Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر جھوٹے الزامات کی تفصیل

  علی محمد الصلابی

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب پر جھوٹے اور من گھڑت الزامات کی بنیاد پر جھوٹوں کی ایک جماعت پروان چڑھی۔ جس نے تاریخی کتابوں کو جھوٹے افسانوں اور من گھڑت کہانیوں سے بھر دیا اور اس سنہرے زمانے کا چہرہ مسخ کرنے کی بھرپور کوشش کی، یہ اور بات ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دنیا میں ان جھوٹوں کے اپنے چہرے مسخ کر دیے اور آخرت میں ان کے ساتھ ان شاء اللہ جو ہو گا سو ہو گا۔

ان ظالموں کے ناپاک خون آلود ہاتھوں نے بکثرت من گھڑت روایات کتابوں میں ڈالیں۔ یہ خونخوار درندے صحابہ رضی اللہ عنہم کے عہد مبارک میں نمودار ہو چکے تھے۔ صحابہ کرامؓ کی طرف منسوب کر کے انھوں نے مقالات و رسائل میں من چاہا رد و بدل کیا، حتیٰ کہ اس زمانے میں بھی چند فتنے ظہور پذیر ہو گئے اور عبداللہ بن سبا یہودی خبیث کی چھوڑی ہوئی وراثت کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنا کر اب تک ہر زمانے میں سبائی فتنہ کے پیروکار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحابؓ پر مسلسل بہتان تراشیاں کرتے چلے آئے ہیں۔

امام علامہ محب الدین خطیب (محب الدین بن ابی الفتح بن عبدالقادر بن محمد خطیب۔ 1303 ہجری میں پیدا ہوئے۔ اپنے وقت کے بہت بڑے مؤلف تھے۔ جمعیۃ نہضۃ العربیۃ کے بانیوں میں سے ہے۔ متعدد مجلات کے مدیر رہے اور مجلہ ازہر کے مدیر التحریر رہے۔ نیز سلفیہ پریس کے بانی ہیں۔ ان کی مشہور تصانیف ’’تاریخ مدینۃ الزہراء‘‘ اور ابن العربی کی کتاب ’’العواصم من القواصم‘‘ کی تحقیق و تخریج کی۔ 1389 ہجری میں فوت ہوئے۔ (الاعلام للزرکلی: جلد 5 صفحہ 282۔) ان کی ایک معروف کتاب ’’الخطوط العریفہ‘‘ کا جواب شیعہ کی طرف سے لکھا گیا۔ لیکن طویل عرصے تک اہل سنت کی طرف سے ان مغالطوں کا جواب نہ دیا گیا۔ حتیٰ کہ علامہ احسان الہٰی ظہیر رحمہ اللہ نے 1970ء کے قریب ’’الشیعہ والسنہ‘‘ کے نام سے معرکۃالآراء کتاب تالیف فرمائی۔ لاکھوں کی تعداد میں یہ کتاب دنیا کی مختلف زبانوں میں شائع ہو چکی ہے۔ رحمہ اللہ لکھتے ہیں:

