سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر جھوٹے الزامات کی تفصیل - دفاعِ…

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر جھوٹے الزامات کی تفصیل

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 3

یزید بن ہارون (یزید بن ہارون بن زاذی یا ابن زاذان ابو خالد واسطی، شیخ الاسلام، حافظ حدیث، علم و عمل میں ایک روشن ستارہ، عبادت گزار، عظیم الشان مجاہد، امر بالمعروف و نہی عن المنکر پر عمل کرنے والے۔ 118 ہجری میں پیدا ہوئے اور 206 ہجری میں وفات پائی۔ (سیر اعلام النبلاء للذہبی: جلد 9 صفحہ 358۔ تہذیب التہذیب: لابن حجر: جلد 6 صفحہ 220) رحمہ اللہ فرماتے ہیں: 

’’جو بدعتی بدعت کی طرف دعوت نہ دے اس سے حدیث لی جا سکتی ہے سوائے رافضی کے کیونکہ وہ جھوٹ بولتے ہیں۔‘‘

(منہاج السنۃ النبویۃ لابن تیمیۃ: جلد 1 صفحہ 60)

محمد بن سعید اصبہانی (محمد بن سعید ابو جعفر حمدان اصبہانی کوفی امام بخاری رحمہ اللہ کے استاد تھے۔ حافظ حدیث تھے زبانی احادیث سنایا کرتے تھے۔ یہ تلقین ’’مصطلح الحدیث‘‘ یعنی کسی دوسرے کی سنائی ہوئی حدیث قبول نہیں کرتے تھے اور نہ ہی لوگوں کی کتابوں سے حدیث پڑھتے تھے۔ 220 ہجری میں وفات پائی۔ (رجال صحیح البخاری للکلاباذی: جلد 2 صفحہ 652۔ الکاشف للذہبی: جلد 2 صفحہ 175) رحمہ اللہ فرماتے ہیں

’’میں نے شریک رحمہ اللہ کو کہتے ہوئے سنا تو جس سے بھی ملاقات کرے اس سے علم حاصل کر لے، لیکن رافضی (شیعوں ) سے نہیں، کیونکہ وہ احادیث وضع کرتے ہیں اور اسے دین بنا لیتے ہیں۔‘‘

(منہاج السنۃ النبویۃ: جلد 1 صفحہ 59)

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں

’’اسناد، روایت اور احادیث لکھنے والوں کا اتفاق ہے کہ رافضی سب سے جھوٹا گروہ ہے اور قدیم زمانے سے ان میں جھوٹ مروج ہے اور اسی لیے ائمہ مسلمین انھیں بکثرت جھوٹ بولنے کی وجہ سے پہچان لیتے ہیں۔‘‘

(المصدر السابق: جلد 1 صفحہ 259)

رافضہ کے جھوٹ اتنے مشہور ہیں کہ ان کے تذکرے کی حاجت نہیں اور انھیں شمار نہیں کیا جا سکتا۔ ذیل میں ہم ان کے کچھ ہذیانات درج کر رہے ہیں جو انھوں نے ہر زمانے میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے متعلق اپنی کتابوں میں درج کیے۔ ان کے جھوٹے اور پر فریب ہاتھوں نے جو اتہامات اور بہتان تراشے ہیں ہم اپنے آپ کو ان سے بری الذمہ ثابت کرنے کے لیے درج کر رہے ہیں، نیز حق کو واضح کرنے کے لیے بھی ایسا کیے بغیر چارہ نہ تھا اور ہم جیسوں کے لیے اس مقام پر علامہ حافظ جلال الدین سیوطی رحمہ اللہ کا قول مضبوط سہارا ہے۔ وہ اپنی کتاب ’’مفتاح الجنۃ‘‘ کے شروع میں غالی رافضیوں (شیعوں) کے ایک گروہ کی آراء لکھتے ہوئے یہ عذر پیش کرتے ہیں:

