سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی شان میں گستاخی کرنے والوں کے متعلق
علی محمد الصلابیاہل بیت میں سے بنو عباس کا موقف
1۔ عباسی حکمران موسیٰ بن عیسیٰ بن موسیٰ (موسیٰ بن عیسیٰ بن موسیٰ عباسی ہاشمی خلیفہ منصور عباسی اور خلیفہ مہدی عباسی کی طرف سے طویل مدت تک حجاز کا گورنر رہا، پھر مہدی کی طرف سے یمن کا گورنر بنا اور ہارون الرشید کی طرف سے مصر کا گورنر مقرر ہوا۔ 183 ہجری میں وفات پائی۔ (النجوم الزاہرۃ لتغری بردی: جلد 2 صفحہ 78۔ الاعلام للزرکلی: جلد 7 صفحہ 326) ت 183 ہجری) کا فیصلہ
قاضی عیاض نے لکھا ہے: ’’کوفہ میں ایک آدمی نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی شان میں گستاخی کی، جب موسیٰ بن عیسیٰ بنو عباس کے گورنر تک یہ خبر پہنچی تو اس نے کہا: اسے کون میرے سامنے پیش کرے گا؟ ابن ابی لیلیٰ نے کہا: اسے میں پیش کروں گا۔ جب وہ پیش ہوا تو اسے اسی کوڑے لگائے گئے اور اس کا سر مونڈ کر سنگی لگانے والوں کے حوالے کر دیا گیا۔‘‘
(الشفاء بتعریف الحقوق المصطفٰی للقاضی عیاض: جلد 2 صفحہ 309۔ تعامل آل البیت من العصبۃ الاحباب مع السّباب للزوجات و الاصحاب لعبد الالہ العباس۔ )
2۔ عباسی خلیفہ متوکل علی اللہ (ت 247 ہجری) کا فیصلہ
خلیفہ متوکل علی اللہ (جعفر بن محمد بن ہارون ابو الفضل بنو عباس میں سے مشہور خلیفہ تھا۔ 205 ہجری میں پیدا ہوا اور 232 ہجری میں اس کی خلافت کے لیے بیعت ہوئی۔ اپنی رعایا کا محبوب خلیفہ تھا۔ اپنے عہد میں سنت مطہرہ کو اعلانیہ نافذ کیا۔ اپنی مجلس میں کھل کر سنت کی نصرت کی اور خلافت اسلامیہ کے اطراف و اکناف ’’خلق قرآن‘‘ کے مسئلہ میں گرفتار علماء کو رہا کرنے اور ان سے سزائیں ختم کرنے کا حکم جاری کیا اور ’’قرآن مخلوق ہے‘‘ کہنے سے سختی سے منع کر دیا اور اہل سنت کی کھل کر نصرت و حمایت کی۔ 247 ہجری میں شہید کر دیا گیا۔ (سیر اعلام النبلاء للذہب: جلد 12 صفحہ 30۔ و البدایۃ و النہایۃ لابن کثیر: جلد 10 صفحہ 349) نے بغداد کے ایک مشہور آدمی کو کوڑے لگوائے، جس کا نام عیسیٰ بن جعفر بن محمد بن عاصم تھا۔ خلیفہ کے حکم سے اسے ایک ہزار درے انتہائی سختی سے لگائے گئے حتیٰ کہ وہ مر گیا اور اس سزا کا سبب یہ بنا کہ بغداد کی تحصیل شرقی کے قاضی ابو حسان زیادتی کے سامنے سترہ آدمیوں نے گواہی دی کہ یہ شخص سیدنا ابوبکر، سیدنا عمر، سیدہ عائشہ اور سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہم کو گالیاں دیتا ہے۔
(البدایۃ و النہایۃ لابن کثیر: جلد 14 صفحہ 375)
3۔ خلیفہ مقتدر باللہ (ت 323 ہجری) کا فیصلہ