’’اے مسلمانو! خبردار ہو جاؤ! بے شک مجرم لوگوں کے ہاتھوں نے سیدہ عائشہ، سیدنا علی اور سیدنا طلحہ و سیدنا زبیر رضی اللہ عنہم کے متعلق جھوٹے افسانے تراشے جو اس سارے فتنے کی بنیاد بنے اور انھی جھوٹے افسانوں نے اس فتنے کو شروع سے آخر تک بھڑکانے کا کام کیا اور یہی وہ مجرم ہاتھ ہیں جنھوں نے امیر المؤمنین عثمان رضی اللہ عنہ کی زبانی اس کی طرف سے مصر کے گورنر کے نام ایک خط مشہور کیا۔ یہ اس زمانے کی بات ہے کہ جب مصر میں عثمان رضی اللہ عنہ کی طرف سے کوئی گورنر تھا ہی نہیں۔ جن ہاتھوں نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی زبان سے منسوب کر کے یہ رسالہ مشہور کیا: انہی ہاتھوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی طرف ایک رسالہ منسوب کر کے پھیلایا اور یہ سب کچھ صرف اس لیے کیا گیا تاکہ نام نہاد انقلابی مدینہ منورہ پر ہلہ بول دیں۔ حالانکہ اس سے پہلے وہ اپنے خلیفہ کے مؤقف سے مطمئن ہو گئے تھے اور انھیں یقین ہو گیا تھا کہ جو افسانے ان کے متعلق پھیلائے جا رہے ہیں وہ سب جھوٹے اور بے بنیاد ہیں اور وہ ہر معاملے میں وہی فیصلہ کرتا ہے جسے حق اور بہتر سمجھتا ہے۔ اس سبائی، یہودی، خبیث کے پیدا کردہ اس فتنے کا مقصد صرف خلیفہ ثالث، داماد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زبان اقدس سے جنت کی خوشخبری پانے والوں کو بدنام کرنا ہی نہ تھا بلکہ وہ سارے اسلام کو ہی بدنام کرنا چاہتا تھا اور وہ اسلامی طاہر و مقدس نسلیں جن کی تاریخ نہایت درخشاں اور ضوء فشاں ہے ان سب کے چہرے داغ دار اور مسخ کرنے کی گھناؤنی سازش بھی ان کے مقاصد سیئہ میں شامل تھی۔‘‘

(العواصم من القواصم: صفحہ 108 پر تعلیق لکھتے ہوئے انھوں نے یہ لکھا)

ان تاریخی حقائق سے ہر مسلمان قاری کو آگاہ رہنا چاہیے۔ جو بھی تاریخ کا مطالعہ کر رہا ہو تاکہ اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اصحابؓ کی برأت کا یقین ہو جائے اور تاریخ میں جو جھوٹے افسانے سبائیوں اور ان کی اولاد نے شامل کیے ہیں کہ جن کا مقصد صرف اور صرف اس طاہر و مطہر زمانے کی تاریخ مسخ کرنا ہے۔ لیکن الحمد للہ! اللہ تعالیٰ نے ہر زمانے میں ان کے جھوٹوں اور لغویات کا کچا چٹھا کھولنے کے لیے علماء کا ایک گروہ ضرور پیدا کر دیا جو اسلامی چھاننی سے اسلام کی سچی تاریخ اور سبائیوں کی اس میں ملائی ہوئی تحریفات و تشویہات اور تزویرات کو علیحدہ کر لیتا ہے تاکہ اللہ تعالیٰ کا دین محفوظ رہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کی عزت و آبرو کی حفاظت ہو سکے کہ جنھوں نے اللہ کے دین کو سیکھا اور بعد میں آنے والوں کو سکھایا، انھوں نے اللہ کا دین سربلند کرنے کے لیے اپنی زندگیاں اور اپنی جوانیاں قربان کر دیں اور اس کے دین کی نصرت و حمایت پر قائم رہے۔ ابن مبارک ( عبداللہ بن مبارک بن واضح ابو عبدالرحمٰن مروزی۔ اپنے وقت کے شیخ الاسلام اور امام و غازی تھے۔ 118 ہجری میں پیدا ہوئے۔ طلب علم کے لیے بے شمار سفر کیے۔ نیز میدان جہاد میں بھی کارہائے نمایاں انجام دئیے۔ 181 ہجری میں وفات پائی۔ ’’الزہد‘‘ اور ’’المسند‘‘ ان کی مشہور تصنیفات ہیں۔ (سیر اعلام النبلاء للذہبی: جلد 8 صفحہ 378۔ تہذیب التہذیب لابن حجر: جلد 3 صفحہ 247۔) رحمہ اللہ سے کہا گیا: 

’’ان خود ساختہ احادیث کے متعلق آپ کی کیا رائے ہے؟ انھوں نے فرمایا: ان کے لیے ماہرین موجود ہوتے ہیں۔‘‘

