تیری رحمت ہے تو کمی کیا ہے
سرفراز حسین فرازپاک حمد
راحت دل ہی کیا خوشی کیا ہے
تیری رحمت ہے تو کمی کیا ہے
کوئی در بھی نہیں تیرے در سا
اب کسی در پر حاضری کیا ہے
تیری حکمت کے سا منے مولا
درد دل کیا ہے بے کلی کیا ہے
تیرے مستوں کے سامنے یا رب
کوئی مسند یا سروری کیا ہے
تیری قدرت سے ہے چمک اس میں
ور نہ جگنو کی ذات ہی کیا ہے
نور تیرا نہ ہو اگر ان میں
ان ستاروں کی روشنی کیا ہے
شعر تیری عطا سے ہوتے ہیں
ورنہ میری یہ شاعری کیا ہے
ہر نوازش فراز ہے رب کی
آپ کی کارکردگی کیا ہے