Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے اہل بیت رضی اللہ عنہم سے تعلقات کا جائزہ اہل تشیع کی کتب سے

  علی محمد الصلابی

ابن ابی الحدید لکھتا ہے: بے شک امیر المؤمنین علی علیہ السلام نے ان (سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ) کی تکریم کی، ان کی حفاظت کی اور ان کی عظمت شان کا اعتراف کیا۔

شاعر نے کیا خوب کہا ہے:

نَسْبٌ أَضَائَ عُمُوْدُہٗ فِیْ رِفْعَۃٍ

کَالصُّبْحِ فِیْہِ تَرَفَّعٌ وَ ضِیَائٌ

وَ شَمَائِلٌ شَہِدَ الْعَدُوُّ بِفَضْلِہَا

وَ الْفَضْلُ مَا شَہِدَتْ بِہِ الْاَعْدَائُ

’’وہ ایسے عالی شان نسب ہے جو صبح صادق کی طرح روشن اور بلند ہو رہا ہے اور ایسے فضائل اپنے اندر سمو رکھے ہیں کہ دشمن بھی ان کا معترف ہے اور حقیقی فضائل تو وہی ہوتے ہیں جن کے معترف دشمن بھی ہوتے ہیں۔‘‘

اے قارئین محترم! گزشتہ صفحات کے مطالعہ سے آپ کے سامنے حقائق واضح ہو چکے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور سیدنا علی اور دیگر اہل بیت رضی اللہ عنہم کے درمیان حسین تعلقات قائم رہے۔ اب ہم خود روافض اور شیعہ مصنفین کی کتب سے اس حقیقت کے دلائل برائے اتمام حجت پیش کرتے ہیں۔ تاکہ ہمارا مدمقابل اپنی پناہ گاہوں میں موجود دلائل سے مطمئن ہو جائے اور ان دلائل میں موجود تفاصیل سے ہمارا متفق ہونا ضروری نہیں، کیونکہ ان کی اکثر روایات، جھوٹ، تدلیس اور تقیہ جیسی قبیحات سے خالی نہیں ہوتیں، لیکن ہمارا مقصد صرف یہ ہے کہ ان کی کتابوں سے ایسے دلائل پیش کیے جائیں جن میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور تمام اہل بیت رضی اللہ عنہم کے باہمی طور پر احسن تعلقات اور حسن معاشرت کی جھلک نمایاں طور پر نظر آتی ہے۔

( التراحم بین آل البیت و الصحابۃ تصالح الدرویش۔)

یہ کتاب اس موضوع کے لیے نہایت عمدہ ہے۔ بحث میں ہم ابن ابی الحدید(عبدالحمید بن ہبۃ اللہ بن ابی الحدید، ابو حامد عز الدین المدائنی غالی شیعہ ہے۔ 586 ہجری میں پیدا ہوا۔ ابن علقمی وزیر جو غالی شیعہ کا سرغنہ تھا، اس کے پاس یہ سیکرٹری تھا اور اس کی وجہ شاید یہ تھی کہ دونوں حد درجہ کے غالی شیعہ تھے۔ اس کی تصنیفات میں سے ’’الفلک الدائر علی المثل السائر‘‘ اور ’’شرح نہج البلاغۃ‘‘ مشہور ہیں۔ 655 ہجری میں وفات پائی۔ (تاریخ الاسلام للذہبی: جلد 11 صفحہ 118۔ البدایۃ و النہایۃ لابن کثیر: جلد 13 صفحہ 199) اس کی کتب پر اعتماد کریں گے۔ ابن ابی الحدید اگرچہ غالی تھا اور ’’نہج البلاغۃ‘‘ کی شرح کرتے وقت اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر بکثرت بہتان تراشی اس کا وطیرہ ہے۔ (اور جب کہ وہ اسلام اور اہل اسلام کے لیے اعتزال، رفض اور مکر و فریب کا بہت بڑا داعی ہے اور ابن علقمی کے ساتھ اس کے روابط بخوبی ہمارے علم میں ہیں۔)

( الانوار الکاشفہ مما فی کتاب، اضواء علی السنۃ من الزلل و التضلیل و المجازفۃ للمعلمی، صفحہ 152 )

لیکن دیگر غالی شیعوں کے احوال کا مطالعہ کرنے کے بعد معلوم ہوتا ہے کہ ابن ابی الحدید تمام شیعوں میں سے صاحب علم و فضل اور اہل تشیع کے مصنوعی فلسفے سے بالکل الگ تھلگ ہے۔

(درء التعارض العقل مع النقل لابن تیمیۃ: جلد 1 صفحہ 161۔)

اس کی عجیب و غریب خصلت یہ بھی ہے کہ وہ جب بھی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا تذکرہ کرتا ہے، اکثر مقامات پر ان کا تذکرہ نیکی اور بھلائی کے ساتھ کرتا ہے اور ان کے جنتی ہونے کی گواہی دیتا ہے۔ ہم اس بحث میں اس کے چند جملے نقل کریں گے۔

قارئین کرام ان میں چھپے ہوئے حقائق کو بخوبی دیکھ لیں گے اگرچہ اس کے کچھ اقوال علانیہ طور پر باطل ہوتے ہیں اگر کسی مقام پر اس وضاحت کی ضرورت پڑی تو ہم اس کی طرف ضرور اشارہ کریں گے اور اسے ہم نے اس لیے منتخب کیا ہے کہ یہ اہل تشیع کے نزدیک معتمد علیہ مصدر و مرجع ہے اور جو لوگ سیدنا ابوہریرہ اور سیدتنا و امنا عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایات پر طعن کرتے ہیں وہ بھی اس پر اعتماد کرتے ہیں ۔