(الجرح و التعدیل لابن ابی حاتم: جلد 1 صفحہ 3)

یہ حقیقت بخوبی معلوم ہے کہ اسلام کی طرف نسبت کرنے میں فرقوں میں سے شیعہ سب سے بڑے جھوٹے ہیں۔ ان کا سارا خود ساختہ دین جھوٹ پر مبنی ہے۔ تمام لوگوں سے زیادہ وہ صحابہ کرامؓ سے نفرت کرتے ہیں اور کینہ و بغض رکھتے ہیں۔

اہل سنت کے عظیم امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا

’’میں نے روافض سے بڑھ کر جھوٹی گواہی دینے والا کوئی نہیں دیکھا۔‘‘

(شرح اصول اعتقاد اہل السنۃ و الجماعۃ للالکائی: جلد 8 صفحہ 1544۔ السنن الکبری للبیہقی: جلد 10 صفحہ 352)

یزید بن ہارون (یزید بن ہارون بن زاذی یا ابن زاذان ابو خالد واسطی، شیخ الاسلام، حافظ حدیث، علم و عمل میں ایک روشن ستارہ، عبادت گزار، عظیم الشان مجاہد، امر بالمعروف و نہی عن المنکر پر عمل کرنے والے۔ 118 ہجری میں پیدا ہوئے اور 206 ہجری میں وفات پائی۔ (سیر اعلام النبلاء للذہبی: جلد 9 صفحہ 358۔ تہذیب التہذیب: لابن حجر: جلد 6 صفحہ 220) رحمہ اللہ فرماتے ہیں: 

’’جو بدعتی بدعت کی طرف دعوت نہ دے اس سے حدیث لی جا سکتی ہے سوائے رافضی کے کیونکہ وہ جھوٹ بولتے ہیں۔‘‘

(منہاج السنۃ النبویۃ لابن تیمیۃ: جلد 1 صفحہ 60)

محمد بن سعید اصبہانی (محمد بن سعید ابو جعفر حمدان اصبہانی کوفی امام بخاری رحمہ اللہ کے استاد تھے۔ حافظ حدیث تھے زبانی احادیث سنایا کرتے تھے۔ یہ تلقین ’’مصطلح الحدیث‘‘ یعنی کسی دوسرے کی سنائی ہوئی حدیث قبول نہیں کرتے تھے اور نہ ہی لوگوں کی کتابوں سے حدیث پڑھتے تھے۔ 220 ہجری میں وفات پائی۔ (رجال صحیح البخاری للکلاباذی: جلد 2 صفحہ 652۔ الکاشف للذہبی: جلد 2 صفحہ 175) رحمہ اللہ فرماتے ہیں

’’میں نے شریک رحمہ اللہ کو کہتے ہوئے سنا تو جس سے بھی ملاقات کرے اس سے علم حاصل کر لے، لیکن رافضی (شیعوں ) سے نہیں، کیونکہ وہ احادیث وضع کرتے ہیں اور اسے دین بنا لیتے ہیں۔‘‘

(منہاج السنۃ النبویۃ: جلد 1 صفحہ 59)

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں

’’اسناد، روایت اور احادیث لکھنے والوں کا اتفاق ہے کہ رافضی سب سے جھوٹا گروہ ہے اور قدیم زمانے سے ان میں جھوٹ مروج ہے اور اسی لیے ائمہ مسلمین انھیں بکثرت جھوٹ بولنے کی وجہ سے پہچان لیتے ہیں۔‘‘

(المصدر السابق: جلد 1 صفحہ 259)