’’میں ان آراء کو حکایتاً بیان کرنا بھی حلال نہیں سمجھتا، اگر مجھے یہ آراء نقل کرنے کی ضرورت پیش نہ آتی۔ وہ یہ ہے کہ میں اس فاسد مذہب کی حقیقت اور بنیاد واضح کر سکوں تاکہ متعدد زمانوں کے لوگ ان کے پھیلائے ہوئے شر و فساد سے راحت حاصل کر لیں۔‘‘

(مفتاح الجنۃ فی الاحتجاج بالسنۃ للسیوطی: صفحہ 6)

یہ ظالم گروہ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے متعلق کس قدر شدید بغض و کینہ رکھتے ہیں اس کی واضح مثالوں سے ان کی کتابیں بھری پڑی ہیں۔ وہ نہ صرف ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے فضائل کا انکار کرتے ہیں بلکہ جو ان کے طبعی اور قطعی اوصاف ہیں اور متواتر روایات سے ثابت ہیں ان سے بھی کھلم کھلا انکار کرتے ہیں۔ اس کی یہ ایک مثال مرتضیٰ عسکری (مرتضیٰ بن محمد اسماعیل بن محمد شریف عسکری۔ 1332 ہجری سامراء شہر میں پیدا ہوا اور وہاں کے تعلیمی اداروں میں اپنی تعلیم مکمل کی۔ پھر ایران کے مشہور علمی شہر ’’قم‘‘ کی طرف اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے 1349 ہجری میں گیا۔ پھر کاظمیہ چلا گیا اور وہاں مستقل سکونت اختیار کر لی۔ اس کی مشہور تصنیفات میں سے ’’احادیث ام المومنین عائشۃ‘‘ اور ’’القرآن الکریم و روایات المدرستین‘‘ ہیں۔ یہ تہران میں 1428 ہجری میں فوت ہوا) کی غلیظ اور ناپاک بات ہے:

’’وہ (سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دوسری لونڈیوں کی طرح ایک لونڈی تھی۔‘‘

(حدیث الافک لجعفر مرتضی حسینی: صفحہ 17)

مسلمانوں کو اس کی ان بیہودہ اور شیطانی تحریروں پر کوئی تعجب نہیں کرنا چاہیے کہ وہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر سب و شتم اور ان کی ہر فضیلت کا انکاری ہے اور نہ ہی اس کی اس فضول حرکت پر تعجب کرنے کی ضرورت ہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے منسوب کر کے یہ جھوٹی اور من گھڑت روایت لکھتا ہے کہ ابن عباس نے ان (سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا) کو مخاطب کر کے کہا: تو ان نو لونڈیوں کی طرح ایک لونڈی ہے (حشایاکا واحد حشیہ ہے یہ اس خادمہ کو کہا جاتا ہے جو اندرون خانہ کام کرتی ہو۔ (مختار الصحاح للرازی: صفحہ 138 جنھیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے پیچھے چھوڑا۔ تو ان سب سے سفید رنگت والی نہیں اور نہ ہی تیرا چہرہ ان سب سے حسین ہے اور نہ ہی تیرا پسینہ ان سب کے پسینوں سے زیادہ خوشبودار ہے اور نہ ہی ان سب کی پشتوں سے تیری پشت زیادہ بارونق ہے اور نہ ہی تو ان سب سے عالی نسب ہے۔

(بحار الانوار للمجلسی: جلد 32 صفحہ 270۔ معرفۃ اخبار الرجال للکشی: صفحہ 80)

لہٰذا ایسے جھوٹ صرف وہی لکھ اور بول سکتا ہے جس کا دل نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اہل بیت یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج سے بغض، کینہ اور نفرت سے لبریز ہو۔ ایسے شخص کے لیے جھوٹ بولنا نہایت آسان ہوتا ہے اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی جھوٹے افسانوں کی نسبت کرنا تاکہ صدیقہ بنت صدیق رضی اللہ عنہما میں عیب جوئی کی جا سکے کوئی وزن نہیں رکھتا۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے انھیں ان ظالموں کے بہتانوں سے بری الذمہ قرار دیا ہے۔

امام آجری رحمہ اللہ نے لکھا ہے:

صفحہ 2 از 3