Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

بہتان کے متعلق اہل تشیع کے نظریات احادیث وضع کرنا

  علی محمد الصلابی

 البرہان فی تفسیر القرآن لہاشم البحرانی (ہاشم بن سلیمان بن اسماعیل البحرانی امامیہ فرقہ کا مشہور مفسر ہے۔ اس کی تصنیفات میں سے ’’الدر النضید فی فضائل حسن الشہید‘‘ اور ’’البرہان فی تفسیر القرآن‘‘ ہیں۔ 1107 ہجری میں فوت ہوا۔ (الاعلام للزرکلی: جلد 8 صفحہ 66) جلد 14 صفحہ 67، 68 اوربحار الانوار للمجلسی: جلد 22 صفحہ 2101۔ میں اللہ تعالیٰ کے اس فرمان:

يٰۤاَيُّهَا النَّبِىُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَاۤ اَحَلَّ اللّٰهُ لَـكَ‌ تَبۡتَغِىۡ مَرۡضَاتَ اَزۡوَاجِكَ‌ وَاللّٰهُ غَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ ۞ قَدۡ فَرَضَ اللّٰهُ لَـكُمۡ تَحِلَّةَ اَيۡمَانِكُمۡ‌ وَاللّٰهُ مَوۡلٰٮكُمۡ‌ وَهُوَ الۡعَلِيۡمُ الۡحَكِيۡمُ‏ ۞ وَاِذۡ اَسَرَّ النَّبِىُّ اِلٰى بَعۡضِ اَزۡوَاجِهٖ حَدِيۡثًا‌ فَلَمَّا نَـبَّاَتۡ بِهٖ وَاَظۡهَرَهُ اللّٰهُ عَلَيۡهِ عَرَّفَ بَعۡضَهٗ وَاَعۡرَضَ عَنۡ بَعۡضٍ‌ فَلَمَّا نَـبَّاَهَا بِهٖ قَالَتۡ مَنۡ اَنۡۢبَاَكَ هٰذَا‌ قَالَ نَـبَّاَنِىَ الۡعَلِيۡمُ الۡخَبِیْرُ‏ ۞ (سورۃ التحريم آیت 1،2،3)

ترجمہ: اے نبی! جو چیز اللہ نے تمہارے لیے حلال کی ہے، تم اپنی بیویوں کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے اسے کیوں حرام کرتے ہو؟ اور اللہ بہت بخشنے والا، بہت مہربان ہے۔ اللہ نے تمہاری قسموں سے نکلنے کا طریقہ مقرر کردیا ہے، اور اللہ تمہارا کارساز ہے اور وہی ہے جس کا علم بھی کامل ہے، حکمت بھی کامل۔اور یاد کرو جب نبی نے اپنی کسی بیوی سے راز کے طور پر ایک بات کہی تھی۔ پھر جب اس بیوی نے وہ بات کسی اور کو بتلا دی، اور اللہ نے یہ بات نبی پر ظاہر کردی تو اس نے اس کا کچھ حصہ جتلا دیا اور کچھ حصے کو ٹال گئے۔ پھر جب انہوں نے اس بیوی کو وہ بات جتلائی تو وہ کہنے لگیں کہ: آپ کو یہ بات کس نے بتائی؟ نبی نے کہا کہ: مجھے اس نے بتائی جو بڑے علم والا، بہت باخبر ہے۔

 کے ضمن میں علی بن ابراہیم قمی (علی بن ابراہیم ابو الحسن محمدی قمی متعصب شیعہ ہے۔ اس کی تفسیر لغویات و فتنوں سے لبریز ہے۔ ابو جعفر طوسی نے اسے فرقہ امامیہ کے مصنفین میں شمار کیا ہے۔ اس کی تصنیفات ’’التفسیر‘‘ اور ’’الناسخ والمنسوخ‘‘ ہیں۔ (لسان المیزان لابن حجر: جلد 4 صفحہ 191۔ معجم الادباء لیاقوت الحموی: جلد 4 صفحہ 1641) نے لکھا ہے: 