رافضہ کے جھوٹ اتنے مشہور ہیں کہ ان کے تذکرے کی حاجت نہیں اور انھیں شمار نہیں کیا جا سکتا۔ ذیل میں ہم ان کے کچھ ہذیانات درج کر رہے ہیں جو انھوں نے ہر زمانے میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے متعلق اپنی کتابوں میں درج کیے۔ ان کے جھوٹے اور پر فریب ہاتھوں نے جو اتہامات اور بہتان تراشے ہیں ہم اپنے آپ کو ان سے بری الذمہ ثابت کرنے کے لیے درج کر رہے ہیں، نیز حق کو واضح کرنے کے لیے بھی ایسا کیے بغیر چارہ نہ تھا اور ہم جیسوں کے لیے اس مقام پر علامہ حافظ جلال الدین سیوطی رحمہ اللہ کا قول مضبوط سہارا ہے۔ وہ اپنی کتاب ’’مفتاح الجنۃ‘‘ کے شروع میں غالی رافضیوں (شیعوں) کے ایک گروہ کی آراء لکھتے ہوئے یہ عذر پیش کرتے ہیں:

’’میں ان آراء کو حکایتاً بیان کرنا بھی حلال نہیں سمجھتا، اگر مجھے یہ آراء نقل کرنے کی ضرورت پیش نہ آتی۔ وہ یہ ہے کہ میں اس فاسد مذہب کی حقیقت اور بنیاد واضح کر سکوں تاکہ متعدد زمانوں کے لوگ ان کے پھیلائے ہوئے شر و فساد سے راحت حاصل کر لیں۔‘‘

(مفتاح الجنۃ فی الاحتجاج بالسنۃ للسیوطی: صفحہ 6)

یہ ظالم گروہ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے متعلق کس قدر شدید بغض و کینہ رکھتے ہیں اس کی واضح مثالوں سے ان کی کتابیں بھری پڑی ہیں۔ وہ نہ صرف ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے فضائل کا انکار کرتے ہیں بلکہ جو ان کے طبعی اور قطعی اوصاف ہیں اور متواتر روایات سے ثابت ہیں ان سے بھی کھلم کھلا انکار کرتے ہیں۔ اس کی یہ ایک مثال مرتضیٰ عسکری (مرتضیٰ بن محمد اسماعیل بن محمد شریف عسکری۔ 1332 ہجری سامراء شہر میں پیدا ہوا اور وہاں کے تعلیمی اداروں میں اپنی تعلیم مکمل کی۔ پھر ایران کے مشہور علمی شہر ’’قم‘‘ کی طرف اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے 1349 ہجری میں گیا۔ پھر کاظمیہ چلا گیا اور وہاں مستقل سکونت اختیار کر لی۔ اس کی مشہور تصنیفات میں سے ’’احادیث ام المومنین عائشۃ‘‘ اور ’’القرآن الکریم و روایات المدرستین‘‘ ہیں۔ یہ تہران میں 1428 ہجری میں فوت ہوا) کی غلیظ اور ناپاک بات ہے:

’’وہ (سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دوسری لونڈیوں کی طرح ایک لونڈی تھی۔‘‘

(حدیث الافک لجعفر مرتضی حسینی: صفحہ 17)

مسلمانوں کو اس کی ان بیہودہ اور شیطانی تحریروں پر کوئی تعجب نہیں کرنا چاہیے کہ وہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر سب و شتم اور ان کی ہر فضیلت کا انکاری ہے اور نہ ہی اس کی اس فضول حرکت پر تعجب کرنے کی ضرورت ہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے منسوب کر کے یہ جھوٹی اور من گھڑت روایت لکھتا ہے کہ ابن عباس نے ان (سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا) کو مخاطب کر کے کہا: تو ان نو لونڈیوں کی طرح ایک لونڈی ہے (حشایاکا واحد حشیہ ہے یہ اس خادمہ کو کہا جاتا ہے جو اندرون خانہ کام کرتی ہو۔ (مختار الصحاح للرازی: صفحہ 138 جنھیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے پیچھے چھوڑا۔ تو ان سب سے سفید رنگت والی نہیں اور نہ ہی تیرا چہرہ ان سب سے حسین ہے اور نہ ہی تیرا پسینہ ان سب کے پسینوں سے زیادہ خوشبودار ہے اور نہ ہی ان سب کی پشتوں سے تیری پشت زیادہ بارونق ہے اور نہ ہی تو ان سب سے عالی نسب ہے۔

