Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی توبہ و مغفرت کے بارے میں ائمہ شیعہ کی گواہیاں

  علی محمد الصلابی

کلینی (محمد بن یعقوب کلینی ابو جعفر رازی۔ امامیہ شیعہ کا عالم شیخ شمار ہوتا ہے۔ وہ ان کا معروف فقیہ ہے اور ان کے مذہب کے مصنفین میں سے ایک ہے۔ اس کی تصنیفات میں سے ’’الکافی فی علم الدین‘‘ اور ’’الرد علی القرامطۃ‘‘ ہیں۔ 322 ہجری میں وفات پائی۔ (سیر اعلام النبلاء للذہبی: جلد 15 صفحہ 280۔ الاعلام للزرکلی: جلد 7 صفحہ 145) نے الکافی میں اپنی سند کے ساتھ روایت کیا ہے کہ میں نے ابو عبداللہ( علیہ السلام ) سے کہا: بلاشبہ میں نے تیرے باپ کو کہتے ہوئے سنا بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں کو اختیار دیا تو انھوں نے اللہ اور اس کے رسول کو منتخب کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ان کی طلاق شمار نہ کیا اور اگر وہ اپنی رائے کو ترجیح دیتیں تو سب کی سب بائنہ ہو جاتیں۔ تو اس نے کہا: یہ حدیث میرے والد سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں اور لوگوں کا اختیار دینے سے کیا تعلق ہے؟ بلاشبہ اللہ عزوجل نے اپنے رسول علیہ السلام کو اس چیز کے لیے خاص کیا۔

(محمد بن علی بن حسین بن علی بن ابی طالب ابو جعفر الہاشمی الباقر۔ ثقہ اور امام ہیں۔ 56 ہجری میں پیدا ہوئے۔ عالم فاضل اور فقیہ تھے۔ اپنے وقت کے مجتہد تھے۔ 117 ہجری میں وفات پائی۔ (سیر اعلام النبلاء للذہبی: جلد 4 صفحہ 401۔ تہذیب التہذیب لابن حجر: جلد 5 صفحہ 225) مجلسی نے کہا یہ روایت معتمد علیہ ہے۔ یہ روایت جعفر صادق (الکافی للکلینی: جلد 6 صفحہ 137۔ بحار الانوار للمجلسی: جلد 22 صفحہ 212۔) رضی اللہ عنہ نے اپنے باپ سے اس نے ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی اور یہ کہ وہ ہمارے نبی کی ان بیویوں میں سے ایک ہیں جنھوں نے اللہ اور اس کے رسول کو اختیار کیا۔

ابو جعفر محمد بن علی الباقر ( جعفر بن محمد بن علی بن حسین بن علی بن ابی طالب ابو عبداللہ ہاشمی الصادق۔ 80 ہجری میں پیدا ہوئے۔ بنو ہاشم کے بزرگوں میں ان کا شمار ہوتا ہے۔ مدینہ منورہ کے جلیل القدر عالم تھے۔ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے نواسے ہیں۔ یہ شیعوں پر نہایت غصے اور ناراض ہوتے تھے۔ حق کی آواز نہایت دلیرانہ طور پر بلند کرتے۔ 148 ہجری میں وفات پائی۔ (سیر الاعلام النبلاء للذہبی: جلد 6 صفحہ 255۔ الموجز الفارق من معالم ترجمۃ الامام جعفر الصادق لعلی الشبل۔)سے روایت ہے کہ کسی نے ان سے پوچھا کہ جنگ جمل میں عائشہ کی شمولیت کے بعد اس کے بارے میں آپ کیا کہیں گے؟ اس نے کہا، میں اس کے لیے اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرتا ہوں، کیا تجھے معلوم نہیں کہ وہ کہا کرتی تھی کاش کہ میں درخت ہوتی کاش کہ میں پتھر ہوتی، کاش! میں مٹی کا ڈھیلا ہوتی۔ بقول سائل میں نے کہا: اس کے ان اقوال کا کیا مطلب ہے؟ 

امام باقر رحمہ اللہ نے کہا: یہ اس کی طرف سے اعلانیہ توبہ ہے۔

(الطبقات الکبرٰی لابن سعد: جلد 8 صفحہ 74)

ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور اہل بیت رضی اللہ عنہم کے درمیان تکریم و تعظیم کے حسین تعلقات کو دلائل و براہین سے نہ صرف اہل سنت کی کتابوں سے ثابت و واضح کیا گیا بلکہ شیعوں کی اپنی کتابوں اور ان کے مزعوم ائمہ کے اقوال و مرویات سے بھی یہ ثابت کیا گیا۔ جسے رد کرنا کسی کے بس کی بات نہیں ، لیکن ہٹ دھرمی، ضد، تعصب اور عناد کا تو کوئی جواب نہیں اور حقیقی توفیق و ہدایت تو اللہ تعالیٰ ہی دیتا ہے۔