’’ان آیات کا سبب نزول یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی کسی بیوی کے گھر میں تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کے لیے ماریہ قبطیہ (ماریہ بنت شمعون قبطیہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ام ولد تھیں۔ اسکندریہ اور مصر کے بادشاہ مقوقس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ تحفہ میں دی۔ 16 ہجری میں فوت ہوئیں۔ (الاستیعاب لابن عبدالبر: جلد 2 صفحہ 119۔ الاصابۃ لابن حجر: جلد 8 صفحہ 112۔) آپ کے ساتھ تھیں۔ ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم حفصہ کے گھر میں تھے۔ حفصہ اپنے کام کے لیے گھر سے باہر گئیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ماریہ کے ساتھ ہم بستری کی۔ جب حفصہ کو معلوم ہوا تو وہ سخت طیش میں آ گئیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب یہ کہتے ہوئی بڑھیں: اے رسول اللہ! میری باری کے دن، میرے گھر میں اور میرے بستر پر یہ کام سر انجام دیا گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی بات سن کر شرمندگی محسوس کی اور فرمایا: تو یہ رونا دھونا بند کر دے۔ میں ماریہ کو اپنے اوپر حرام کرتا ہوں اور آج کے بعد اس سے کبھی جماع نہیں کروں گا اور میں تم سے ایک راز کی بات کہتا ہوں اگر تو نے یہ افشا کیا تو تجھ پر اللہ اور فرشتوں اور سب لوگوں کی لعنت ہو۔ اس نے کہا: مجھے منظور ہے۔ وہ راز کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے بعد ابوبکر خلیفہ ہو گا۔ پھر اس کے بعد تیرا باپ عمر خلیفہ ہو گا۔ اس نے کہا: آپ کو یہ کس نے بتایا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے مجھے یہ بات بتائی۔ جب عائشہ کا دن آیا تو حفصہ نے اسے یہ بات بتا دی اور عائشہ رضی اللہ عنہا نے ابوبکر کو یہ بات بتا دی۔ ابوبکر عمر کے پاس آیا اور کہا بے شک عائشہ نے حفصہ سے یہ بات منسوب کی ہے، لیکن مجھے اس کی بات پر یقین نہیں، تو تو حفصہ سے پوچھ لے۔ عمر حفصہ کے پاس آیا اور اس سے پوچھا عائشہ تیری طرف سے کیا بات بتا رہی ہے؟ حفصہ نے اس سے انکار کیا اور کہہ دیا: میں نے تو اس سے کوئی بات نہیں کی۔ عمر اس سے کہنے لگا: اگر یہ سچ ہے تو تو ہمیں بتا دے تاکہ ہم آگے بڑھیں۔ تو یہ چاروں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو زہر پلانے کے لیے اکٹھے ہوئے تب جبریل علیہ السلام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس یہ سورت لے کر آیا۔‘‘

مصنف مذکور لکھتا ہے:

’’بے شک اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے مباح کر دیا ہے کہ اپنی قسم کا کفارہ دیں۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

وَاللّٰهُ مَوۡلٰٮكُمۡ‌ وَهُوَ الۡعَلِيۡمُ الۡحَكِيۡمُ‏ ۞وَاِذۡ اَسَرَّ النَّبِىُّ اِلٰى بَعۡضِ اَزۡوَاجِهٖ حَدِيۡثًا‌ فَلَمَّا نَـبَّاَتۡ بِهٖ۞ (سورۃ التحريم آیت2، 3)

’’اور اللہ تمہارا مالک ہے اور وہی سب کچھ جاننے والا، کمال حکمت والا ہے۔ اور جب نبی نے اپنی کسی بیوی سے پوشیدہ طور پر کوئی بات کہی، پھر جب اس (بیوی) نے اس بات کی خبر دے دی۔‘‘

مصنف مذکور لکھتا ہے:

’’یعنی اس (بیوی) نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا: وَاَظۡهَرَهُ اللّٰهُ عَلَيۡهِ یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو وہ سب کچھ بتا دیا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی مذکورہ نے راز افشا کیا تھا اور جو کچھ انھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قتل کی سازش کی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: عَرَّفَ بَعْضَهُ  یعنی آپ نے اپنی اس بیوی کو پوری بات بتا دی اور فرمایا: جو راز میں نے تجھے دیا تھا تو نے وہ افشا کیوں کیا؟

دونوں مذکورہ کتابوں میں دوسرے مقام پر لکھا ہوا ہے:

’’ عبدالصمد بن بشیر نے ابو عبداللہ علیہ السلام سے روایت کی کہ کیا تم جانتے ہو نبی صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہوئے یا قتل کیے گئے؟ بے شک اللہ تعالیٰ کہتا ہے: 

اَفَا۟ئِنْ مَّاتَ اَوۡ قُتِلَ انْقَلَبۡتُمۡ عَلٰٓى اَعۡقَابِكُمۡ‌ ۞ (سورۃ آل عمران آیت 144)

ترجمہ: بھلا اگر ان کا انتقال ہوجائے یا انہیں قتل کردیا جائے تو کیا تم الٹے پاؤں پھر جاؤ گے؟ 

چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مرنے سے پہلے زہر دیا گیا بے شک ان دونوں (عائشہ و حفصہ رضی اللہ عنہا مراد ہیں) نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو زہر پلایا۔ لہٰذا ہم کہتے ہیں بے شک دونوں عورتیں اور ان دونوں کے باپ اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں سے بدترین ہیں۔‘‘

(البرہان فی تفسیر القرآن لہاشم البحرانی: جلد 3 صفحہ 31۔ بحار الانوار للمجلسی: جلد 22 صفحہ 213)

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی وفات کی خوشی مناتے ہوئے ایک احمق معاصر اپنے اسلاف سے نقل کرتے ہوئے لکھتا ہے: ’’میں کیا کہوں اور کیا کچھ شمار کروں اور کس کس کا تذکرہ کروں؟ کیا میں یہ بتاؤں کہ اس (عائشہ رضی اللہ عنہا ) نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو زہر پلا کر قتل کر ڈالا؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: 

اَتَوَاصَوۡا بِهٖ‌ بَلۡ هُمۡ قَوۡمٌ طَاغُوۡنَ‌۞ (سورۃ الذاريات آیت 53)

ترجمہ: کیا یہ ایک دوسرے کو اس بات کی وصیت کرتے چلے آئے ہیں؟ نہیں، بلکہ یہ سرکش لوگ ہیں۔