سیدنا علی و فاطمہ رضی اللہ عنہما کے فضائل و مناقب کی روایات کا سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے بیان
علی محمد الصلابیابن ابی الحدید گواہی دیتا ہے کہ عائشہ( رضی اللہ عنہا ) نے سیدنا علی و سیدہ فاطمہ اور تمام اہل بیت رضی اللہ عنہم کے فضائل و مناقب والی احادیث روایت کی ہیں۔
ابن ابی الحدید لکھتا ہے: جہاں تک مسروق کا تعلق ہے تو وہ تاحیات جب بھی کوئی نماز پڑھتا اس کے بعد وہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے لیے دعا ضرور کرتا، اس حدیث کی وجہ سے جو اس نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی فضیلت میں سنی تھی۔
(المصدر السابق: جلد 4 صفحہ 97)
مسروق بن اجدع رحمہ اللہ جلیل القدر تابعی ہیں۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے فضائل سب لوگوں سے زیادہ جانتے تھے اور وہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے شاگرد تھے جیسا کہ اس کے تعارف میں لکھا ہوا ہے۔
(تہذیب التہذیب لابن حجر: جلد 4 صفحہ 59)
اہل سنت کی کتابوں میں ایسا کوئی ثبوت نہیں جس سے پتا چلے کہ مسروق ہر نماز کے بعد سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے لیے دعا کرتا تھا۔ ابن ابی الحدید اکیلا نہیں جس نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے اہل بیتؓ کے فضائل کے متعلق روایت ذکر کی بلکہ متاخرین میں سے جو اس مقدس ہستی پر کثرت سے جھوٹے الزام لگاتے ہیں وہ بھی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے سیدہ فاطمہ کے فضائل والی روایت بیان کرتے ہیں۔ ان میں سے کسی نے کہا: عائشہ(رضی اللہ عنہا) فاطمہ(رضی اللہ عنہا) کی ثنا بیان کرتے ہوئے کہتی ہے: میں نے اس سے زیادہ سچا اس کے باپ کے علاوہ کسی کو نہیں دیکھا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے علاوہ کوئی اور شخص نہیں دیکھا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس سے زیادہ محبوب ہو اور نہ ہی میں نے کوئی عورت دیکھی جو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی بیوی (سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا) سے زیادہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو محبوب ہو۔
(امالی الطوسی: صفحہ 249، 440۔ بحار الانوار للمجلسی: جلد 37 صفحہ 40)
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تمام لوگوں میں سب سے زیادہ کون محبوب تھا؟ تو انھوں نے فرمایا: فاطمہ(رضی اللہ عنہا)۔ سائل نے کہا: میں نے آپؓ سے مردوں کے بارے میں پوچھا ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ان کا خاوند۔ اللہ کی قسم! وہ بہت زیادہ روزے رکھنے والے، بہت زیادہ قیام کرنے والے اور بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا لعاب ان کے ہاتھ پر گرا تو انھوں نے اسے چاٹ لیا۔
(کشف الغمۃ للاربلی: جلد 1 صفحہ 244۔ بحار الانوار للمجلسی: جلد 32 صفحہ 272، جلد 37 صفحہ 313، جلد 40 صفحہ 152، جلد 43 صفحہ 53۔)
روایت ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کا تذکرہ کیا تو کہا: میں نے اس سے زیادہ سچا اس کے باپ کے علاوہ کسی کو نہیں دیکھا۔
(کشف الغمۃ للاربلی: جلد 2 صفحہ 100)
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ میں ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھی تو سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ آ رہے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ عربوں کا سردار ہے۔
(بحار الانوار للمجلسی: جلد 38 صفحہ 93، 150)
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا تذکرہ عبادت ہے۔
(بحار الانوار: جلد 38 صفحہ 199، 200)
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ تم اپنی مجلسوں کو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے تذکرہ سے مزین کرو۔
(المصدر السابق: جلد 38 صفحہ 201۔)
