادر کے اندر لپیٹ لیا پھر حسین رضی اللہ عنہ آ گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں بھی چادر میں اپنے ساتھ لپٹا لیا۔ پھر سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا آئیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں بھی ان میں شامل کر لیا۔ پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ تشریف لائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں بھی اس چادر کے اندر کر لیا۔‘‘

پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمان الہٰی پڑھا:

اِنَّمَا يُرِيۡدُ اللّٰهُ لِيُذۡهِبَ عَنۡكُمُ الرِّجۡسَ اَهۡلَ الۡبَيۡتِ وَيُطَهِّرَكُمۡ تَطۡهِيۡرًا ۞ (سورة الاحزاب آیت 33)

ترجمہ:’’اللہ تو یہی چاہتا ہے کہ تم سے گندگی دور کر دے اے گھر والو! اور تمھیں پاک کر دے، خوب پاک کرنا۔

(یہ حدیث صحیح مسلم میں ہے۔ حدیث نمبر 2424)

یہ حدیث اس حقیقت پر دلالت کرتی ہے کہ سیدنا علی و فاطمہ اور ان کے دونوں بیٹے رضی اللہ عنہم دیگر لوگوں کی نسبت اہل بیتؓ میں شمولیت کے زیادہ مستحق ہیں۔

(مجموع الفتاوی لابن تیمیۃ: جلد 22 صفحہ 461)

چونکہ یہ حدیث سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی مرویات میں سے ہے اس لیے اس سے یہ وضاحت بھی ہوتی ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا دل اہل بیتؓ کی محبت و قدر و منزلت سے کس قدر سرشار تھا۔ ان کے متعلق ہر حدیث مکمل خلوص اور صدق دل سے روایت کی۔

اسی طرح وہ حدیث کہ جس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کو اپنے ساتھ چمٹانے اور اس کے ساتھ محبت کی گواہی اور اللہ تعالیٰ سے دعا کرنے والی حدیث بھی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ہی سے مروی ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کو اٹھا کر اپنے ساتھ لپٹا لیتے اور یوں دعا فرماتے:

اَللّٰہُمَّ اِنَّ ہٰذَا ابْنِیْ فَأَحِبَّہُ وَأَحِبَّ مَنْ یُحِبُّہُ 

(صحیح بخاری: حدیث نمبر: 5884۔ صحیح مسلم: حدیث نمبر 2421۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی مرویات سے ہے۔

’’اے اللہ! بے شک میں اپنے اس بیٹے کے ساتھ محبت کرتا ہوں پس تو بھی اس کے ساتھ محبت کر اور جو بھی اس کے ساتھ محبت کرے تو اس کے ساتھ بھی محبت کر۔‘‘

جب سیدنا حسن رضی اللہ عنہ فوت ہوئے تو سیدنا حسین رضی اللہ عنہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے اور ان سے اجازت طلب کی کہ وہ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کو اپنے گھر میں ان کے نانا کے ساتھ دفنانے دیں۔ تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: مجھے منظور ہے اور وہ اس سے زیادہ تکریم کے لائق ہیں۔ جب یہ بات حاکم مدینہ مروان بن عبدالملک کو معلوم ہوئی تو اس نے کہا، وہ دونوں جھوٹے ہیں۔(معاذ اللہ) اللہ کی قسم! اسے وہاں کبھی دفن نہیں کیا جائے گا۔

(تاریخ المدینۃ لابن شبہ: جلد 1 صفحہ 110۔ و الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب لابن عبدالبر: جلد 1 صفحہ 376۔ سیر اعلام النبلاء للذہبی: جلد 3 صفحہ 277۔)

درج بالا حدیث سے متعدد فوائد علمیہ حاصل ہوتے ہیں:

1۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے دل میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دونوں نواسوں کی کس قدر محبت و قدر و منزلت تھی۔

