معاویہ (رضی اللہ عنہ) نے حکومت جبری لی تھی، معاویہ (رضی اللہ عنہ) نے حکم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مخالفت کرتے ہوئے ایک ولدالزنا کو اپنا بھائی بنا لیا (مسلمانوں کا عروج و زوال، الکوکب الدُرِی)
مولانا ابوالحسن ہزاروی1: ۔معاویہ (رضی اللہ عنہ) نے حکومت جبری لی تھی۔
2: ۔معاویہ (رضی اللہ عنہ) نے حکم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مخالفت کرتے ہوئے ایک ولدالزنا کو اپنا بھائی بنا لیا
(مسلمانوں کا عروج و زوال، الکوکب الدُرِی)
الجواب اہلسنّت
اس جگہ دو اعتراض زیر بحث ہیں:
1: امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے حکومت جبراً حاصل کی حالانکہ یہ اعتراض شیعہ لوگوں کا گھڑا ہوا بے اصل ہے۔ حضرت مولانا محمد نافع رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
ناظرین کرام کو معلوم ہونا چاہیے کہ جس طرح امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے محاسن کو نظر انداز کرتے ہوئے معائب اور مطاعن کے متعلق بہت کچھ پروپیگنڈا کیا جاتا ہے یہ طعن اور اعتراض بھی اسی درجہ کا ہے سیرت امیر معاویہ ج 2 ص 240
2: مذکورہ کتاب کوئی مستند کتاب نہیں کہ جس کی ہر بات پر آنکھیں بند کرکے بلا تحقیق مان لی جائیں بلکہ انگریزی اداروں کے سرکاری ملازموں کی یہ تحریر اور کاشت شدہ فصل ہے یہاں اس موضوع پر دعویٰ تو کیا گیا کہ حکومت جبراً لی ہے مگر نہ تو اس کی دلیل پیش کی گئی اور نہ ہی اس دعویٰ کی کوئی سند ذکر کی گئی جس سے ارباب علم بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ یہ دعویٰ کس قدر مکڑی کا جالا اور بے قیمت شے ہے
دوسرا اعتراض یہ کہ حکم رسول اللہﷺ کی مخالفت کرتے ہوئے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے ایک ولدالزنا کو اپنا بھائی بنایا۔
1: ہم جواب عرض کرتے ہیں کہ شیعہ لوگوں نے ایک جھوٹ تو یہ بولا کہ مذکورہ شخص ولدالزنا ہے حالانکہ اس پورے صفحے پر کہیں یہ نہیں لکھا ہوا کہ یہ شخص ولدالزنا ہے۔
2: یہ واقعہ بلا سند ذکر کیا گیا ہے
3: یہ واقعہ مختصراً اس طرح ہے کہ زمانہ جاہلیت میں اپنی ضرورت کے لئے حضرت ابو سفیان رضی اللہ عنہ طائف جایا کرتے تھے چنانچہ اُنہوں نے وہاں کے رسم و رواج کے مطابق سمیہ نامی ایک عورت سے نکاح کرلیا جس کے پیٹ سے زیاد بن سمیہ پیدا ہوا سمیہ نے دعویٰ کیا کہ یہ بیٹا ابو سفیان رضی اللہ عنہ کا ہے اور ابو سفیان رضی اللہ عنہ نے اقرار کر لیا کہ یہ میرے اس سے نکاح کرنے کی بنا پر پیدا ہوا ہے مگر چونکہ یہ نسب مشہور اور معروف نہ تھا اس لئے بہت ہی کم لوگ اس بات سے واقف تھے کہ یہ زیاد حضرت ابوسفیان رضی اللہ عنہ کی اولاد ہے یہ واقعہ مشہور مورخ ابن خلدون نے اپنی تصنیف تاریخ العلامہ ابن خلدون میں اس کا ذکر کیا ہے۔
(تاریخ علامہ ابن خلدون جلد 3 صفحہ 14 تحت استخلاف زیاد طبع بیروت باحوالہ سیرت معاویہ جلد 2 صفحہ 221)
اس نسبی تعلق اور زیاد کے ابن ابو سفیان ہونے پر کافی لوگوں نے گواہی پیش کی ہیں چناچہ الاصابہ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ نے جلد 1 صفحہ 563 پر ان حضرات کے نام شمار کئے ہیں جنہوں نے زیاد کے ابن ابوسفیان رضی اللہ عنہ ہونے پر شہادتیں دی تھیں ان میں کچھ حضرات کے نام درج ذیل ہیں
زیاد بن اسماء حرمازی، مالک ابن ربیع سلومی ، منذر بن زبیر، جویریہ بنت ابو سفیان، مسور بن قدامہ الباہلی، زید ابن ثقیل ازدی شعبہ بن علقمۃ باذنی، عمرو ابن شیبان وغیرہ۔
ابن خلدون کے علاوہ ابن جریر طبری نے بھی اس واقعہ کو وضاحتاً نقل کیا ہے ان وجوہات کی بنا پر زیاد کی نسبت ابوسفیان رضی اللہ عنہ کی طرف کی گئی ہے لہذا اس بنا پر امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو الزام دینا محض ہٹ دھرمی ہے۔