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ اس کے پاس سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا تذکرہ کیا گیا تو اس نے کہا: بے شک وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک ہمارے تمام مردوں سے زیادہ معزز تھے۔
(کشف الغمۃ للاردبلی: جلد 1 صفحہ 376۔ بحار الانوار للمجلسی: جلد 40 صفحہ 51۔)
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے متعلق پوچھا گیا تو کہا: وہ بہترین آدمی ہیں اور اس میں صرف کافر ہی شک کرے گا۔
(بحار الانوار للمجلسی: جلد 26 صفحہ 306 جلد 38 صفحہ 5)
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اپنے بھائی محمد بن ابی بکر رضی اللہ عنہما سے کہا: تو علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے ساتھ مل جا کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: حق علی کے ساتھ ہے اور علی حق کے ساتھ ہے۔ وہ دونوں کبھی جدا نہیں ہوں گے حتیٰ کہ وہ دونوں حوض کوثر پر میرے پاس آ جائیں۔
(بحار الانوار للمجلسی: جلد 38 صفحہ 28۔ نیز دیکھیں: صفحہ 33، 38، 39)
ایک روایت میں ہے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: وہ بہترین انسانوں میں سے ہے اور اس میں صرف کافر شک کرتا ہے۔
(المصدر السابق: جلد 38 صفحہ 13)
جب سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو اطلاع ملی کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے خوارج سے قتال کیا تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: میرے بعد میری امت کا بہترین فرد انھیں قتل کرے گا۔
ایک روایت میں ہے: ’’وہ (یعنی خوارج) خلقت اور اخلاق کے لحاظ سے بدترین ہیں، خلقت اور اخلاق کے لحاظ سے بہترین شخص انھیں قتل کرے گا اور قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے ہاں ان سب سے عظیم وسیلہ ہو گا۔‘‘
ایک روایت میں ہے: ’’اے اللہ! بے شک وہ میری امت کے بدترین لوگ ہیں اور میری امت کا بہترین آدمی انھیں قتل کرے گا اور میرے اور اس شخص کے درمیان قریبی تعلق ہے جو عورت اور اس کے سسرال کے درمیان ہوتا ہے۔
(مذکورہ بالا تمام روایات کے لیے المصدر السابق للمجلسی کو دیکھیں: جلد 33 صفحہ 332 ،40، 33۔ و کشف الغمۃ للاربلی: جلد 1 صفحہ 158)
وہ (رافضی) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کو اپنی ران پر بٹھایا اسی وقت آپ کے پاس جبریل علیہ السلام آئے اور کہا: کیا یہ آپ کا بیٹا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں۔ جبریل نے کہا: لیکن آپ کی امت مستقبل میں آپ کے بعد اسے قتل کر دے گی۔ تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھیں اشک بار ہو گئیں۔ جبریل علیہ السلام نے فرمایا: اگر آپ چاہیں تو میں آپ کو اس سرزمین کی مٹی دکھلا دوں جس میں یہ قتل کیا جائے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں۔ چنانچہ جبریل علیہ السلام نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو (اَلطُّفّ)اَلطُّفّ:کوفہ کی صحرائی مٹی جہاں حسین بن علی رضی اللہ عنہما کو شہید کیا گیا۔ (معجم البلدان لیاقوت الحموی: جلد 4 صفحہ 36۔ معالم المدرستین للسید مرتضی العسکری: جلد 3 صفحہ 40، 42) صاحب حاشیہ کہتا ہے کہ جب حسین رضی اللہ عنہ کو اپنے مقتل کا علم تھا تو اس کی طرف کیوں گئے؟ کیا یہ حسین رضی اللہ عنہ کے فقہ کی علامت ہے یا ان رافضیوں کے نزدیک خودکشی جائز ہے؟) (کوفہ کے صحراء) کی مٹی دکھائی۔
لیکن اس روایت کی کوئی سند نہیں ہے البتہ روافض کے نزدیک یہ روایت سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی منقبت کی بہت بڑی دلیل ہے اور روافض کے نزدیک جس نے یہ عظیم منقبت والی روایت کی ہے، وہ ان کے نزدیک اللہ کی بدترین مخلوق ہے۔ یا للعجب!
نیز ہم سابقہ روایات کی اسانید کے لیے توقف نہیں کرتے، کیونکہ ان کی اسناد کے متعلق بحث نہایت طویل ہو جائے گی لیکن ہم ان کے نتائج پر ضرور بحث کریں گے، کیونکہ یہ شیعہ علماء کی مرویات ہیں اور ان روایات میں یہ واضح دلیل ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا، علی و فاطمہ رضی اللہ عنہما کے درمیان نہایت شفاف روابط تھے۔