سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر جھوٹے الزامات کی تفصیل - دفاعِ…

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر جھوٹے الزامات کی تفصیل

  علی محمد الصلابی

صفحہ 3 از 3

’’ایک آدمی نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا، آپ میری ماں نہیں۔ آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ’’تو نے سچ کہا، میں ام المؤمنین ہوں ام المنافقین نہیں۔‘‘ مجھے یہ خبر متقدمین فقہاء میں سے کسی کی نسبت پہنچی ہے کہ ان سے ان دو آدمیوں کے بارے میں پوچھا گیا جنھوں نے طلاق کے ساتھ قسم کھائی۔ ایک نے قسم کھائی کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اس کی ماں ہے اور دوسرے نے قسم کھائی کہ وہ اس کی ماں نہیں۔ اس فقیہ نے کہا: دونوں پر کفارہ نہیں۔ اس سے پوچھا گیا، یہ کس طرح ممکن ہے؟ ان دونوں میں سے ایک پر تو ضرور قسم کا کفارہ ہو گا۔ فقیہ نے کہا: ’’جس نے قسم کھائی کہ وہ اس کی ماں ہیں تو وہ اپنی بات میں درست ہے کیونکہ وہ مومن ہے اس لیے اپنی قسم میں سچا ہے اور جس نے قسم کھائی کہ وہ اس کی ماں نہیں چونکہ وہ منافق ہے اس لیے وہ اپنی قسم میں سچا ہے۔‘‘

محمد بن حسین رحمہ اللہ فرماتے ہیں

’’ہم ان لوگوں سے اللہ کی پناہ چاہتے ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبوب بیوی ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا پر عیب جوئی کرتا ہے، جو پاک ہیں، بری ہیں، صدیقہ بنت صدیق رضی اللہ عنہما ہیں۔ ام المؤمنینؓ ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان سے اور ان کے والد محترم پر خوش ہے۔ جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خلیفہ اول تھے۔‘‘

(الشریعۃ للآجری: جلد 5 صفحہ 2393)

رافضیوں کے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر شدت طعن و تشنیع کی اصل وجہ یہ ہے کہ انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دین کا بیشتر حصہ سیکھا اور اللہ تعالیٰ نے ان کی عمر میں برکت ڈالی کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد تقریباً پچاس سال تک لوگوں کو مسلسل دین سکھلاتی رہیں۔ لوگوں نے ان سے بکثرت دین سیکھا اور ان سے خوب فائدہ اٹھایا۔

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ لکھتے ہیں

’’سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بے شمار فرامین یاد کر لیے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد وہ تقریباً پچاس برس تک زندہ رہیں۔ کثرت سے لوگوں نے ان سے علم حاصل کیا اور ان سے روایت کرتے ہوئے اسلام کے بے شمار آداب و احکام لوگوں تک پہنچائے۔ حتیٰ کہ کہا جانے لگا کہ چوتھائی احکام شریعت سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے منقول ہیں۔‘‘

(فتح الباری لابن حجر: جلد 7 صفحہ 107۔)


صفحہ 3 از 3