اسے خبر ملی کہ کچھ رافضی لوگ مسجد براثا میں اکٹھے ہو کر صحابہ کرام کو گالیاں دیتے ہیں اور نماز جمعہ بھی ادا نہیں کرتے اور قرامطہ (ایک باطنی تنظیم تھی بظاہر وہ اہل بیت کے مداح تھے لیکن درحقیقت حب اہل بیت کی آڑ میں وہ الحاد اور تمام محرمات اسلامیہ مباح ہونے کے داعی تھے۔ (الموسوعۃ المیسرۃ فی الادیان و المذاہب و الاحزاب المعاصرۃ: صفحہ 395۔) کے ساتھ ان کی مراسلت اور خط و کتابت جاری ہیں۔ خلیفہ نے لوگوں کو ان سے محتاط رہنے کی ہدایت کی اور مسجد کے متعلق علماء سے فتویٰ طلب کیا تو علماء نے فتویٰ دیا کہ یہ مسجد ضرار ہے۔ چنانچہ جن کو وہ گرفتار کر سکا انھیں شدید زد و کوب کیا اور ان کی خوب تشہیر کروائی اور مذکورہ مسجد کو گرا دیا۔
(البدایۃ و النہایۃ لابن کثیر: جلد 15 صفحہ 18 )
4۔ خلیفہ القادر باللہ (احمد بن اسحاق بن جعفر ابو العباس بغدادی مشہور عباسی خلیفہ تھا۔ 336 ہجری میں پیدا ہوا اپنے وقت کا عالم و عابد، سخی، فقیہ تھا اور ابن صلاح کی رائے میں وہ شافعی المذہب تھا۔ اصول عقائد میں ایک کتاب تصنیف کی جس میں صحابہ کے فضائل تحریر کیے اور قرآن کو مخلوق کہنے والوں کی تکفیر کی۔ 422 ہجری میں وفات پائی۔ (سیر اعلام النبلاء للذہبی: جلد 15 صفحہ 128۔ البدایۃ و النہایۃ: لابن کثیر: جلد 11 صفحہ 353 (ت: 422 ہجری) کا فیصلہ:
القادر باللہ رحمہ اللہ نے اپنے عقیدہ کے ضمن میں لکھا جو کہ المنتظم: جلد 4 صفحہ 384 میں علامہ ابن الجوزی نے تحریر کیا: "جو ہماری ماں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو گالی دے گا اس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔‘‘
5۔ عباسی خلیفہ: المستضیء بامر اللہ(ت 575 ہجری) کا فیصلہ
انھیں بغداد میں ایک شاعر کے متعلق پتا چلا جو روافض کا شاعر اور مداح تھا۔ اسے ابن قرایا کہتے تھے۔ وہ بازاروں اور منڈیوں میں جاتا اور وہ اشعار پڑھتا جن میں صحابہ کرامؓ کی مذمت ہوتی، انھیں گالیاں دیتا ان سے پناہ مانگتا اور ان سے محبت کرنے والوں کی ہجو کرتا تو خلیفہ کے حکم سے اس کی پیشی کے لیے ایک کمیٹی بنائی گئی، جب تفتیش کی گئی تو پتا چلا کہ روافض کے غلیظ عقائد کا داعی ہے۔ تب فقہاء نے اس کی زبان اور دونوں ہاتھ کاٹ دینے کا فتویٰ دیا۔ اسے یہی سزا دی گئی۔ پھر عوام نے اسے حکمرانوں سے چھین لیا اور اسے پتھروں اور اینٹوں سے سنگسار کرتے رہے حتیٰ کہ اس نے خود بخود دریائے دجلہ میں چھلانگ لگا دی۔ لوگوں نے اسے وہاں سے زندہ نکال کر قتل کر دیا۔
(البدایۃ و النہایۃ لابن کثیر: جلد 16 صفحہ 531۔)