2۔ ان سب کے آپس میں کس قدر خوش گوار تعلقات تھے۔

3۔ ایک طرف تو سیدنا حسین رضی اللہ عنہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے ان کے گھر میں اپنے بڑے بھائی سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کو دفنانے کی اجازت طلب کر رہے ہیں اور دوسری طرف سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کے لیے یہ ایثار کر رہی ہیں (کہ جو جگہ انھوں نے اپنے لیے مختص کی ہوئی تھی) وہ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کو اپنے نانا جان صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دفنانے کے لیے دے رہی ہیں۔

علی بن حسین بن علی بن ابی طالب زین العابدین (علی بن حسین بن علی بن ابی طالب ابو الحسین (علی اصغر) قریشی ہاشمی زین العابدین تھے، ان کی کنیت ابوبکر تھی۔ اپنے وقت کے مشہور عالم، واعظ، ثقہ، مامون، متعدد احادیث کے راوی، نہایت بلند شان و مقام والے تھے۔ واقعہ کربلا میں اپنے باپ کے ساتھ تھے لیکن عین اپنے باپ کی شہادت کے دن انھیں سخت بخار ہو گیا اور وہ اپنے خیمے میں ہی رہ گئے اور مقتل میں نہ جا سکے اور بچ جانے والی عورتوں اور بچوں کے ساتھ صرف وہی ایک مرد زندہ واپس آئے۔ 93 ہجری میں وفات پائی۔ (سیر اعلام النبلاء للذہبی: جلد 4 صفحہ 386۔ تہذیب التہذیب لابن حجر: جلد 4 صفحہ 192۔ سیر اعلام النبلاء للذہبی: جلد 4 صفحہ 387) رحمہ اللہ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی شاگردی کا شرف حاصل کیا اور ان سے متعدد احادیث روایت کیں، ایک وہ حدیث بھی ہے جو صحیح مسلم میں ہے۔

(سیر أعلام النبلاء للذہب: جلد 4 صفحہ 387)

سید ابو الحسن ندوی رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ کتب احادیث سے کوئی ایک ایسا صحیح واقعہ ہمارے علم میں نہیں جس سے پتا چلتا ہو کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے دل میں اہل بیت میں سے کسی ایک فرد کے متعلق بغض و کینہ کے آثار ہوں بلکہ تمام سیرت و سوانح نگار اس بات پر متفق ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور تمام اہل بیت کے درمیان فطرت انسانی کے مطابق حسین ترین تعلقات و روابط قائم تھے۔

(سیرۃ السیدۃ عائشۃ للندوی: صفحہ 22۔کچھ تصرف کے ساتھ۔)

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے اہل بیت رضی اللہ عنہم کے ساتھ احسان و اکرام کے تعلقات کے بے شمار شواہد و ثبوت کتب تاریخ و سیرت میں موجود ہیں، بلکہ رافضیوں کی اپنی کتابیں ایسے دلائل سے بھری پڑی ہیں جیسا کہ اگلی فصل میں ان شاء اللہ آ رہا ہے۔

یہ حقیقت یقینی اور صحیح و متواتر احادیث سے ثابت شدہ ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور سیدنا علی اور ان کے سب بیٹوں کے درمیان بھرپور محبت بھرے تعلقات قائم رہے اور اگر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ورع، تقویٰ اور حقوق و واجبات کے متعلق ان کی معرفت اور ان کا لوگوں کو ان کے مقام و مرتبہ کے مطابق رکھنا اور اہل فضل کے فضائل کے متعلق ان کی معرفت اور اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم جن کے ساتھ محبت کرتے ہیں ان کے ساتھ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی محبت کا علم نہ ہوتا تو اہل بیتؓ کے فضائل و مناقب سے بھرپور ان کی ان مرویات میں حق و عدل کے پسند کرنے والے اور ہر منصف مزاج کے لیے کافی عبرت آموز سبق ہے۔ اگر روافض ان حقائق کا انکار نہ کرتے تو ان بدیہی حقائق کو دہرانے کا مطلق کوئی مقصد نہ تھا اور حقیقت حال اللہ سبحانہ و تعالیٰ زیادہ جانتا ہے۔