معاویہ کا دورحکومت ظلم و استبداد کا دور تھا۔ (تحفہ اثناء عشریہ)
مولانا ابوالحسن ہزارویمعاویہ کا دورحکومت ظلم و استبداد کا دور تھا۔ (تحفہ اثناء عشریہ)
الجواب اہلسنّت
1: ذرا انصاف کے ساتھ عبارت ملاحظہ فرمائیں اور فیصلہ کریں کہ جو مطلب شیعہ لوگوں نے کشید کیا ہے وہ واقعی انصاف پر مبنی اور درست ہے؟ ملاحظہ ہو.
حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ نے صلح کی معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ اور ترک خلافت کی باوجود اس کے کہ استحقاق خلافت کا منحصر انہیں کی ذات عالی صفات میں تھا اور جانب خلاف کے بے استحقاقی ظاہر یہ ہے کہ حضرت حسن رضی اللہ عنہ نے جانا تھا کہ زمانہ خلافت کا گزر چکا اور دور ظلم و بیداد کا آ پہنچا۔ اگر میں اس ریاست کا کام اپنے ذمے رکھوں گا تو تقدیر الٰہی میں تو ہے نہیں منتظم نہ ہوگی اور فتنے اور فساد اور غضب اور عناد درمیان میں پیدا ہوں گے اور جو مصلحتیں کہ امامت میں ملحوظ و منظور ہوتی ہیں بالکل فوت ہو جائیں گی ناچار اس وقت کی ریاست سے کنارا کیا اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو حکم سپرد کر دیا. کہ اس وقت کی ریاست کے لائق تھے۔ (عکسی صفحہ تحفہ)
محترم حضرات عبارت کو بار بار ملاحظہ فرمائیں اور غور سے پڑھیں کیا کہیں یہ معنیٰ اور مطلب آپ حضرات کو نظر پڑتا ہے جو دلالت کرے اس بات پر کہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا دور حکومت ظلم و استبداد کا دور تھا؟
2: حضرت حسن رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ خیال فرمانا تو اپنی جگہ حق ہے کہ وہ زمانہ جیسے آپﷺ نے اپنا زمانہ قرار دیا تھا اور جس میں اللہ تعالیٰ کی خاص نصرت تھی وہ دور اب گزر چکا لہٰذا اب اگر میں حکومت سنبھال لوں گا تو فتنے اور عناد و دشمنی و عدوان بڑھے گی لہٰذا ان چیزوں پر کنٹرول کرنے کی استعداد حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ میں موجود تھی اسی لئے حضرت حسن رضی اللہ عنہ نے امامت اقتدار ان کے حوالے کر دیا اور خود ان کے معین بن گئے ۔ اس سے یہ کہاں ثابت ہوا کہ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا دور ظلم و استبداد کا دور تھا؟
مگر بُرا ہو بغض وحسد کا جو انسان کے اعصاب پر سوار ہو جائے تو عقل وفکر پر کالی چادر ڈال دیتا اور سمجھنے بوجھنے کی صلاحیت سے محروم کر دیتا ہے۔ یہی حال اس وقت شیعہ لوگوں کا بھی ہے۔