(بحار الانوار للمجلسی: جلد 32 صفحہ 270۔ معرفۃ اخبار الرجال للکشی: صفحہ 80)

لہٰذا ایسے جھوٹ صرف وہی لکھ اور بول سکتا ہے جس کا دل نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اہل بیت یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج سے بغض، کینہ اور نفرت سے لبریز ہو۔ ایسے شخص کے لیے جھوٹ بولنا نہایت آسان ہوتا ہے اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی جھوٹے افسانوں کی نسبت کرنا تاکہ صدیقہ بنت صدیق رضی اللہ عنہما میں عیب جوئی کی جا سکے کوئی وزن نہیں رکھتا۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے انھیں ان ظالموں کے بہتانوں سے بری الذمہ قرار دیا ہے۔

امام آجری رحمہ اللہ نے لکھا ہے:

’’ایک آدمی نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا، آپ میری ماں نہیں۔ آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ’’تو نے سچ کہا، میں ام المؤمنین ہوں ام المنافقین نہیں۔‘‘ مجھے یہ خبر متقدمین فقہاء میں سے کسی کی نسبت پہنچی ہے کہ ان سے ان دو آدمیوں کے بارے میں پوچھا گیا جنھوں نے طلاق کے ساتھ قسم کھائی۔ ایک نے قسم کھائی کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اس کی ماں ہے اور دوسرے نے قسم کھائی کہ وہ اس کی ماں نہیں۔ اس فقیہ نے کہا: دونوں پر کفارہ نہیں۔ اس سے پوچھا گیا، یہ کس طرح ممکن ہے؟ ان دونوں میں سے ایک پر تو ضرور قسم کا کفارہ ہو گا۔ فقیہ نے کہا: ’’جس نے قسم کھائی کہ وہ اس کی ماں ہیں تو وہ اپنی بات میں درست ہے کیونکہ وہ مومن ہے اس لیے اپنی قسم میں سچا ہے اور جس نے قسم کھائی کہ وہ اس کی ماں نہیں چونکہ وہ منافق ہے اس لیے وہ اپنی قسم میں سچا ہے۔‘‘

محمد بن حسین رحمہ اللہ فرماتے ہیں

’’ہم ان لوگوں سے اللہ کی پناہ چاہتے ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبوب بیوی ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا پر عیب جوئی کرتا ہے، جو پاک ہیں، بری ہیں، صدیقہ بنت صدیق رضی اللہ عنہما ہیں۔ ام المؤمنینؓ ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان سے اور ان کے والد محترم پر خوش ہے۔ جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خلیفہ اول تھے۔‘‘

(الشریعۃ للآجری: جلد 5 صفحہ 2393)

رافضیوں کے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر شدت طعن و تشنیع کی اصل وجہ یہ ہے کہ انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دین کا بیشتر حصہ سیکھا اور اللہ تعالیٰ نے ان کی عمر میں برکت ڈالی کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد تقریباً پچاس سال تک لوگوں کو مسلسل دین سکھلاتی رہیں۔ لوگوں نے ان سے بکثرت دین سیکھا اور ان سے خوب فائدہ اٹھایا۔

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ لکھتے ہیں

’’سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بے شمار فرامین یاد کر لیے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد وہ تقریباً پچاس برس تک زندہ رہیں۔ کثرت سے لوگوں نے ان سے علم حاصل کیا اور ان سے روایت کرتے ہوئے اسلام کے بے شمار آداب و احکام لوگوں تک پہنچائے۔ حتیٰ کہ کہا جانے لگا کہ چوتھائی احکام شریعت سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے منقول ہیں۔‘‘

(فتح الباری لابن حجر: جلد 7 صفحہ 107۔)