Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

بعض ائمہ شیعہ نے اپنی بیٹیوں کا نام عائشہ رکھا

  علی محمد الصلابی

شیعوں کے ساتویں امام موسیٰ بن جعفر صادق (موسیٰ بن جعفر بن محمد بن علی بن حسین بن علی ابن ابی طالب۔ ابو الحسن ہاشمی۔ انھیں کاظم کہا جاتا ہے۔ ثقہ تھے اور اپنے وقت میں مسلمانوں کے امام شمار ہوتے تھے۔ 128 ہجری میں پیدا ہوئے اپنے وقت کے مشہور عابد تھے اور دلیر علماء میں ان کا شمار ہوتا ہے۔ مامون الرشید نے انھیں قید میں ڈالا اور وہ اپنی قید میں ہی 183 ہجری میں فوت ہو گئے۔ یہ درحقیقت اہل سنت کے امام تھے۔ اہل بیتؓ کے سرخیل تھے۔ حضرات صحابہ کرامؓ اور امہات المؤمنینؓ کی کردار کشی کرنے والوں کا ان کے ساتھ کیا تعلق واسطہ؟ ائمہ اہل بیت اس تمام بدزبانی اور یا وہ گوئی سے بری ہیں جو روافض اور شیعہ بالخصوص اثنا عشری صحابہ کرامؓ اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں کرتے ہیں۔ جن کا لقب کاظم (سیر اعلام النبلاء للذہبی: جلد 6 صفحہ 270۔ تہذیب التہذیب لابن حجر: جلد 5 صفحہ 560۔  ہے، انھوں نے اپنی ایک بیٹی کا نام عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے نام پر رکھا۔

(الارشاد للمفید: جلد 2 صفحہ 302۔ و الفصول المہمۃ لعبد الحسین الموسوی: صفحہ 242۔ و کشف الغمۃ للاربلی: جلد 3 صفحہ 26۔ الارشاد للمفید: جلد 2 صفحہ 244)

اسی طرح جعفر بن موسی الکاظم بن جعفر الصادق (جعفر بن موسیٰ الکاظم بن جعفر الصادق خواری لقب ہے۔ اس کی آٹھ بیٹیاں ہوئیں۔ ان میں سے ایک کا نام اس نے عائشہ رکھا اور ایک کا نام زینب رکھا۔ (المجدی فی انساب الطالبیـین للعمری: صفحہ 301) نے اپنی بیٹی کا نام عائشہ رکھا۔

عمری ( ابو الحسین علی بن محمد بن علی العمری انساب کا بڑا عالم تھا یہ پانچویں صدی ہجری کا عالم تھا۔ اس کی مشہور تصنیفات ’’المجدی فی انساب الطالبـیـین‘‘ اور ’’المشجرات‘‘ ہیں۔ ’’معجم المولفین‘‘ لرضا کحالۃ: جلد 7 صفحہ 221۔ مقدمۃ کتاب المجدی فی انساب الطالبیـین۔نے ’’المجدی‘‘ نامی اپنی کتاب میں لکھا: جعفر بن موسیٰ کاظم بن جعفر صادق جو خواری کے لقب سے مشہور ہے اور یہ ام ولد کا بیٹا تھا، اس کی آٹھ بیٹیاں پیدا ہوئیں۔ حسنہ، عباسہ، عائشہ، فاطمۃ الکبریٰ، فاطمہ الصغریٰ، اسماء، زینب اور ام جعفر۔

(المجدی فی انساب الطالبین للمجدی: صفحہ 301)

اسی طرح اس کے بڑے پڑدادا علی بن حسین نے بھی اپنی ایک بیٹی کا نام عائشہ رکھا۔

(کشف الغمۃ للاربلی: جلد 2 صفحہ 302)

اسی طرح شیعوں کے دسویں امام علی بن محمد الجواد (علی بن الجواد محمد بن علی ابو الحسن علوی حسینی الہادی کے لقب سے مشہور ہے۔ 214 ہجری میں پیدا ہوا۔ اپنے وقت کا فقیہ، امام، متبع، عابد، زاہد اور بارہ اماموں میں سے ایک ہے۔ شیعوں کے عقائد کے مطابق حسن عسکری المنتظر (امام غائب) کا والد ہے۔ 254 ہجری میں وفات پائی۔ (البدایۃ و النہایۃ لابن کثیر: جلد 11 صفحہ 15۔ شذرات الذہب لابن العماد: جلد 2 صفحہ 127۔)  (ت: 254 ہجری) نے بھی اپنی ایک بیٹی کا نام عائشہ (کشف الغمۃ للاربلی: جلد 3 صفحہ 177 رکھا اور علی الہادی (الارشاد للمفید: جلد 2 صفحہ 312) نے بھی اپنی ایک بیٹی کا نام عائشہ رکھا۔

اگر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اہل بیت سے بغض رکھتی تھیں تو اہل بیتؓ اپنی بیٹیوں کے نام ان کے نام پر کیوں رکھتے تھے۔