سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے باہمی تعلقات
علی محمد الصلابیحمیری نے اپنی سند کے ساتھ روایت کی ہے کہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا جب کوئی کھانا تیار کرتی تو اس میں سے ہماری اماں جی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا حصہ الگ کر دیتی تھیں۔
(قرب الاسناد للحمیری: صفحہ 137)
بحار الانوار میں مجلسی (محمد باقر بن محمد تقی بن مقصود علی اصفہانی مجلسی اثنا عشری شیعہ کا عالم تھا۔ اصفہان میں علماء اسلام کا سربراہ مقرر ہوا۔ 1037 ہجری میں پیدا ہوا۔ اس کی مشہور تصنیفات ’’بحار الانوار‘‘ اور ’’جوامع العلوم‘‘ ہیں۔ 1111 ہجری میں فوت ہوا۔ (الاعلام للزرکلی: جلد 6 صفحہ 48) نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ میں بازار گیا ایک درہم کا گوشت اور ایک درہم سے مکئی کا آٹا خریدا اور دونوں چیزیں لا کر سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو دے دیں۔ جب وہ روٹی اور سالن پکاکر فارغ ہوئیں تو کہنے لگیں اگر آپ جا کر میرے والد کو بلا لائیں؟ تو میں ان کے پاس گیا تو وہ لیٹے ہوئے فرما رہے تھے: میں بھوک کے بستر سے اللہ کی پناہ چاہتا ہوں۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہمارے پاس کھانا موجود ہے۔ چنانچہ آپ نے میرا سہارا لیا اور ہم سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی طرف چل پڑے جب ہم گھر میں داخل ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہمارا کھانا لے آ۔ پھر فرمایا: اس میں سے عائشہ کے لیے رکھ لو۔ چنانچہ اس نے رکھ دیا۔
(بحار الانوار: جلد 17 صفحہ 231)
اسی طرح ابن رستم طبری (محمد بن جریر بن رستم ابو جعفر طبری امامی شیعہ تھا۔ اکثر لوگوں کو امام اہل سنت محمد بن جریر بن یزید طبری کے ساتھ اس کی مشابہت ہو جاتی ہے۔ ابن رستم طبری کی مشہور تصنیفات ’’المسترشد فی الامامۃ‘‘ اور ’’الرواۃ عن اہل البیت‘‘ ہیں۔ (سیر اعلام النبلاء: جلد 14 صفحہ 282۔ ذیل میزان الاعتدال للعراقی: صفحہ 178۔) نے ’’دلائل الامامۃ‘‘ میں روایت کی کہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے جب وفات پائی تو وہ عائشہ(رضی اللہ عنہا) سے راضی تھیں اور یہ کہ اس نے عائشہ(رضی اللہ عنہا) کے لیے بارہ اوقیہ چاندی کی وصیت کی۔
(دلائل الامامۃ: صفحہ 260)